مزارات پر کیسے حاضری دی جائے
    تاریخ: 9 مارچ، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 995

    سوال

    مزار پر ہاتھ لگاکر چہرہ او ر جسم پر پھیرنا کیسا ہے؟اور مزار کو چومنا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی میں آپ رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: نعیم رضوان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مزاراتِ اولیاء کرام نور و تجلیات اور فیوض کے سرچشمے ہوتے ہیں۔ ان کی حاضری سے دلوں کو راحت ملتی ہے اور بے شمار دینی و دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا ہر خلافِ شرع طریقے سے بچتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ حاضری دینا ایک مستحسن عمل ہے۔

    مزارِ شریف پر حاضری کا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ مزار کے پائنتی، یعنی پاؤں کی جانب سے آئے، اور چہرے کی سمت مزارِ شریف سے چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو کر درمیانی آواز میں سلام عرض کرے۔ اس کے بعد قرآن خوانی کرے، خواہ صرف فاتحہ شریف اور چند مرتبہ درود پاک پڑھ کر ہی ایصالِ ثواب کرے، پھر رب تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں صاحبِ مزار کے وسیلے سے دعا مانگے، اور دوبارہ سلام عرض کرکے یونہی واپس آ جائے۔

    جہاں تک مزارِ شریف یا اس پر رکھی ہوئی چادر کو چومنے یا اسے چھونے کا تعلق ہے، تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ادب کا تقاضا یہی ہے کہ مزارِ شریف سے چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑے ہو کر حاضری دی جائے اور مزار کو چھونے اور چومنے سے بچا جائے۔لیکن اگر کسی نے عقیدت میں مزار چھو لیا ،یہ بات خلاف ادب ہے لیکن گناہ نہیں ۔

    دلائل و جزئیات:

    مزار پر حاضری دینا باعث ثواب و برکت ہے ، حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام شہداء کی مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے : چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں ہے: کان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یاتی قبور الشھدا ء عند راس الحول فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار ، قال : وکان ابو بکر و عمر و عثمان یفعلون ذلک ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے شروع میں شہداء ِ احد کےمزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے اور فرماتے: السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ، عمر، عثمان رضی اللہ عنھم بھی ایسا ہی کیاکرتے تھے ۔ (مصنف عبد الرزاق ،کتاب الجنائز ، باب زیارۃ القبور ، جلد3،صفحہ 381،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ، بیروت)

    مزار پرحاضری کا طریقہ بیان کرتے ہوئے سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں: مزارات ِشریفہ پر حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے :السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ ،پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک ، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے ، تو سورہ یٰسں او رسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی ! اس قراءت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندۂ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دعا کرے اورصاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اُسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 9، صفحہ 522، مطبوعہ رضا فانڈیشن ، لاھور)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1447 ھ/1ڈسمبر 2025ء