یوٹیوب پر چلائی جانے والی ایڈز سے کمائی کا حکم
    تاریخ: 7 فروری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 747

    سوال

    میرا ایک یوٹیوب چینل ہے Monetization کے لیے تقریبا تیار ہے اور monetize ہونےکے بعد اس پر Ads چلیں گی جس سے حاصل ہونے والی آمدنی٪ 55 میری اور٪ 45 یوٹیوب والوں کی ہوگی اب سوال یہ ہے کہ جو Ads میرے چینل پر چلیں گی اس میں سے اکثر Ads میں خاتون ہوتی ہیں اور بہت سی Ads حرام چیزوں کی بھی ہوتی ہیں جو کہ Filters کے ذریعے ، Block کی جاسکتی ہیں ، جبکہ خاتون والی Ads ختم کرنے کا اختیار ہمیں حاصل نہیں ہے ۔ اب ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا شرعی حکم کیا ہے ؟ تفصیل کے ساتھ بیان کریں اور حلال و حرام ہونے کی علتیں بھی بیان کریں؟ سائل:احمد رضا :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں جب خاتون والی ایڈز بھی چینل پر آئیں گی اور اس بے حیائی کے ساتھ ساتھ موسیقی وغیرہ جیسے خرافات بھی ان ایڈز میں موجود ہونگے اوریہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر طور پر ایڈز ان خرافات کا ہی جامع ہوتی ہیں کوئی شاذ ونادر ہو جسے یہ کہا جاسکے کہ یہ ایڈ شرعاً درست ہے لہذا ایسی صورت میں اپنے چینل پر ایسی ایڈز چلانے کی اجازت دینا گناہ کا ارتکاب ہےنیز کمائی بھی طیب نہ ہوگی ۔اور قلیل الوقوع کا اعتبار نہ کیا جائے گاکہ قلیل کالمعدوم ہوتی ہے۔کیونکہ جب اکثر ایڈز ایسی ہوتی ہیں جو خرافات پر ہی مشتمل ہوں تو للاکثر حکم الکل کے تحت تمام پر ہی یہ حکم ہوگا۔لیکن جتنی مقدار ایڈز شرعی نقطۂ نظر سے ٹھیک ہوں ان کی اجرت طیب ہوگی ۔ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آمدنی حلال ہے، تو ایسا کام کرنے کی اجازت ہے ، بلکہ فی نفسہ آمدنی حلال بھی ہو، تب بھی جب اکثر کام ایسا ہے جو گناہ پر مشتمل ہے تو ایسا کام کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہو گی نیز یہ بات بھی یاد رہے کہ گناہ کی نحوست کے سبب روزی سے برکت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت مطھرہ میں جس طرح ناجائز اور حرام کام کرنا گناہ ہے ایسے ہی حرام کام کرنے پر معاونت کرنا بھی سخت حرام اور گناہ کا کام ہے ۔ پارہ 6،سورۃ مائدہ آیت نمبر :2 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَعَاوَنُواعَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوااللَّہَ اِنَّ اللَّہَ شَدِیدُالْعِقَابِ۔ترجمہ کنزالایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

    اس آیت کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے: نھی عن معاونۃ غیرنا علی معاصی اللہ تعالی“یعنی اللہ عزوجل کی نافرمانی پر دوسرے کی معاونت ممنوع ہے۔(احکام القرآن للجصاص،جلد3،صفحہ296،دار احیاء التراث العربی بیروت)

    فتاوٰی ہندیہ میں ہے: الْإِعَانَةُ عَلَى الْمَعَاصِي وَالْفُجُورِ وَالْحَثُّ عَلَيْهَا مِنْ جُمْلَةِ الْكَبَائِرِ :ترجمہ: گناہ اورفسق وفجورپر مددکرنااوراس پراُبھارنابھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔(فتاوٰی ہندیہ،جلد:3،صفحہ:451،دار الفکر بیروت)

    گناہ کی نحوست کے سبب برکت اٹھا لی جاتی ہے۔چنانچہ علامہ بدرالدین عینی علیہ الرحمۃ ماپ تول کے متعلق گفتگو کرتے ہوئےفرماتے ہیں: فالبرکۃ تحصل فیہ بالکیل لامتثال امر الشارع واذا لم یمتثل الامر فیہ بالاکتیال نزعت منہ لشوؤم العصیان :ترجمہ: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے ماپنے سے غلے میں برکت ہو گی اورماپنے میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کی پیروی نہ کی،توگناہ کی نحوست کی وجہ سے اُس غلے سے برکت اٹھا لی جائے گی۔(عمدۃ القاری،ج8،ص413،مطبوعہ ملتان)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18رجب المرجب4144 ھ/10فروری2023 ء