do betay aur bhanjay ke liye wasiyat
سوال
ایک عورت کاانتقال ہوا ، وقت موت اسکے ورثاء میں صرف دو بیٹے ہیں ۔ شوہر ، دو بیٹے اور ایک بیٹی اور والدین کا پہلے انتقال ہوگیا ۔ ترکہ میں 25750 کے پرائز بانڈ ہیں ، 94526 کیش کی صورت میں ہیں ، ڈھائی تولہ سونا ،اور گھر کا سامان فرج ،برتن وغیرہ۔ مرحومہ نے کہا تھا کہ میرےمرنے بعد زیورات میں سے چار چوڑیاں بڑے بیٹے کو دے دینا اور ایک لاکٹ بھانجے کو دے دینا ۔ اب انکا حصہ نکال کر گولڈ کی تقسیم ہوگی یا ملا کر ۔ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
سائل: محمد عاقب: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضہ کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضہ میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(السراجی فی المیراث ص 5)
آپکے سوال کا جواب یہ ہے کہ عورت کی جانب سے یہ کہنا کہ''میرے مرنے کے بعدزیورات میں سے چار چوڑیاں بڑے بھائی کو دے دینا اور ایک لاکٹ بھانجے کو دے دینا ''وصیت ہے ، اوروصیت اگر اجنبی کے لئے ہو تو ایک تہائی مال سے دی جائے گی اور اگر وارث شرعی کے لیے وصیت ہو تو یہ وصیت درست نہیں ، اس لیے کہ شرع میں وارث کے لیے وصیت نافذ نہیں ہوتی الا یہ کہ دیگر ورثاء اجازت دے دیں تو نافذ ہے ۔ لہذا عورت کے ترکہ میں سے اسکے بھانجے کو سونے کا لاکٹ بطور وصیت دیا جائے گا، بڑے بیٹے کے حق میں وصیت نافذ نہیں ہوگی ،پھر جو کچھ بچ جائے وہ دونوں بیٹوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔
سراجی میں ہے : والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03 صفر المظفر 1441 ھ/03 اکتوبر2019 ء