باب کی جائیداد پر اس کی زندگی میں بیٹے کا کوئی حق نہیں
    تاریخ: 1 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 315

    سوال

    میری شادی کو 15 سال ہو گئے ہیں ،میں اپنے سسرال میں رہتی تھی جہاں ایک کمرے میں ہم اور ایک کمرے میں میرا دیور رہتا تھا ، کچھ عرصہ پہلے لڑائی جھگڑے بہت بڑھ گئے تھے ،میری دیورانی رات کو چولہے پر کوئلے جلاتی تھی جس کی وجہ سے مجھے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی ۔اس حوالے سے مجھے کسی مولانا نے گھر چھوڑ نے کا کہا تو میں (بشری)نے اپنے شوہر سے ضد کی اور ہم دوسرے گھر میں چلے گئے ۔

    اب نئے گھر میں تیسرا سال ہے اور واپس گھبراہٹ ہوتی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ میں واپس اپنے سسرال چلی جاؤں لیکن ہمارا وہ کمرہ میرے دیور نےلے لیا ہے جبکہ وہ کمرے میرے سسر کے ہیں اور میں واپس جانے پربضد میں ہوں لیکن میرے سسر مانتے ہی نہیں! اب مجھے کیاکرنا چاہیئے ،آپ رہنمائی فرمائیں ۔

    سائلہ: بشری ،کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ کے سسر جب تک حیات ہیں تو ان کی تمام جائیداد، دیگر سامان وغیرہ سب ان ہی کی ملکیت میں ہیں اور وہ جس طرح چاہیے اپنی ملکیت میں تصرف(کسی قسم کا لین دین ) کر سکتا ہے ،اورجب تک آ پ ان کے گھر میں رہتی تھی تو وہ کمرہ آپ کے پاس عاریتا (بغیر کچھ لیئے ،فری میں )تھا تو جس طرح وہاں رہتےہوئے وہ کمرہ آپ کا نہیں تھا اسی طرح اب بھی اس میں آپ کاکوئی حق نہیں ہےالبتہ آپ کے سسر اپنے بیٹے (آپ کے شوہر )کو دوبارہ رہنے اجازت دےدیں،یا وہ کمرہ وغیرہ گفٹ کرکے قبضہ بھی دیں تو یہ آپ کی ملکیت میں آجائے گا اور ان کی طرف سے صلہ رحمی اور دہرا ثواب ہوگا ۔البتہ آپ کے شوہر اگر ان کی وصال تک بقید حیات رہے تو بطو ر بیٹا وراثت میں اپنے شرعی حصے کے مطابق مستحق ہو نگے ۔

    البحر الرائق (کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)میں ہے

    "يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ"ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے اور اگر سارا مال ایک اولاد کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔

    کتاب التعریفات للجرجانی(باب التاء،ص:۶۴۔طبع:قدیمی کتب خانہ)میں ہے

    "الترکۃماترک الانسان صافیا خا لیاعن حق الغیرو،وترکۃ المیت متروکۃ" ترجمہ:ہر وہ چیز جس کو انسان (میت )چھوڑ دےاور وہ کسی دوسرے کے حق سے خالی ہو ،اور میت کا ترکہ اسکا چھوڑا ہو امال ہے ۔

    السراجی فی المیراث :8 تا 11میں ہے:"تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ :الاول یبدء بتکفینہ وتجہیزہ ۔۔۔ثم تقضی دیونہ من جمیع مالہ ،ثم تنفذ وصایاہ من مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ فیبدء باصحاب الفرائض ۔۔۔۔ثم بالعصبات من جہۃ النسب ۔۔ ثم بالعصبات من جہۃ السبب ۔۔۔ثم عصبتہ علی الترتیب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ترجمہ :چار طرح کے حقوق ترتیب وار میت کے ترکہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔

    الاول:تجہیز وتکفین سے متعلقہ خرچہ جات۔

    الثانی:مکمل مال سے قرضوں کی ادائیگی ۔

    الثالث:باقی ماندہ کے ثلث سے وصیتوں کا نفاذ ۔

    الرابع :بقیہ پورا مال ورثاء کے درمیان ان کے حقوق کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تو سب سے پہلے اصحاب فرائض کو پھر نسبی عصبات کو پھر عصبات سببیہ کو پھر ترتیب وار ان کے عصبات کو دیا جائے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10صفر المظفر 1439 ھ/20اکتوبر 2018ء