مسئلہ وراثت کا شرعی حکم

    maslay wirasat ka sharai hukm

    تاریخ: 1 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 89
    حوالہ: 1809

    سوال

    (1)میرے والد مرحوم نے اپنی حیات میں دو فلیٹ فروخت کر کے گلشن اقبال میں ایک بنگلہ خریدا جو کہ انہوں نے اپنی حیات میں ہی میری والدہ مرحومہ ،میرے دو بھائی اور میرے نام پر قانونی طور پر کر کے گئے یعنی گھر کے تمام رجسٹریشن کے کاغذات میں اس گھر کے چار اونرز ہیں اور کاغذات کے مطابق میں میرے دو بھائی اور میری والدہ پر 25 پرسنٹ کے برابر پارٹنرز ہیں ۔(سائلہ کے مطابق تمام اونرز کوگھر پر مکمل قبضہ بھی دے دیا تھا)

    (a)میرے والد مرحوم کی پہلی مرحومہ بیوی جن کا انتقال میری والدہ سے شادی کرنے سے پہلے ہی ہو چکا تھا ان کی ایک بیٹی بھی ہیں ، اس گھر میں جو کہ قانونی طور پر میری والدہ میرے دو بھائیوں اور میرے نام پر ہے کیا اس میں میری سوتیلی بہن کا حصہ ہوگا؟

    (b) اس کے علاوہ میرے والد کے نام پر ایک پلاٹ ،ایک گاڑی ،ان کے پیسوں سے لی ہوئی، بینک کے کچھ پیسے اور ایک دکان ہے جس میں سے دکان بھائی چلا رہا ہے اور اس میں ابتدائی مال اور کام میرے والد کے ہی پیسوں سے ہوا ہے ،البتہ فی الحال وہ دکان میرے بھائی کے استعمال میں ہے اور وہ اس کاروبار کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو اس دکان کی اور بقیہ پلاٹ گاڑی اور بینک کے پیسوں کی وراثت کے بارے میں رہنمائی کریں کہ شرعی طور پر ان چیزوں کی وراثت کیسے ہوگی ؟

    (2) والدۂ مرحومہ کی ملکیت میں ابو کی طرف سے دیے گئے کچھ ریال، سونا، گھریلو سامان اور کچھ پاکستانی رقم موجود ہے۔ یہ تمام اشیاء اور رقم والدہ کے ذاتی استعمال کے لیے(بطور ِمالک) دی گئی تھیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان تمام اشیاء اور رقم میں ہماری سوتیلی بہن کا بھی شرعی حصہ ہوگا؟

    (3) ایک لاکٹ سیٹ جس کے بارے میں سوال یہ ہے کہ وہ لاکٹ سیٹ میری والدہ کو بھائی کے سسرال سے گفٹ ملا تھا، کیا وہ سیٹ ہم میں لوٹا دینا چاہیے یا اس کی وراثت ہوگی کیونکہ والدہ مرحومہ نے اپنی حیات میں وہ سیٹ کسی کو نہیں دیا تھا؟

    (4) گلشنِ اقبال میں واقع اس گھر میں میری والدۂ مرحومہ بھی 25 فیصد حصے کی مالک ہیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد ان کے 25 فیصد حصے کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کیونکہ قانونی طور پر اس گھر کا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن بننے کے بعد میوٹیشن ایگریمنٹ (Mutation Agreement) بنے گا، اور چاروں پارٹیز میں سے تین پارٹیز کے نام پر ملکیت منتقل ہونے کے بعد ہی یہ گھر قابلِ فروخت ہوگا۔لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ والدۂ مرحومہ کے 25 فیصد حصے کی تقسیم تمام بہن بھائیوں میں برابر ہوگی یا شریعت کے مقرر کردہ اصولِ وراثت کے مطابق ہوگی؟

    (5)گھر کے اوپر والے پورشن میں میرا چھوٹا بھائی رہتا ہے، جبکہ نیچے والے پورشن میں میرا بڑا بھائی رہتا ہے۔ چھوٹے بھائی نے گھر کو اسی حالت میں برقرار رکھا ہوا ہے جس حالت میں اسے خریدا گیا تھا، جبکہ بڑے بھائی نے اپنی رہائش اور ضرورت کے مطابق اپنے پورشن میں مختلف کام کروا کر اسے اپ گریڈ کیا ہے( اس نے دیگر ورثاء سے کام کروانے کی باقاعدہ اجازت تو نہیں لی مگر ورثاء میں سے کسی کی طرف سے دوران کام منع بھی نہیں کیا گیا)۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب یہ گھر فروخت ہوگا تو کیا بڑے بھائی نے اپنے پورشن میں اپنی رہائش اور ذاتی ضرورت کے لیے جو اخراجات کیے ہیں، وہ گھر کی فروخت سے حاصل ہونے والی کل رقم میں سے پہلے اسے واپس دیے جائیں گے؟ یا وہ اخراجات اس کے اپنے ذمہ شمار ہوں گے اور گھر کی فروخت سے حاصل ہونے والی کل رقم شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے گی؟

    نوٹ: مذکور ہ جواب مندرجہ بالا سوال کی روشنی میں لکھا گیا ہے، اگر صورت ِحال سوال کے برعکس ہوئی تو جواب مختلف ہوگا۔

    سائل: فرح انور حسین


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (1/a) صورت مسئولہ کے مطابق، آپ کے والدِ مرحوم نے اپنی زندگی میں مذکورہ بنگلہ باقاعدہ طور پر آپ کی والدہ، آپ اور آپ کے دونوں بھائیوں کو ہبہ (تحفہ) کردیا تھا اور ہر ایک کو اس کا قبضہ بھی دے دیا تھا۔ لہٰذا آپ کی والدہ، آپ اور آپ کے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کی اس بنگلے میں 25 فیصد ملکیت ثابت ہوچکی تھی۔

    لہٰذا والدِ مرحوم کے انتقال کے وقت مذکورہ بنگلہ ان کی ملکیت میں شامل نہیں تھا، بلکہ وہ پہلے ہی آپ کی والدہ، آپ اور آپ کے دونوں بھائیوں کی ملکیت میں منتقل ہوچکا تھا۔ اس صورت میں آپ کی سوتیلی بہن کا مذکورہ بنگلے میں بطورِ وارث کوئی حصہ نہیں ہوگا، کیونکہ وارث صرف اس مال میں حق دار ہوتا ہے جو مورث کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں موجود ہو، جبکہ یہ بنگلہ والدِ مرحوم کی زندگی ہی میں ہبہ اور قبضہ کے ذریعے آپ لوگوں کی ملکیت میں منتقل ہوچکا تھا۔

    (1/b)اگر معاملہ ایسا ہے تو مرحوم کے ترکے کی شرعی تقسیم ان کے ورثاء میں اس طرح ہوگی کہ امور متقدمہ علی الارث (یعنی میت کے کفن و دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ، اس کے بعد میت کے ترکہ میں جو حق متعلق ہوتا ہے وہ ہے وصیت مگر یہاں وصیت مرحومہ نے نہیں کی ) اس کے بعد کل مال وراثت کے 240 حصے کیے جائیں گے ، جن میں مرحوم کے ہربیٹے(فیصل،طلحہ) کو الگ الگ 82حصے اور بیٹی (فرح)کو 41 حصہ جبکہ بیٹی (زبیدہ) کو 35ملیں گے ۔

    فائدہ : مرحوم کے ترکہ کی قیمت لگواکر کل رقم کو مبلغ یعنی 240پر تقسیم ((Divide کردیں جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں ،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    (2) والدۂ مرحومہ کی ملکیت میں ان کے شوہر کی طرف سے دیے گئے کچھ ریال، سونا، گھریلو سامان اور کچھ پاکستانی رقم موجود ہے۔ یہ تمام اشیاء اور رقم والدۂ مرحومہ کو ان کی ملکیت اور ذاتی استعمال کے لیے دی گئی تھیں، لہٰذا یہ سب ان کی ملکیت شمار ہوں گی اور ان کے انتقال کے بعد ان کے ترکے میں شامل ہوں گی۔

    چونکہ آپ کی سوتیلی بہن آپ کی والدۂ مرحومہ کی شرعی وارث نہیں ، اس لیے والدۂ مرحومہ کے ترکے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا مذکورہ ریال، سونا، گھریلو سامان اور پاکستانی رقم صرف والدۂ مرحومہ کے شرعی ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

    (3) شرعی حکم یہ ہےکہ اگر لاکٹ سیٹ سائل کی والدہ کو ان کے بیٹے کے سسرال والوں نے بطورِ تحفہ دے کر مالک بنا دیا تھا تو وہ لاکٹ سیٹ والدہ کی ذاتی ملکیت بن گیا تھا۔ محض یہ بات کہ وہ تحفہ بیٹے کے سسرال والوں کی طرف سے دیا گیا تھا، اس کی وجہ سے اسے واپس کرنا لازم نہیں۔چونکہ والدہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں وہ لاکٹ سیٹ کسی کو ہبہ نہیں کیا اور وہ ان کی ملکیت ہی میں رہا، اس لیے ان کے انتقال کے بعد وہ لاکٹ سیٹ ان کے ترکہ میں شامل ہوگا اور تمام شرعی ورثاء میں ان کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔البتہ اگر تحفہ دیتے وقت صراحتاً یہ کہا گیا تھا کہ یہ عارضی طور پر پہننے کے لیے دیا جا رہا ہے یا ملکیت منتقل نہیں کی گئی تھی، تو حکم مختلف ہوگا۔

    (4) والدہ کا گھر میں جو حصہ بنتا ہے اس کو ان کے شرعی ورثاء دو بیٹوں اور ایک بیٹی میں للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت تقسیم ہوگا یعنی والدہ کے 25 پرسنٹ میں سے دس دس پرسنٹ دونوں بیٹو ں کو جبکہ پانچ پرسنٹ بیٹی کو ملے گا ،پورے گھر میں تین حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی ۔

    (5) مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو مقرر کی جائے گی، پھر جس بھائی نے اپگریشن پر اپنی رقم خرچ کی ہے، اس کے خرچ کی رقم منہا کرکے اسے ادا کی جائے گی، اور باقی ماندہ رقم تمام شرعی ورثاء کے درمیان ان کے مقررہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔

    دلائل وجزئیات:

    السراجی فی المیراث میت کے ترکہ اور حقوق کے متعلق ہے : تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھرباقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    سوتیلی اولاد وراثت کی مستحق نہیں،امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’سوتیلا بیٹا ہونا شرعاً ترکہ میں کوئی استحقاق نہیں پیدا کرتا‘‘۔(فتاوی رضویہ،26/84، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    اسی طرح مفتی محمد خلیل خان برکاتی (المتوفی:1405ھ) فرماتے ہیں: سوتیلے ماں باپ اور سوتیلی اولاد میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوتے،لہذا زوجہ کی جو اولادپہلے کسی شوہر سے موجود ہو،اپنے سوتیلے باپ کے مال ِ متروکہ سے کسی حصہ کی مستحق نہیں ۔(فتاوی خلیلیہ،3/437،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

    ہبہ میں ملکیت کب حاصل ہوتی ہے؟مبسوط للسرخسی میں حدیث پاک مذکورہے : "«لَا تَجُوزُ الْهِبَةُ إلَّا مَقْبُوضَةً» مَعْنَاهُ: لَا يَثْبُتُ الْحُكْمُ، وَهُوَ الْمِلْكُ".ترجمہ: ہبہ قبضہ کے بغیرجائزنہیں ہے،(علامہ سرخسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں) اس کامعنی یہ ہے کہ اس (ہبہ)کاحکم ثابت نہیں ہوگااوروہ ملک ہے (یعنی قبضہ کے بغیرموہوب لہ کے لئے ملک ثابت نہیں ہوگی بلکہ وہ ہبہ کرنے والے کی ملک پر باقی ہے)۔(المبسوط للسرخسی ،12/56،رشیدیہ کوئٹہ)

    ہبہ ثابت ہونے کیلئے اس چیز پر قبضہ کا ہونا ضروری ہے اس بارے میں علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "شَرَائِطُ صِحَّتِهَا فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ... وَتَتِمُّ الْهِبَةُ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ". ترجمہ: ہبہ کی جانے والی چیز میں ہبہ کی شرائط میں سے ہے کہ اس پر قبضہ کروایا جائے، مشترک نہ ہو، دوسری چیزوں سے جدا(واضح ) ہواور ہبہ کرنے والے کے اپنے تصرف میں مشغول نہ ہو... نیز فرمایا: اور قبضہ کاملہ کے ساتھ ہبہ تمام ہو جاتا ہے۔ (الدر المختار،کتاب الہبۃ، 5/688-690،دار الفکر)

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے:" وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ الْمَوْهُوبُ مَقْبُوضًا حَتَّى لَا يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ قَبْلَ الْقَبْضِ". ترجمہ: ہبہ کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ ہبہ کی ہوئی چیز‘ جس کوہبہ کی ہے اس کے قبضے میں چلی جائے، چنانچہ قبضے سے پہلے موہوب لہٗ کی ملکیت ثابت نہیں ہوسکتی۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الہبۃ،الباب الاول،4/374،دار الفکر)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1447 ھ/31اگست 2026ء