سوال
میری بیوی سے میری دو دن کے لیے ایک بات پر لڑائی ہوئی تھی جس بات پر مجھے میری بیوی نے کہا اب میں آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی اور نہ ہی مجھے آپ کے گھر آنا ہے تو میں نے اپنی بیوی کو کہا ’’کہ کیا میں تمہیں طلاق ،طلاق ، طلاق دوں‘‘ ۔ اب آپ مجھے اس بات کا جواب دیں میں اپنا گھر نہیں توڑنا چاہتا میری شادی کو ابھی ایک سال ہی ہوا مجھے امید ہے کہ آپ مجھے اچھا ہی جواب دیں گے۔
نوٹ :شوہر کی وائس بھیجی گئی جس میں اس نے یہ الفاظ بولے ]طلاق،طلاق،طلاق،کیونکہ جو تم نے کرنا تھا وہ عزت تم نے خراب کر دی تم نے الزام لگا دیا تم مجھ سے ایک مرتبہ پوچھتی کہ واٹس ایپ پر تم نے کس سے باتیں کی ہیں[ ہمیں بیوی کی طرف سے ایک میسج بھی بھیجا گیا جس میں میں یہ مضمون تحریر شدہ ہے ] اب طلاق ،طلاق،طلاق یہ کہہ دیا میں نے[۔
شوہر سے رابطہ ہوا شوہرنے اقرار کیا جی یہ وائس بھی میری ہے اور جو بیوی کو میسج کیا وہ بھی میرا ہے ان الفاظ سے میری مراد بیوی کو طلاق دینا ہی تھی بیوی بھی ان سب باتو ں کی تصدیق کرتی ہے ۔ سائل : عبد القادر بمعرفت مولانا فیصل صاحب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ عورت کو تین طلاق واقع ہو چکی ہیں، مرد پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے تین اکٹھی طلاقیں دینے کی بنا پر مرد گناہ گار بھی ہوا ۔ جب سے طلاق دی، اسی وقت سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے۔ اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، الا یہ کہ حلالۂ شرعیہ پایا جائے ۔
اس امر کی تفصیل یہ ہے کہ سائل نے جو سوال میں تحریر پیش کی، اس میں یہ الفاظ مذکور ہیں کہ"تو میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ کیا میں تمہیں طلاق، طلاق، طلاق دوں"تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ ان الفاظ میں شوہر نے استفہامیہ طور پر پوچھا ہے کہ کیا میں تمہیں طلاق ،طلاق ،طلاق دوں ،تو فقط پوچھنے سے یاطلاق کی دھمکی دینے یا مستقبل میں طلاق دینے کے ارادے سے طلاق واقع نہیں ہوتی کیونکہ طلاق کے لیے انشاءِ طلاق (یعنی طلاق کا واقع کرنا) ضروری ہوتا ہے جو کہ یہاں نہیں پایا جاتا ۔
بہرحال یہ تو اس تحریر کا جواب تھا جو میں نے عرض کیا لیکن جب شوہر کی وائس ریکارڈنگ سنی گئی اور جو اس نے میسج بھیجا، یہ معاملہ تو تحریر کے بالکل خلاف نکلا تحریر میں الفاظ تھے کہ ’’ کیا میں تمہیں طلاق ،طلاق ،طلاق دوں ‘‘ لیکن وائس ریکارڈنگجو سنی گئی تو اس میں شوہر نے تین مرتبہ "طلاق، طلاق، طلاق" کے الفاظ بولے اور میسج میں بھی یہی الفاظ لکھ دیے کہ: میں نے طلاق، طلاق، طلاق کہہ دیا ہے" اور خود شوہر بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے اور بیوی بھی ان ساری باتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔
جیساکہ میں نے ابھی ذکر کیا کہ طلاق کے لیے ایقاع (طلاق کا واقع کرنا) ضروری ہے، تو ایقاع بغیر وقوع کے ممکن نہیں۔ اور وقوعِ طلاق کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کی نسبت لفظوں میں یا نیت میں عورت کی طرف ہو، وگرنہ محض "طلاق" کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن نے اس باب کی مکمل تفصیل اپنے فتاویٰ اور "جد الممتار" میں شرح و بسط کے ساتھ ذکر فرمائی ہے، جس کا دلائل و جزئیات میں حوالہ دیا جائے گا۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن نے اضافت کی تین صورتیں بیان فرمائیں، پھر اس کے بعد آپ نے قضاءً اضافتِ لفظی کی دو صورتیں ذکر فرمائیں، جن میں پہلی یہ ہے:
اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے جو نیتِ طلاق کے تحقق پر دلالت کرے، تو اس قرینہ کے پائے جانے کی وجہ سے طلاق کے واقع ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔ ہاں، اگر شوہر کہے کہ میری مراد طلاق دینے کی نہیں تھی، تو قسم کے ساتھ اس کے بیان کی تصدیق کی جائے گی۔
لہٰذا، یہاں شوہر کے کلام میں قضاءً اضافتِ لفظی کی پہلی قسم پائی جا رہی ہے، کیونکہ وائس پر بیوی سے بات ہو رہی ہے اور بیوی ہی سے مخاطب ہو کر شوہر کہہ رہا ہے: "طلاق، طلاق، طلاق، کیونکہ جو تم نے کرنا تھا وہ عزت تم نے خراب کر دی۔"بیوی سے ہی بات کرنا اور بیوی کو مخاطب کرکے یہ الفاظ کہنا اس بات کا قرینہ ہے کہ طلاق بیوی ہی کو دی گئی ہے، اور شوہر بھی اقرار کرتا ہے کہ میری مراد ان الفاظ سے بیوی کو طلاق دینا تھی۔ لہذا تین طلاق واقع ہوچکی ہیں حرمت مغلظہ کے ساتھ عورت مرد پر حرام ہوچکی ہے ۔
دلائل جزئیات :
اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے '' اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ-فَاِمْسَاكٌۢبِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ'' ترجمہ کنزالایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔(البقرہ:229)۔
شوہر جب تین طلاقیں دے عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے جماع بھی پایا جائے دوسرا طلاق دے تو عورت پہلے مرد کے لیے حلال ہو جائے گی اس بارے اللہ تعالٰی کا فرمان مقدس ہے ’’فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَ" ترجمہ کنز الایمان : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تواب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ (البقرہ:۲۳۰)۔
محض وعدہ اور ارادہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس بارے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی ا عظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: اگر واقعی میں یہی الفاظ کہے تھے" کہ طلاق دے دوں گا" تو طلاق واقع نہ ہوئی کہ یہ طلاق دینا نہیں ہے بلکہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے اور محض اس ارادہ یا و عددپہ طلاق نہیں ہوتی۔ " لان هذا الفظ متعين لاستقبال ولایقع به الطلاق کمافی الفتاوی الخیر یۃ و غیر ها"(فتاوی امجدیہ ،جلد:۲،صفحہ :۱۷۱،مکتبہ رضویہ آرام باغ )
ایک اور مقام پہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں " عورت سے کہا تجھے طلاق دیتا ہوں یا کہا تو مطلقہ ہو جا تو طلاق ہو گئی مگر یہ لفظ کہ طلاق دیتا ہوں یا چھوڑتا ہوں اس کے یہ معنے لیے کہ طلاق دینا چاہتا ہوں یا چھوڑ نا چاہتا ہوں تو دیانتہً نہ ہوگی قضاء ہو جائیگی۔ اور اگر یہ لفظ کہا کہ چھوڑے دیتا ہوں تو طلاق نہ ہوئی کہ یہ لفظ قصد وارادہ کے لیے ہے۔(بہار شریعت،جلد:۸،حصہ:ہشتم،صفحہ:،مکتبۃ المدینہ۱۱۹)
طلاق کے لیے ایقاع ضرور ی اور ایقاع کے لیے نسبت ضروری ہے سیدی اعلیٰ حضرت نے اس باب کی مکمل تفصیل اپنے فتاویٰ و جد الممتار میں شرح و بسط سے ذکر فرمائی ہے چناچہ آپ رقمطراز ہیں :وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ، فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ،مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد۔ترجمہ: کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبتِ لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن قضاءً اضافت لفظی کی صورت کو بیانکرتے ہوئے جد الممتار میں فرماتے ہیں ’’ امّا قضاءً فتنقسسم هذه الصورة الی قسمین :الاوّل ٱن توجد هنا قرينة لیستآنس بها علي تحقق النیة ،و یکون هو الاظهر في المقام ،فیحینئذٍ یحکم بالوقوع مالم یقل : اني لم ارد ها '' ،فان قاله فلا یصدق الا بالیمین ،فان حلف صدق ؛ لکونه امینا فی الاخبار عنها فی نفسه ،وقد اٱتی مما یحتمله کلامه و هذا ما قال فی الهندية عن الخلاصة ۔اه ترجمہ : ’باقی رہا قضاءً اضافت لفظی یہ دو قسموں کی طرف تقسیم ہو جاتی ہے:پہلی قسم یہ ہے کہ یہاں کوئی قرینہ موجود ہو جو نیت کے تحقق پر دلالت کرے اور وہ اس مقام میں ظاہر اور نمایاں ہو۔ تو اس صورت میں طلاق کے وقوع کا حکم دیا جائے گا، جب تک کہ وہ شخص یہ نہ کہے: ’’میں نے اس سے طلاق مراد نہیں لی تھی ‘‘۔پس اگر وہ یہ کہے یعنی میں طلاق مراد نہیں لی تو قسم کے ساتھ ہی اس کی بات کی تصدیق کی جائے گی ، اگر قسم وہ قسم کھائے اسےتو اب بات کی تصدیق کی جائے گی ؛ کیونکہ وہ اپنی نیت کے بارے میں اطلاع دینے میں امین ہے، اور اس کا بیان ایسا ہے جو اس کے کلام کے احتمال رکھنے والے معانی میں سے ایک ہو سکتا ہے۔یہی بات الہندیہ میں 'الخلاصة' کے حوالے سے بیان کی گئی ہے( جد الممتار علي رد المحتار ،کتاب الطلاق ،باب الصریح ، ج :5ص: 77 ، دار اهل السنة )۔واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:27 شعبا ن المعظم 1446 ھ/26فروری 2024