سوال
ہمارے بڑے بھائی (مظفر حسین ) کا آج سے تقریباً 4 سال پہلے نکاح ہوا تھا۔ لیکن ابھی منکوحہ کی رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی ، نکاح کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ اپریل 2019 کو یہ بھائی قومے میں چلے گئے اور تاحال (15 جون 2022) قومے میں ہی ہے۔ انکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور یاداشت چلی گئی ہے اور ماہرین کے مطابق وہ لاعلاج مریض ہوچکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مظفر کی منکوحہ کا نکاح کہیں اور خواہ مظفر کے بھائی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو وہ منکوحہ کب تک اپنے مریض شوہر کا انتظار کرے۔
سائل: منور حسین : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر واقعی صورت حال ایسی ہے کہ مریض لاعلاج ہوچکا اور ڈاکٹر اسکے ہوش میں آنے سے مایوس ہوچکے ہیں تو اسکی منکوحہ بذریعہ قاضی شرع اپنا نکاح فسخ کرواسکتی ہے ۔ بایں طور کہ عورت قاضی شرع کے پاس شرعی گواہوں کے ذریعے اپنا دعوٰی دائر کرے کہ اس کا شوہر کومے میں چلا گیا ہے ، بعد از تحقیقات جب قاضی کے سامنے یہ بات ثابت ہوجائے کہ شوہرکومے میں ہے تو قاضی اسی مجلس میں عورت کو اختیار دے کہ وہ چاہے تو اپنے نفس کو اختیار کرے ، چاہے تو شوہر کو۔اگر عورت اسی مجلس میں اپنے نفس کو اختیار کرلے یعنی وہ کہے کہ میں اپنے آپ کو اختیار کرتی ہوں تو اب قاضی دونوں کے مابین تفریق کردے گا ۔ جب یہ معاملہ ہو جائے تو اس کے بعد عورت عدت گزار کر کہیں اور نکاح کر سکتی ہے ۔ مذکورہ طریقہ کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں ۔
نوٹ : اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلاً اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی۔
فقہِ حنفی میں اسکی نظائر شوہر کا عنین ہونا، مجنون ہونا، اسے برص کا یا جذام کا مرض لاحق ہونا ہے ۔ ہمارے اصلِ مذہب کے مطابق سیدنا امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک تو جنون وبیماری کے سبب عورت و مرد کے مابین تفریق نہیں ہوسکتی البتہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی عنہ نے خیار والی صورت کو اختیار فرمایا ہے اور بعض کتب فقہ مثلاً حاوی قدسی وغیرہ میں ''وبہ ناخذ'' کہہ کر اسی صورت کو راحج بھی لکھا ہے ۔جبکہ جمہور نے قولِ
امام اعظم کو ہی معتمد و مختار اور واجب التعویل بتایا ہے۔
تاہم بعض صورتوں میں ضرورتِ شدیدہ و صورت واقعہ متحققہ میں قولِ امام محمد پر عمل ممکن ہے ۔ چناچہ سید الفقہاء، سیدی و سندی اعلٰی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی برکاتی فتاوٰی رضویہ میں رقمطراز ہیں: بایں ہمہ اگر جنون حادث ہے پیش از نکاح شوہر مجنون نہ تھا بعد کو پیدا ہُوا اور حالتِ ضرورت بلامکر وفریب وپیروی نفس سچی سچی واقعی متحقق ہے تو قول امام محمد پر عمل ممکن۔ فقد اجاز والتحقق الضرورۃ الصحیحۃ تقلید الغیر بشرائط فھذا اولی بالجواز اذلیس بحمد اﷲفی المذہب قول خارج عن اقوال الامام کما نص علیہ العلماء الکرام وذکرہ اصحاب امامنا رضی اﷲتعالٰی عنہ وعنھم بغلاظ الایمان وشد ادالاقسام لاسیما وقد ذیل لما ھو اکدالفاظ الافتاء۔ترجمہ: فقہاء کرام نے صحیح ضرورت کی بناء پر دیگر ائمہ کی تقلید کو جائز قرار دیا ہے تو یہاں امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے قول کی بطریقِ اُولٰی اتباع جائز ہوگی کیونکہ بحمدہٖ تعالٰی مذہب کا کوئی قول امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کے قول سے خارج نہیں ہے جیسا کہ اس پر علماء کرام نے نص کی ہے اور ا اس چیز کو ہمارے امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی کے شاگردوں نے غلیظ حلفوں اور شدید قسموں کے ذریعہ بیان کیا ہے خصوصاً جبکہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے قول کے ذیل میں فتوٰی کے پُر تاکید الفاظ کو ذکر کیا گیا ہو۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 504، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
پھر مسئلہ جنون والی نظیر میں مزید تفصیل یہ ہے کہ کہ اگر جنون مطبق ہو تو قاضی عورت کو اسی مجلس میں اختیار دے گا اور اگر مطبق نہ ہو تو ایک سال کی مہلت دے گا ۔ ایک سال گزرنے کے بعد عورت دوبارہ دعوٰی دائر کرے اور قاضی بعد تحقیقات کے نکاح فسخ کروادے۔
چناچہ سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: یہ اس صورت میں ہے کہ جنون ثابت ہُوا لیکن ا س کا مطبق ہونا ثابت نہ ہُوا، اور اگر حاکم کو ثابت ہوجائے کہ واقعی مدت ہائے دراز گزرگئیں کہ یہ شخص مجنون ہے اور آرام نہیں ہوتاجنون اس کا مطبق یعنی ملازم وممتد ہے تو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو۔ ہندیہ میں ہے : اذاکان بالزوج جنون او برص او جذام فلاخیار لھا کذا فی الکافی قال محمدرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ ان کان الجنون حادثا یؤجلہ سنۃ کالعنۃ ثم یخیرالمرأۃ بعد الحول اذالم یبرأ وان کان مطبقا فھو کالجب وبہ ناخذ کذافی الحاوی القدسی ۔ ترجمہ:جب خاوند میں جنون، برص یا جذام جیسی امراض کا عیب ہوتو بھی بیوی کو فسخ کااختیار نہیں ہے جیسا کہ کافی میں ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا: اگر خاوند کو نکاح کے بعد جنون لاحق ہُوا تو نامرد کی طرح اس کو بھی قاضی ایک سال کی مہلت دے گا، پھر سال کے بعدتندرست نہ ہونے پر عورت کو نکاح کے فسخ کا اختیار دیا جائے گا، اور اگر جنون شروع سے چلا آرہا ہوتو اس کا حکم ذکر کٹے کی طرح ہوگا، اور اسی پر ہمارا عمل ہے جیسا کہ حاوی قدسی میں بیان کیا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 505، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
مطبق کی تفسیر سے متعلق ہندیہ میں ہے: ثم اختلفوا في تحديد الجنون المطبق قال محمد رحمه اللہ تعالى إذا كان الجنون دون الشهر فليس بمطبق، وإن كان شهرا فصاعدا فهو مطبق ثم رجع فقال ما دون السنة ليس بمطبق والسنة وما فوقها فهو مطبق كذا في المغني۔ ترجمہ: پھر جنونِ مطبق کی تحدید میں علماء نے اختلاف کیا۔ امام محمد نے فرمایا: جب جنون ایک ماہ سے کم ہو تو مطبق نہیں اور اگر ایک ماہ یا اس سے زائد ہو تو مطبق ہے ۔ پھر انہوں نے رجوع فرمالیااور فرمایا ایک سال سے کم ہو تو مطبق نہیں اور اگر ایک سال سے زائد ہو تو مطبق ہے ۔ مغنی میں اسی طرح ہے۔(الفتاوٰ ی الھندیہ،کتاب الماذون، الباب الخامس، جلد 5 ص 87، دارالفکر)
مسئلہ ِمانحن فیہ میں جبکہ مریض گزشتہ تین سال سے زائد عرصے سے کومے میں ہے ، تو اسکا مرض جنون مطبق کی طرح ہی ہے جسکا حکم گزر چکا کہ قاضی عورت کو اب سال کی مہلت نہ دے گا بلکہ اسی مجلس میں فی الفور عورت کا اختیار دے گا کہ چاہے شوہر کو اختیار کرے یا اپنے نفس کو، اگر عورت اسی مجلس میں اپنے نفس کو اختیار کرلے یہ کہہ کر کہ میں اپنے آپ کو اختیار کرتی ہوں تو اب قاضی دونوں کے مابین تفریق کردے گا۔بعد ازاں عورت عدت گزار کر کہیں اور نکاح کرلے۔اگر عورت نے اپنے شوہر کو اختیار کیا یابغیر کچھ کہے چلی گئی یا کھڑی ہوگئی یا کسی نے اسے اٹھادیا یا حاکم خود اٹھ کھڑا ہوا تو اب عورت کو اصلاً اختیار نہ رہا وہ بدستور ہمیشہ اس مجنون کی زوجہ رہے گی۔
اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو وہاں کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم جو مرجع فتاویٰ ہو قاضی شرع ہے۔چناچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی شائع کردہ کتاب ''مجلس شرعی کے فیصلے'' علماء کا یہ فیصلہ محفوظ ہے :آج کے ہندوستان مین ان معاملات کے فیصلے جن میں مسلمان حاکم(قاضی ہونے ) کی شرط ہے جمہور مسلمانوں کو شرعا یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی عالم باشرع کو اپنا قاضی بنالیں اور ایسے قاضی کا فیصلہ اپنے حدود خاص میں جائز و نافذ ہوگا۔ مفقود الخبر، معدومۃ النفقہ ، عنین،مجنون وغیرہا کے مسائل میں از روے شرع مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی عورت کی درخواست پر زن و شوہر کے درمیان تفریق بھی کراسکتا ہے ۔
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں:جہاں قاضیِ شرع نہ ہو وہاں جو عالمِ دین سچا تمام اہلِ شہر میں فقہ کا اعلم ہوایسے امورمیں حاکمِ شرعی ہے:کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ۔ترجمہ: جیسا کہ اس پر فتاوٰی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 505، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 ذوالقعدہ 1443 ھ/16 جون 2022 ء