سوال
عرض یہ ہے کہ 1996ءمیں میں نےایک مکان اپنے ذاتی پیسوں سے ماڈل کالونی میں ایک خریدا،جو کہ میرے ہی نام پر ہے ،اس وقت میرے والدین اور بہن بھائی سب ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے،بعد ازاں وہ بھی میرے ساتھ رہنے لگے ۔
ہماری ایک بہن کا نکاح 1979ء میں ہو ا ،وہ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد واپس میرے پاس آکے رہنے لگی ،اسی طرح ایک بہن کا نکاح 2003ءمیں ہوا اور وہ 2014ءسےاپنے شوہر کے ساتھ آکر ہمارے گھر میں رہنے لگی اور ایک بھائی اسی گھر میں میرے ساتھ رہتے ہیں ۔
اب یہ سارے لوگ مل کر مکان کے کاغذات چوری کر کے اس میں شراکت کا مطالبہ کر رہے ہیں ،اور ان کا یہ دعوی ہے کہ یہ والد صاحب کا گھر ہےاور اس پر ان کے پاس کو ئی دلیل نہیں ہے ،جب کہ اس میں والد صاحب کا کو ئی پیسہ نہیں لگا ،میں نے اپنے محنت مزدوری سے اسے بنا یا اور بجلی و گیس کے کاغذات میرے ہی نام پر ہیں ۔
آپ جناب سے عرض ہے کہ اس مسئلہ کو ئی حل بتائیں کہ ان کا کو ئی حق بنتا ہے اس گھر میں ؟
سائل:مسعودالقدیر،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مفتی کا کام تحقیق و تفتیش کرنا نہیں بلکہ بیان کردہ صورت کے مطابق حکم شرع بتا نا ہے لہذا اگر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے بیان کیا کہ وہ گھر خالصتا آپ کا ہے، اس میں کسی تیسرے فرد کا کو ئی حصہ نہیں ہےتو وہ آپ کے والد صاحب کی وراثت میں شامل نہیں ہو گا لہذاا ٓپ کے بھائی اور بہنوں کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔کیوں ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی جس میں بندہ اپنے اختیار اور اپنے فعل کے ذریعے کسی چیز کا مالک بنتا ہے۔جیسےبیع(خرید وفروخت)،ھبہ (گفٹ) اور وصیت کے ذریعے ۔ دوسرااضطراری یعنی جس میں انسان اپنے فعل اور اختیار کے بغیر کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسے وراثت کے ذریعے ۔
اور آپ کے بھائیوں اور بہنوں کے حق میں نہ ملکیت اخیاری ثابت نہ ہی ملکیت اضطراری ،لہذا وہ مکان آپ ہی کا ہےاگر آپ چاہیں تواپنے بہن ،بھایئوں کواس میں سے حصہ دیں ،اوراس میںآپ کے لیئےدہرا ثواب ہے یعنی صدقہ کا اور صلہ رحمی کا ،اور اگر چاہیں تو کچھ نہ دیں آپ کے اوپر کوئی جبر نہیں ہے۔
کتاب التعریفات للجرجانی(باب التاء،ص:۶۴۔طبع:قدیمی کتب خانہ)میں ہے"الترکۃماترک الانسان صافیا خا لیاعن حق الغیرو،وترکۃ المیت متروکہ"ترجمہ:ہر وہ چیز جس کو انسان (میت چھوڑ دےاور وہ کسی دوسرے کے حق سے خالی ہو ،اور میت کا ترکہ اسکا چھوڑا ہو امال ہے۔
البنایہ شرح الہدایہ( البیع عند اذان الجمعہ،ج:۸،ص:۲۱۶،طبع:دارالکتب العلمیۃ)میں ہے‘‘وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء’’ترجمہ:ملکیت کے اسباب ،ھبہ اور وصیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23جمادی اولی 1440 ھ/30جنوری 2019ء