muzaraba ki aik najaiz surat
سوال
ہم ایک کمپنی میں انسویمنٹ کرتے ہیں جس میں ہم سے 36 ماہ کا معاہدہ کیا جاتا ہے جہاں یہ طے پاتا ہے کہ انویسٹ کرنے والوں کا نفع دس فیصد ہوگا جس میں 7 فیصد نفع سے اور 3 فیصد اصل رقم سے دیا جائے گا نیز سال میں دو ماہ جنوری اور دسمبر نفع نہیں دیا جائے گاہاں البتہ کلوزنگ کے بعد نفع کی تعیین کے بعد انوسٹرز کو بونس دیا جاسکتا ہے۔
کمپنی لوگوں کی انویسمنٹ سے صرف وہیں چیزیں خریدے گی جنکا وجود physically ہوگا اور ان اشیاء کو خرید کر اپنے پاس اسٹاک کرے گی اور ان ممالک میں یہ اشیاء فروخت کی جائیں گی جس ملک میں ان اشیاء پر پرافٹ زیادہ ہو اور یہ کمپنی نقصان سے بچنے کے لئے صرف انہیں چیزوں کی خرید اور فروخت کرتی ہے جن چیزوں کا قبضہ حاصل ہوتا ہے اور پھر ان چیزوں پر اپنا ٹیگ لگا کر آگے فروخت کرتی ہے۔
سائل: بمعرفت اویس نذیر : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت ناجائز ہے جسکی متعدد وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:
1: یہ مضاربت کی صورت ہے جسکی بنیادی شرائط میں سے یہ ہے کہ نفع دونوں کے مابین شائع ہوگایعنی جو کچھ رب المال (Investor)اور مضارب (Company) کی محنت سے نفع حاصل ہوگا وہ دونوں کے درمیان طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جائے گا ، جبکہ اس معاہدے میں یہ طے ہے کہ 10 فیصد نفع میں سے 3 فیصد راس المال (Capital) سے دیا جائے گا، اور راس المال سے نفع کی شرط بھی درست نہیں کیونکہ یہ نفع نہیں بلکہ مالک کی رقم ہے۔
2: نیز اس معاہدے میں دو ماہ نفع نہ دینے کی شرط بھی باطل و عاطل ہے جب ان دو مہینوں میں لوگوں کے پیسے سے کاروبار جاری رہے گا تو نفع نہ دینا چہ معنٰی دار؟ ضرور اس نفع میں انکا حق ہے جسے روک لینا ناجائز ، حرام اور ظلم ہے۔یہ کہنا کافی نہیں کہ بونس دیا جائے گا کہ بونس کی حیثیت انعام کی ہےاور یہ اجیر نہیں کہ انعام کا استحقاق ہو بلکہ یہ اس کاروبار کے مالک ہیں لہذا اس طرح کی شرط بھی ناجائز ہےکیونکہ اس صورت میں ان مہینوں کا نفع محض کمپنی کو ہوگا اور انوسٹر محروم رہیں گے اور یہ قاطع شرکت ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے:(وَتَفْسُدُ بِاشْتِرَاطِ دَرَاهِمَ مُسَمَّاةٍ مِنْ الرِّبْحِ لِأَحَدِهِمَا) لِقَطْعِ الشَّرِكَةِ كَمَا مَرَّ وَيَكُونُ الرِّبْحُ عَلَى قَدْرِ الْمَالِ۔ ترجمہ:اور کسی ایک کے لیے متعین دراہم کی شرط لگانے سے یہ شرکت فاسد ہوجائے گی کیونکہ اسکی وجہ سے شرکت ختم ہوگئی جیساکہ گزرا، اور نفع دونوں کے مال کی مقدار کے مطابق تقسیم ہوگا۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الشرکۃ جلد4 ص 316)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: (وَشَرْطُهَا) أَيْ شَرِكَةِ الْعَقْدِ (عَدَمُ مَا يَقْطَعُهَا كَشَرْطِ دَرَاهِمَ مُسَمَّاةٍ مِنْ الرِّبْحِ لِأَحَدِهِمَا) لِأَنَّهُ قَدْ لَا يَرْبَحُ غَيْرُ الْمُسَمَّى۔ترجمہ: اور شرکت عقد کی شرط یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کا وجود نہ ہو جس سے عقد شرکت ختم ہوجائے جیسے کسی ایک کے لیے نفع میں سے متعین دراہم کی شرط لگادی کیونکہ کبھی صرف اتنا ہی نفع ہوتا ہے کہ جتنا کسی ایک شریک نے اپنے لیے متعین کیا ہے(تو اب شرکت باقی نہ رہی) ۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الشرکۃ جلد4 ص 305)
البحر الرائق میں ہے: قيد بالشركة في الربح؛ لأن اشتراط الربح كله لأحدهما غير صحيح؛ لأنه يخرج العقد به من الشركة۔ ترجمہ:نفع میں شرکت کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کیونکہ کسی ایک فریق کے لئے کل نفع کی شرط درست نہیں کیونکہ اس شرط کی وجہ سے یہ عقد شرکت سے خارج ہوجائے گا۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، ج 5 ص 188)
اسی طرح ہندیہ میں ہے: ولو شرطا كل الربح لأحدهما فإنه لايجوز، هكذا في النهر الفائق۔ ترجمہ:اگر کسی ایک کے لئے کل نفع کی شرط لگادی تو جائز نہیں نہر فائق میں ایسا ہی ہے۔( فتاوٰی ہندیہ، كتاب الشركة، الفصل الثاني في شرط الربح، ج:2، ص:320)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06 ربیع الثانی 1446ھ/ 10 اکتوبر 2024 ء