مسجد میں امام ،موذن اور خدام کے مالی حقوق
    تاریخ: 17 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 416

    سوال

    رمضان میں ستائیسویں شب کیلئے خاص چندہ کیا جاتا ہے ، جسے حافظ صاحب، امام صاحب، مؤذن صاحب اور رمضان میں خدمت کرنے والے افراد مثلاً چندہ اکھٹا کرنے والے(جو کہ عموما کمیٹی والوں کے رشتہ دار یا دوست ہوتے ہیں) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔کیا یہ چندہ ان افراد میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ اگر تقسیم کیا جاسکتا ہے تو کس تناسب سے؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر 27 ویں کا چندہ انہی امور کے لیے کیا جاتا ہے تو ان افراد میں تقسیم کیا جا سکتا ہے البتہ یہاں ترجیحات کا لحاظ ضروری ہے کہ امام موذن اور حافظ و سامع کو ترجیح دی جائے اور ان کے علاوہ کو ان کے بقدر کم دینا چاہیے ۔پھر اگر کوئی چندہ کرتا ہے اور اسے اسی چندے سے کچھ دیا جائے تو جائز نہیں کہ چندہ عموما مساجد میں ہوتا ہے اور مساجد میں اپنے لیے سوال حرام ہے،ہاں کسی اور کے لیے جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔اور تقسیم میں حافظ و سامع صاحبان کو امام و موذن کے مقابل بقدر زیادہ دیا جائے گا پھر امام کو موذن کے بقدر زیادہ ۔

    اپنے لئے مسجد میں سوال حرام ہے، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ ہمارے ہاں معمول ہے کہ نماز کے بعد، فاتحہ اخیرہ سے قبل، ایک شخص اٹھ کر مسجد میں مقتدیوں سے مسافروں اور مسکینوں کے لیے چندہ جمع کرتا ہے۔ اس کے بعد جمع شدہ رقم مستحقین میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ کیا اس طرح مسجد کے اندر چندہ جمع کرنا اور اس کا یہ طریقہ جائز ہے؟اس پر آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:’’ جائز ہے جبکہ وُہ چندہ کرنے والا خود اسمیں سے نہ لیتا ہو، بلکہ مسجد میں مسکین کے لیے اس طرح چندہ کرنا خود سنّت سے ثابت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 10/302، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اگر سوال ہو امام صاحب بھی چندے کا اعلان کرتے ہیں اور بعد میں انہیں بھی اس چندہ سے رقم ملتی ہے تو انہیں بھی یہ لینا جائز نہیں ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال نہیں کہ سوال بغیر کوئی عوض دئے کیا جاتا ہے جبکہ امام صاحب امامت و خطابت میں اپنا وقت دیتے ہیں۔پھر یہ بے جا تحفہ کا تقاضا بھی نہیں جسے مروّت کے خلاف قرار دیا جائے کہ اعلان میں مراد مسجد کی خدمت کرنے والے ہوتے ہیں محض امام نہیں اور ہمارے معاشرے میں اسے خلافِ مروّت سمجھا بھی نہیں جاتا ۔

    یاد رہے حافظ صاحب کو چند صورتوں میں چندہ سے مال دیا جا سکتا ہے مثلاً جب پہلے سے یہ مال دینا صراحتاً یا عرفاً طے نہ ہو یا صراحتا کہہ دیا جائے کہ کچھ نہیں دیا جائے گا یا حافظ صاحب خود کہہ دیں کہ کچھ نہیں لوں گا یہ صورت جواز کی ہے، وگرنہ طاعات پر اجارہ ناجائز ہے ۔

    تراویح کی اجرت سے متعلق صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ يہ ليں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیْحُ يُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ۔ (بہار شریعت ،1/692، مکتبۃ المدینہ کراچی)

    اسی طرح اگر محض عشاء کی نماز کیلئے حافظ صاحب کو اجرت پر رکھا جائے اور ضمناً وہ تراویح پڑھادیں (یاد رہے کہ پورے رمضان نماز عشاء کی امامت کی چھٹی کے سبب امام صاحب کو مسجد کے چندے سے اس ماہ کی عشا کی نمازوں کی تنخواہ دے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں اسی طرح کا عرف یعنی معمول جاری ہے) ۔یا پھر وقت کا اجارہ کرلیں مثلاً 2 گھنٹے کیلئے اجیر رکھ لیں کہ تراویح میں عموما اتنا ہی وقت لگتا ہے تو ان صورتوں میں بھی حافظ صاحب کی باقاعدہ تنخواہ بھی حلال ہوگی۔

    طاعات کے اجارہ کے سے متعلق حیلہ شرعی کے بیان میں امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی پر اُجرت لینادینا دونوں حرام ہے، لینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں کما حققہ فی ردالمحتار وشفاء العلیل وغیرھا (جیسا کہ فتاوٰی شامی، شفاء العلیل او ردیگر کتب میں اس کی تحقیق فرمائی گئی) اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اموات کو بھیجے گا، گناہ پرثواب کی امید اور زیادہ سخت واشد ہے کما فی الھندیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقد شدد العلماء فی ھذا ابلغ تشدید(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہے، علماء کرام نے اس مسئلہ میں بہت شدّت برتی ہے) ہاں اگر لوگ چاہیں کہ ایصال ثواب بھی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دوگھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اتنی دیر کی ہرشخص کی معین کردیں مثلاً پڑھوانے والا کہے میں نے تجھے آج فلاں وقت سے فلاں وقت تک کے لئے اس قدر اجرت پرنوکر رکھا جو کام چاہوں گا لُوں گا وہ کہے میں قبول کیا، اب اتنی دیر کے واسطے اس کا اجیرہوگیا جو کام چاہے لے سکتاہے اس کے بعد اس سے کہے فلاں میّت کے لئے اتنا قرآن عظیم یا اس قدر کلمہ طیبہ یا درود شریف پڑھ دو، یہ صورت جواز کی ہے۔ (فتاوی رضویہ، 23/537، رضا فاؤنڈیشن لاہور)