فاجرہ کو طلاق کا حکم
    تاریخ: 31 جنوری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 708

    سوال

    میری بیوی میرے ساتھ مسلسل دھوکہ دہی کر رہی ہے اور میرے پیچھے غیر محرم سے نا جائز تعلقات بھی رکھتی ہے ۔ان سب چیزوں کے بارے میں مجھے سب کچھ معلوم ہوچکا ہے اور میں نے اس حوالے سے با ضابطہ اپنی بیوی کے موبائل میں میسج اور کالز دیکھے ہیں ۔ایک بار نہیں کئی بار یہ سلسلہ ہوچکا ہے اب میری برداشت سے باہر ہے لہذا میں اسکو طلاق دینا چاہتا ہوں میرا سوال یہ ہے کہ اب میرا مفتی صاحب سے یہ سوال ہے کہ شریعت اس صورت میں میری کیا رہنمائی کرتی ہے؟طلاق دینے کی صورت میں مجھ پر گناہ تو نہیں ہوگا۔

    سائل:بمعرفت سحر : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو حکمِ شرع یہ ہے کہ ایسی عورت کو طلاق دینا واجب نہیں ۔البتہ اگر میاں بیوی کو اس بات کا خوف ہو کہ وہ شریعت کے قائم کردہ حدود کی پاسداری نہیں کر سکیں گے تو اس صورت میں مرد کا اپنی بیوی کو طلاق دینا مستحب ہے۔ یعنی طلاق دینے سےمرد پر گناہ نہیں ہوگا بلکہ ثواب ملے گا۔

    ارشادِ باری تعالی ہے:فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ۔ترجمہ:پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔(البقرة: 229)

    اس بارے میں البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَفِي آخِرِ حَظْرِ الْمُجْتَبَى لَا يَجِبُ عَلَى الزَّوْجِ تَطْلِيقُ الْفَاجِرَةِ وَلَا عَلَيْهَا تَسْرِيحُ الْفَاجِرِ إلَّا إذَا خَافَا أَنْ لَا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَفَرَّقَا۔ترجمہ:مرد پر فاجرہ عورت کو طلاق دینا واجب نہیں اور نہ ہی عورت پر فاجر مرد سے طلاق لینا واجب ہے مگر جب ان دونوں کو خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گےتو ان دونوں کے علیحدہ ہونے میں کوئی حرج نہیں۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،ج:3:ص؛115)

    یوں ہی الدرالمختار مع ردالمحتار میں ہے:أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لَوْ مُؤْذِيَةً۔ترجمہ:اگر عورت مرد کو تکلیف پہنچاتی ہو(خواہ کسی بھی طریقے پر ہو) تواسے طلاق دینا مستحب ہے۔( الدر مختار ابنِ عابدین شامی،ج:3،ص:50)

    خلاصہ یہ ہے کہ فاجرہ عورت کو طلاق دینا واجب نہیں البتہ وہ اپنے گناہوں سے باز نہیں آتی تو اسے طلاق دینا مستحب ہےیعنی ثواب ہے۔اگر وہ صدقِ دل سے توبہ کر لیتی ہے تو مرد کو چاہئے کہ وہ اسےاپنے ساتھ رکھے۔۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 صفر المظفر 1441 ھ/19 اکتوبر 2019 ء