مزنیہ سے نکاح كا حكم
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 449

    سوال

    عرض یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کےساتھ غلط فعل کیا ہے اور پھر اسکی بیٹی کے ساتھ غلط فعل کیا ہے ۔لیکن اب وہ اس عورت کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا جائز ہے یا نہیں ؟

    سائل:محمد حسین پردیسی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعت اسلامیہ میں ائمہ احناف کے نزدیک وہ شخص اب نہ اس عورت کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے نہ ہی اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح ہو سکتاہےاسی طرح اس شخص کے بیٹے اور باپ اس عورت اور اسکی بیٹی پرہمیشہ کے لیئے حرام ہیں ۔

    تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب کو ئی شخص کسی عورت کے ساتھ وطی (ہم بستری )کرےچاہے نکاح کے ذریعے ہو یا زناءکے ذریعے (العیاذباللہ)تو وہ مرد و عورت ایک دوسرے کے جز بن جا تے ہیں اور ان کے درمیان مصاہرت کا رشتہ قائم ہوجا تا ہے جس کی وجہ سے مرد کے والدین اور اولاد وغیرہ اس عورت کے والدین اور اولاد کی طرح ہو جا تے ہیں ،اسی طرح عورت کے والدین اور اولاد اس مرد کے لئے والدین اور اولاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    سو جب اس شخص نے مذکورہ عورت کے ساتھ فعل بد کیا تو اس کی بیٹی اس پر حرام ہو گئی اور جب بیٹی کے ساتھ منہ کالا کیا تو اس کی ماں بھی حرام ہو گئی ۔

    مبسوط سرخسی (کتاب النکاح ،ج:۴،ص:۲۰۴،طبع:دارالمعرفۃ ،بیروت)میں ہے :‘‘وَإِذَا وَطِئَ الرَّجُلُ امْرَأَةً بِمِلْكِ يَمِينٍ أَوْ نِكَاحٍ أَوْ فُجُورٍ يَحْرُمُ عَلَيْهِ أُمُّهَا وَابْنَتُهَا وَتَحْرُمُ هِيَ عَلَى آبَائِهِ وَأَبْنَائِهِ’’ترجمہ:اور جب کوئی شخص کسی عوت سے وطی کرتا ہے اس وجہ سے کہ وہ عورت اس کی باندی ہے ،یا بیوی ہے،یااس کے ساتھ زناء کرتا ہے تو اس شخص پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو جائینگی اور اس مرد کے والد ،اجداداور بیٹے اس عورت پر حرام ہو جائینگے ۔

    اسی طرح الفتاوی الھندیہ(کتاب النکاح،الباب الثانی فی بیان المحرمات،ج:۱،ص:۲۷۴،طبع:دارلفکر)میں ہے: ‘‘فَمَنْ زَنَى بِامْرَأَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ أُمُّهَا وَإِنْ عَلَتْ وَابْنَتُهَا وَإِنْ سَفْلَتَ، وَكَذَا تَحْرُمُ الْمَزْنِيُّ بِهَا عَلَى آبَاءِ الزَّانِي وَأَجْدَادِهِ وَإِنْ عَلَوْا وَأَبْنَائِهِ وَإِنْ سَفَلُوا’’ترجمہ:جس شخص نےکسی عورت سے زنا کیاتو اس پر حرام ہو گئیں اس عورت کی ماں،دادی اوپر تک ،اور اس کی بیٹی ،نواسی وغیرہ سب ،اسی طرح وہ عورت حرام ہو گئی زانی کے باپ،داداوغیرہ اوپرتک،اور اس کے بیٹے ،پوتے وغیرہ پر ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجرء:20ربیع الثانی 1440 ھ/28دسمبر 2018ء