سوال
میں اور میری بیوی کی آپس میں لڑائی ہورہی تھی تو میں نے غصے میں کہا کہ ’’تو اپنا سارا سامان سمیٹ لے میری طرف سے تو فارغ ہے ابھی تیرا بھائی آئے گا اس کے ساتھ اپنے گھر چلے جانا‘‘۔یہ بات میرے اور میری بیوی کے درمیان ہوئی اور پھر تھوڑی دیر بعد میں نے بچوں کے سامنے کہا کہ ’’میں اپنے ہوش و حواس میں تم کو طلاق دیتا ہوں‘‘ ایک دفع کہا اور پھر وہ اپنے بھائی کے ساتھ چلی گئی تو کیا دو طلاق ہوگئی اور اب اگر ہم دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو ہمیں کیا کرنا ہوگا؟رہنمائی فرمادیں،شکریہ۔
سائل:نوشاد(شوہر)،کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سائل کے بیان کے مطابق اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی گئی لہذادو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور شوہر کو عدت سے پہلے پہلے رجوع کرنے کا اختیار ہے۔اور اب میاں بیوی دونوں کو بہت احتیاط سے رہنا ہوگا کہ اب شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہو گا خدانخواستہ اگر زندگی میں کبھی بھی ایک طلاق دے دی تو حرمت مغلظہ کے ساتھ بیوی اس شوہر پرحرام ہو جائے گی اورتحلیلِ شرعی کے علاوہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
نیز شوہر کا کہناکہ ’’میری طرف سے تو فارغ ہے‘‘ ملحق بالصریح ہےاور ’’ میں تم کو طلاق دیتا ہوں‘‘ یہ صریح الفاظِ طلاق ہیں۔لہذا دو طلاقِ رجعی واقع ہوئیں اورطلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو عورت کی عدت یعنی تین مرتبہ مخصوص ایام گزرنے سے پہلے پہلے رجوع کرنے کا اختیار ہے۔اور رجوع کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ شوہر گواہوں کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی بیوی کونکاح میں واپس کیا ،البتہ اگر اپنی بیوی کو شہوت سے چھولے یا اس سے ازدواجی تعلق قائم کرلے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔
دلائل و جزئیات:
طلاقِ رجعی میں عدت کے اندر رجوع کے متعلق اللہ عزوجل فرماتا ہے : وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوۡۤا اِصْلَاحًا. ترجمہ:’’اور ان کے شوہروں کو اس(عدت کی) مدت کے اندر ان کے پھیر لینے (رجوع کرنے)کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں ۔ (البقرۃ : 228)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے : "وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً رَجْعِيَّةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ فَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا فِي عِدَّتِهَا رَضِيَتْ بِذَلِكَ أَوْ لَمْ تَرْضَ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ".ترجمہ: جب مرد نے اپنی عورت کو ایک یا دوطلاق رجعی دی تو عدت کے اندر عورت سے رجوع کر سکتا ہے خواہ عورت راضی ہو یانہ ہو اسی طرح ہدایہ میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ،1/470،دار الفکر بیروت)
اوراسی میں رجعت کا طریقہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ: "الرَّجْعَةُ إبْقَاءُ النِّكَاحِ عَلَى مَا كَانَ مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ كَذَا فِي التَّبْيِينِ وَهِيَ عَلَى ضَرْبَيْنِ: سُنِّيٌّ وَبِدْعِيٌّ (فَالسُّنِّيُّ) أَنْ يُرَاجِعَهَا بِالْقَوْلِ وَيُشْهِدَ عَلَى رَجْعَتِهَا شَاهِدَيْنِ وَيُعْلِمَهَا بِذَلِكَ فَإِذَا رَاجَعَهَا بِالْقَوْلِ نَحْوُ أَنْ يَقُولَ لَهَا: رَاجَعْتُك أَوْ رَاجَعْتُ امْرَأَتِي وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى ذَلِكَ أَوْ أَشْهَدَ وَلَمْ يُعْلِمْهَا بِذَلِكَ فَهُوَ بِدْعِيٌّ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ وَالرَّجْعَةُ صَحِيحَةٌ وَإِنْ رَاجَعَهَا بِالْفِعْلِ مِثْلُ أَنْ يَطَأَهَا أَوْ يُقَبِّلَهَا بِشَهْوَةٍ أَوْ يَنْظُرَ إلَى فَرْجِهَا بِشَهْوَةٍ فَإِنَّهُ يَصِيرُ مُرَاجِعًا عِنْدَنَا إلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ لَهُ ذَلِكَ وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُرَاجِعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ بِالْإِشْهَادِ كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ".ترجمہ: رجعت کا معنی یہ ہے کہ نکاح کو پہلے کی طرح باقی رکھناجب تک عورت عدت میں ہے۔اسی طرح تبیین میں ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک سنت طریقہ اورایک بدعی یعنی خلاف سنت طریقہ ،پس سنت طریقہ یہ ہے کہ عورت سے زبانی رجوع کرے اور اس رجوع پر دوگواہ بنائے اورعورت کو اس کی خبر دے پس جب زبانی رجوع کرنے لگے تو اس طرح کہے میں نے تجھ سے رجعت کی یا کہے میں نے اپنی عورت سے رجوع کیا اور گواہ نہ بنائے یا گواہ تو بنائے لیکن عورت کو اس کی خبر نہ کی تو یہ طریقہ بدعی خلاف سنت ہے لیکن رجعت صحیح ہے اور اگر بالفعل رجعت کی مثلا اپنی بیوی سے وطی کر لی یا شہوت سے بوسہ لیا یا شہوت سے اس کے فرج کی طرف نظر کی تو ہمارے نزدیک رجعت کرنے والا ہو جائے گا مگر یہ اس کے لیے مکروہ ہےاور مستحب یہ ہے کہ پہلے گواہ بنائے اور پھر رجوع کرے اسی طرح الجوہرۃالنیرہ میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ،1/468،دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ (طلاق)رجعی کہ عدت کے اندر رجعت کا اختیا ردیا جائیگا‘مثلا اگر زبان سے کہہ لے کہ ’’میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھیر لیا‘‘ توعورت نکاح سے نکلنے نہ پائے گی، بدستور زوجہ رہے گی اور حکم طلاق زائل نہ ہوگا ‘‘۔ (فتاوی رضویہ : ج12؛ص:515،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صریح کی تعریف کرتے ہوئے علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: " صَرِيحُهُ مَا لَمْ يُسْتَعْمَلْ إلَّا فِيهِ".ترجمہ:صریح وہ الفاظ جو طلاق دینے کے لئے استعمال ہوں ۔
اس کے تحت علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:" فَمَا لَا يُسْتَعْمَلُ فِيهَا إلَّا فِي الطَّلَاقِ فَهُوَ صَرِيحٌ يَقَعُ بِلَا نِيَّةٍ". ترجمہ: فارسی یعنی غیر عربی زبان میں جس لفظ کا غالب استعمال طلاق میں ہو تا ہو تو وہصریح ہے اور اس سے بغیر نیت طلاق کے بھی طلاق ہو جاتی ہے ۔(درمختار مع رد المحتار ،کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق،3/247،دار الفکر بیروت)
علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں:"الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ".ترجمہ: طلاقِ صریح طلاقِ صریح کولاحق ہوتی ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الطلاق ،باب الکنایات،3/306،دار الفکر بیروت)
استاد محترم تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی دامت برکاتہ العالیہ اپنےمفصل فتوی بنام ’’طلاق کے الفاظ صریح وکنایہ پر ایک مبسوط فتوی‘‘میں اس مسئلہ پر سیر حاصل کلام کیا ہے ۔اختصار کے ساتھاقتباس ملاحظہ ہو۔چنانچہ فرماتے ہیں :’’ہمارے نزدیک اُردو زبان کے الفاظ ’’میں نے تمہیں فارغ کیا‘‘یا ’’تم میری طرف سے فارغ ہو‘‘ یا ’’میں نے تمہیں آزاد کیا‘‘یا’’تم میری طر ف سے آزادہو‘‘ انکی وضع طلاق کے لیے نہیں ہے، اس لیے فقہائے کرام نے انکوکنایہ میں شمار فرمایاتھا لیکن موجودہ دور میں پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لیے کثیرالاستعمال ہونے اورعرف وعادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں۔کیونکہ آجکل جب کوئی یہ ا لفاظ اپنی بیوی کوبولتاہے تو بغیرکسی قرینہ خارجیہ کے متبادرالی الفہم طلاق کے معنی ہی ہوتے ہیں۔لہٰذا ان سے ہرحال میں بلا نیت طلاق واقع ہوگی، اوروہ طلاق رجعی ہوگی کیونکہ ان الفاظ میں فوری حرمت کا تقاضہ کرنے والا مفہوم نہیں ہے بلکہ جس طرح طلاق میں نکاح کی قید فی الحال یافی المآل یعنی عدت گزرنے پر ختم ہوتی ہے اسی طرح نکاح سے فراغت اور آزادیفوری بھی ہوسکتی ہے اور عدت گزرنے کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔ (ماخوذاز وسیم الفتاوی غیر مطبوعہ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:6 شوال المکرم 1444 ھ/27 اپریل2023ء