گھریلو لڑائی کی بنیاد پر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا
    تاریخ: 31 جنوری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 709

    سوال

    میری بیٹی کی شادی میرے بھانجے سے ہوئی ، جسکو 17 سال ہوچکے ہیں ۔لڑکا کئی سال سعودی میں جاب کرتا رہا ،پھر لیبیا میں دو سال قبل اسکا اور میری بیٹی کا کسی بات پر جھگڑا ہوا ،میری بیٹی اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ گھر آگئی ، دوسال تک میرے ساتھ رہی اسکے بعد دونوں کی آپس میں بات چیت کرکے شوہر کے گھر چلی گئی۔صرف پچاس دن بعد یہ معاملہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا آپس میں جھگڑا ہوا بیٹی پھر سے گھر آگئی ۔ وہ طلاق کا تقاضا کررہی ہے اسکا کہنا ہے کہ ہر وقت میری بےعزتی پر تلا رہتا ہے بےجا ظلم و ستم کرتا ہے ۔ اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی فرمادیں کہ طلاق لے سکتی ہے یا نہیں؟

    سائل:عبدالخالق:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مفتی کا کام پوچھے گئے سوال کا جواب دینا ہے واقعے کی تحقیق اس کے ذمے لازم نہیں ہے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کیا آپ کی بیٹی کے لیے وہاں چار دیواری اور پردہ داری کا انتظام ہے؟ نیز اسکا شوہر اس کے حقوْق مثلاًنان نفقہ و دیگر حق زوجیت ادا کر رہا ہے؟نیز بے جا سختی اور مار پیٹ کا سلسلہ تو نہیں ؟ چناچہ اگر مذکورہ باتو ں میں کوئی بات موجود ہے تو شوہر پر لازم ہے کہ آپ کی یہ پریشانی دور کر کے گھر بسایا جائے۔اور اگرمذکورہ تمام باتوں کے پیش نظر افہام و تفہیم سے بھی معاملہ حل نہیں ہوپارہاتو آپکی بیٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ شوہر سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرے ، پھر اگر شوہراسکو خلع یا طلاق دے دے تو آپکی بیٹی عدت گزارنے کے بعد کہیں اور جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہیں ۔لیکن جب تک شوہر خود طلاق یا خلع نہ دے نکاح قائم رہے گا اور آپ کی بیٹی بدستور انکی بیوی رہیں گی ۔

    اور اگر معاملہ اسکے برعکس ہے یعنی مذکورہ باتوں میں سے کوئی بات نہیں بلکہ طلاق کا مطالبہ محض انانیت ،اضافی سہولیات اور خواہشات،یا پسند نا پسند کی بنیاد پر ہے تو ایسی عورت روز محشر سخت گرفت کا شکار ہوسکتی ہے۔ بخاری میں حدیث پاک موجود ہے:وَعَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّی فَمَرَّ عَلَی النِّسَاء ِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ النِّسَاء ِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِی أُرِیتُکُنَّ أَکْثَرَأَہْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ: ترجمہ:روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے کہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید یاعِید الفطرمیں عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئےعورتوں کی جماعت پر گزرے تو فرمایا کہ اے بیبیو!خوب خیرات کرو کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تم زیادہ دوزخ والی ہو انہوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں؟ فرمایا تم لعن طعن زیادہ کرتی ہواور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔( بخاری ، باب ترک الحائض الصوم،حدیث نمبر304)

    سنن ابی داود، سنن ترمذی،اورمصنف ابن ابی شیبہ میں با الفاظ متقاربہ ہےوالفظ للاول:"أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ"ترجمہ:کوئی بھی عورت جو بغیر کسی وجہ کے اپنے زوج سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو(بھی )حرام ہے۔( سنن ابی داود باب الخلع ، رقم:۲۲۲۶،سنن ترمذی،باب ما جاء فی ا لمختلعۃ،رقم:۱۱۸۷،اورمصنف ابن ابی شیبہ ،باب ما کرہ من الکراہیت للنساء ان یطلبن،رقم:۱۹۲۵۸)

    فیض القدیر شرح جامع الصغیرمیں "باس"(یعنی وہ وجوہات جن کی وجہ سے عورت طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے )کی وضا حت ان الفاظ میں کی گئی ہے :والبأس الشدة أي في غير حالة شدة تدعوها وتلجئها إلى المفارقة كأن تخاف أن لا تقيم حدود الله فيما يجب عليها من حسن الصحبة وجميل العشرة لكراهتها له أو بأن يضارها لتنخلع منه"ترجمہ: باس سے مراد یہ ہے کہ ایسے سخت ترین حالات جو عورت کواس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ اپنے شوہر سے چھٹکارہ حاصل کرےکہ جب وہ ان چیزوں میں حدود اللہ کوقائم نہ کر سکتی ہو جن کی پاسداری واجب ہےمثلاعورت اپنےشوہر سے حسن معاشرت اور ایک اچھی صحبت قائم نہ کر سکتی ہو (جائز اور حقیقی بنیاد پر )نفرت کی وجہ سے یا مرد اس کواذیت دیتا رہے تاکہ وہ اس سے خلع حاصل کرے۔( فیض القدیر شرح جامع الصغیرباب الھمزہ،ج:۱، ص: ۱۳۸، طبع: المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :(وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا بِعَجْزِهِ عَنْهَا) بِأَنْوَاعِهَا الثَّلَاثَةِ (وَلَا بِعَدَمِ إيفَائِهِ) لَوْ غَائِبًا (حَقَّهَا وَلَوْ مُوسِرًا)ترجمہ:اور نفقہ سے عاجز آنے یا (غائب ہونے کی صورت میں )عورت کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں میاں بیوی کے مابین جدائی نہیں کی جائیگی ، اگر چہ شوہر صاحب حیثیت ہو۔

    اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں:(قَوْلُهُ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا بِعَجْزِهِ عَنْهَا) أَيْ غَائِبًا كَانَ أَوْ حَاضِرً:اترجمہ:شوہر موجود ہو یا غائب ہو دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختاروحاشیہ ابن عابدین ،کتاب النکاح ،مَطْلَبٌ فِي فَسْخِ النِّكَاحِ بِالْعَجْزِ عَنْ النَّفَقَةِ وَبِالْغَيْبَةِ،،جلد 3 ص590)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت خواہ عسرت کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب النکاح ،جلد 12 ص 511،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 ذوالقعدہ 1440 ھ/29 جولائی2019 ء