masjid mein madrasa ki fees lena
سوال
ا یک مسجد میں امام صاحب کی زیر نگرانی مدرسہ چل رہا ہے۔ اور وہ (امام مدرسہ کی ) فیس بھی لیتا ہے حالانکہ مفتی صاحب نے کہا بھی ہے یہ فیس لینا ناجائز ہے اس کے باوجود وہ فیس لے رہا ہے ۔ امر طلب یہ کے اس امام کے عمل کیا حکم ہوگا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ۔
نوٹ: علاقے میں تین سے چار مدارس موجود ہیں۔
سائل :محسن رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اصل مذہب میں مسجد (چاہے عین مسجد ہو یا فنائے مسجد) میں اجرت پر کسی قسم کی تعلیم جائز نہیں، کہ مسجد عبادت کیلئے بنائی گئی ہے، کاروبار جیسے دنیاوی مشغلہ کیلئے نہیں۔البتہ علمائے کرام نے موجودہ دور میں ضرورتا مسجد میں بالعوض دینی تعلیم کی اجازت دی ہے، کہ اگر اجازت نہ دی جائے تو دینی تعلیم کو ضائع کرنا لازم آئے گا ،اور اصول ہے کہ ’’الضرورات تبيح المحظورات‘‘ یعنی ضروریات ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں، لہذا جب مسجد میں بالعوض دینی تعلیم کی ضرورت متحقق ہوچکی تو ممانعت باقی نہ رہے گی۔ یہ شرائط بھی ملحوظ رہیں کہ (۱) مدرس سنی صحیح العقیدہ ہو، گمراہ بددین نہ ہو کہ کفر و گمراہی سکھائے ۔ (۲) ناسمجھ بچے نہ ہوں کہ مسجد کی بے ادبی کریں۔ (۳) مسجد کی جماعت پر جگہ تنگ نہ ہو کہ اصل مقصد مسجد جماعت فوت ہو جائے۔ (۴) شور و غل سے نمازی کو ایذا نہ پہنچے۔ (۵) مدرس یا طالب علم کسی کے بھی بیٹھنے سے جماعت میں قطع صف نہ ہو۔لہذا، شرائط رخصت کی موجودگی میں امام صاحب کا مدرسہ چلانا اور فیس لینا شرعا جائز ہے، لہذا ان کے پیچھے نماز پڑھنا بالکل صحیح اور بلا کراہت جائز ہے، جبکہ سائل پر بدگمانی اور توہین کی وجہ سے توبہ لازم ہے،کہ سنی صحیح العقیدہ امام کیلئے ’’فیس لیتا ہے، لے رہا ہے‘‘ جیسے رکیک اور بازاری جملے بولنا منصب امامت کی توہین اور سخت گناہ ہے، لہذا طعن و تشنیع کے بجائے اپنی زبان کی اصلاح کریں۔
یہاں یہ اشکال نہ ہو کہ تنخواہ لے کر مسجد میں تعلیم قرآن دینے کا جواز ضرورت کی وجہ سے تھا، اور علاقے میں ایک سے زائد مدارس کی وجہ وہ ضرورت مفقود ہے، لہذا حکم اپنی اصل پر لوٹے گا اور بالعوض تعلیم قرآن ناجائزہوگی۔ کیونکہ شرعی ضرورت کا تحقق تعداد سے متعلق نہیں ہوتا، بہتیرے مسائل میں تعدّد کے باوجود ضرورت متحقق مانی گئی، مثلاً: امامت کا مسئلہ کہ اس کی بھی اجرت میں جواز ضرورتاً آیا ہے، اب شہر تو دور ایک علاقے میں کئی مساجد ہوتی ہیں، جن میں ائمہ حضرات فرائضِ امامت کی اجرت وصول کرتے ہیں۔پس جس طرح منصبِ امامت تحفظِ دین اور شعائرِ اسلام کی بقاءمیں اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرح مدارس ہیں کہ یہیں سے حفاظ و قارئین نکلتے ہیں اور اس نظام کا بھی تنخواہ کے بغیر چلنا ممکن نہیں، لہذا بقائے دین کی خاطر اس میں رخصت دی جائے گی کہ یہی مقصودِ شرع ہے۔
دلائل و جزئیات:
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں: "الضرورات تبيح المحظورات".ترجمہ: شرعی ضروریات ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں۔(الاشباہ والنظائر لابن نجیم، ص73، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
تضیع دین کا خطرہ ممانعت میں جواز لاتا ہے، علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں: "ولا بأس بدفع المصحف إلى الصبيان لأن في المنع تضييع حفظ القرآن وفي الأمر بالتطهير حرجا بهم وهذا هو الصحيح".ترجمہ: قرآن مجید بچوں کو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ انہیں اس سے روکنے میں قرآن کو حفظ کرنے کا موقع ضائع کرنا ہے، اور انہیں ہمیشہ پاک رہنے کا حکم دینے میں ان کے لیے مشکل ہے اور یہی صحیح قول ہے۔(الہدایۃ، کتاب الطہارات، باب الحیض والاستحاضۃ، 1/33، دار احياء التراث العربی)
علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "(قوله ولا بأس بدفع المصحف إلى الصبيان) واللوح وإن كانوا محدثين لا يأثم المكلف الدافع كما يأثم بإلباس الصغير الحرير وسقيه الخمر وتوجيهه إلى القبلة في قضاء حاجته للضرورة في هذا الدفع فإن في أمرهم بالتطهير حرجا بينا لطول مسهم بطول الدرس، خلافا لمن كره تعليمهم بالدفع إليهم".ترجمہ: ماتن کا قول بچوں کو مصحف دینے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح تختی دینے (میں کوئی حرج نہیں)، اگرچہ وہ بے وضو ہی ہوں۔ بالغ جو انہیں یہ چیزیں دے گا وہ گنہگار نہیں ہو گا، جیسا کہ وہ نابالغ کو ریشم پہنانے، شراب پلانے، یا قضائے حاجت کیلئے قبلہ کی طرف رخ کرانے پر گنہگار ہوتا ہے۔ یہاں یہ (قرآن یا تختی) دینا اس ضرورت کی وجہ سے ہے کہ اگر ان کو وضو کا حکم دیا جائے تو ان کیلئے واضح حرج ہوگا، کیونکہ پڑھنے کا وقت طویل ہونے کے ساتھ ہاتھ لگانے کی ضرورت بھی طویل ہوتی ہے۔ یہ حکم ان فقیہ کے خلاف ہے جنہوں نے انہیں پڑھانے کی غرض سے قرآن دینے کو مکروہ قرار دیا ہے۔(فتح القدیر، کتاب الطہارات، باب الحیض والاستحاضۃ، 1/170، دار الفکر)
مسجد میں بالعوض دینی تعلیم دینے سے متعلق مجلس شرعی (مبارک پور، ہند) نے یہ شرعی فیصلہ دیا:’’مندوبین کا اتفاق ہے کہ جب شرعا ضرورت یا حاجت محقق ہو تو بہ صورت مذکورہ مسجد میں دینی تعلیم جائز ہے ، مگر اس کی کوشش ہونی چاہیے کہ جلد وسائل مہیا کر کے مسجد سے باہر کسی جگہ مدرسہ قائم کیا جائے اور الگ مدرسہ بنانے کی وسعت ہو جانے کے بعد مسجد کو با تنخواہ تعلیم کے کام میں نہ استعمال کیا جائے ‘‘۔ ( جدید مسائل پر علماء کی رائے اور فیصلے، 2/318، مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ ، ہند) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب