masla wirasat panch bete teen betiyan
سوال
ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، والد کا 2013 میں جبکہ والدہ کا 2017 میں ۔ ہم پانچ بھائی(ابراہیم، حسن، عباس، اکبر، احمد) اور تین بہنیں (آمنہ، زینب، مریم) ہیں۔ والدین کے انتقال کے بعد بڑی بہن (آمنہ)کا انتقال بھی ہوچکا ہے،انکے شوہر کا انتقال پہلے ہی ہوچکاجبکہ اولاد میں ایک بیٹا (شہزاد) دو بیٹیاں (شازیہ، نادیہ)ہیں، ہمارے والد صاحب کا پگڑی کا ایک فلیٹ تھا اب چھوٹا بھائی اس فلیٹ کو کسی سے مشورہ کئے بغیر اپنے نام کروانا چاہتا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ شرعی حساب سے بہن بھائیوں کے حصہ کی تقسیم اور انتقال کرنے والی بہن کے حصے کے بارے میں بتادیں۔
سائل:سید ابراہیم : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پگڑی کی خرید و فروخت کے بارے میں موجودہ دور کے علماءکے دو گروہ ہیں، بعض عدمِ جواز کے قائل ہیں اور بعض جواز کے۔ عدمِ جواز کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ پگڑی ''حقِ قبضہ'' کی بیع کا نام ہے اور ''حق ''مال نہیں ہے ، جبکہ بیع کے لئے مال ہونا لازم ہےلہذا اس دکان یا مکان کے بجائے فقط اس پر حقِ قبضہ کی بیع ہونے کی بناء پر ناجائز ہے ۔
جبکہ دیگر مفتیان بلکہ خود ہمارے نزدیک اسکی بیع جائز ہے ،(جس کی تفصیل ہمارے دیگر فتاوٰی میں موجود ہے۔) لہذا جس نے بھی دوکان یا مکان پگڑی
پر خریدا وہ اسکا مالک ہوجائے گا اور بعد از وصال وہ مکان اسکے ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔کسی بھی وارث کا اکیلے اس پر دعوٰی کرنا یا اپنے نام کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، لہذا یہاں بھی یہ مکان ورثاء کے مابین انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا جسکی تفصیل درج ذیل ہے:
امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 52حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے۔
زینب:4 ، مریم :4، ابراہیم:8، حسن:8، عباس:8، اکبر:8 احمد:8، شہزاد:2، شازیہ:1، نادیہ:1
وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پگڑی کے مکان کی کل ویلیو کو مبلغ یعنی 52 پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکومحفوظ کرلیں بعد ازاں اس کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: ربیع الثانی 1446ھ/ 16 اکتوبر 2024 ء