سوال
ایک علاقے میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کی بعد میں توسیع کر دی گئی۔ پرانی مسجد کی جگہ اب موجودہ مسجد کےصحن میں آتی ہے ، مسجد کے لیے جو زمین بڑھائی گئی تھی وہ ایک ایسے شخص نے دی تھی جو اسی زمین کا واقف بھی ہے اور مسجد کا متولی بھی ہے۔ مسجد کا مکمل انتظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔جب مسجد کی توسیع کی گئی ،آگے عمارت بنائی گئی ، اس پر لینٹر ڈالتے وقت واقف نے یہ نیت کی کہ اس کے اوپر مدرسہ بنےگا۔
سڑک کی جانب تین دکانیں بھی تعمیر کی گئیں یہ مسجد کی حدود میں نہیں۔ یہ دکانیں اس نیت سے تعمیر کی گئی کہ اس کی جو آمدنی آئے گی وہ مدرسے پر لگائی جائے گی ۔ انہی دکانوں کے اوپر ’’مدرسہ‘‘ کے نام سے ملنے والی فنڈنگ کے ذریعے امام کا حجرہ، واش روم، وضوخانہ وغیرہ تعمیر کیا گیا تاکہ مستقبل میں مدرسے کے کام آسکے۔
1. کیا محض واقف کی نیت کی بنیاد پر، جب مسجدیت مکمل ہوچکی تھی تومسجد کے اوپر مدرسہ تعمیر کرنا جائز ہے؟
2. موجودہ صورت میں مدرسہ مسجد کے اندر ہی قائم ہے اور امام وہیں مدرس ہے۔ کیا اس امام/مدرس کی تنخواہ مسجد کے زکوٰۃ فنڈ سے ادا کی جاسکتی ہے؟
نوٹ:مسجد کی توسیع کے لیے جو زمین دی اسے مسجد میں شامل کرنے کی نیت سے دی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ مسجد کی توسیع کے لیے جو زمین دی گئی، دینے والے کی نیت اسے مسجد میں شامل کرنے کی تھی تو اس سے یہ جگہ مسجد بن گئی۔ لہذا اس کے عمارت بناتے وقت چھت پر لینٹر ڈالتے وقت اس پر مدرسہ بنانے کی نیت کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ وقف میں تبدیلی ہے،اور وقف میں تبدیلی جائز نہیں ہے۔ہاں ضرورت کے پیش نظر مسجد میں یا اس کی چھت پر دینی تعلیم دی جاسکتی ہے ۔
مدرسے کے لیے جو دکانیں اس نیت سے تعمیر کی گئیں کہ ان کی آمدنی مدرسے پر خرچ کی جائے گی، تو ان دکانوں کی آمدنی کا مصرف بھی صرف مدرسہ ہی رہے گا۔ اس آمدنی کو مدرسہ کے علاوہ کسی اور جگہ خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
جہاں تک امام/مدرس کی زکوٰۃ فنڈ سے رقم دینے کا تعلق ہے، تو زکوٰۃ صرف اسی صورت میں ادا ہوتی ہے جب یہ کسی فقیرِ شرعی کوبغیر استحقاقِ اجرت دی جائے۔ اگر امام صاحب فقیرِ شرعی ہیں تو انہیں اجرت کے ماسوا بطور امداد زکوٰۃ فنڈ سے رقم دینا درست ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ فقیرِ شرعی نہیں ہیں تو ان پر زکوٰۃ خرچ کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اس سے زکوٰۃ ادا ہوگی۔یہ بات بھی واضح رہے کہ زکوٰۃ سے دی گئی رقم کو امام یا مدرس کی تنخواہ شمار نہیں کی جائےگی، بلکہ فقیرشرعی ہونے کی وجہ سے انہیں دی جائے گی۔ امام یا مدرس کی جو باقاعدہ تنخواہ مقرر ہے، اس کا علیحدہ سے ادا کرنا شرعاً واجب اور ضروری ہے ۔
وقف شدہ چیز پر اگر اسی میں سے کچھ بنایا جائے جس کے لیے وقف کیاس وتو یہ جائز ہے اس بارے 'فتاوی ہندیہ' میں ہے :’’البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية‘‘.ترجمہ:جب زمین کو کسی جہت (یعنی ادارے یا دینی مقصد)پر وقف کی جائے اگر کوئی شخص اس میں کوئی عمارت بنائے اور پھر اسے اسی جہت پر وقف کر دے، تو یہ بغیر کسی کے اختلاف کے جائز ہے کیونکہ وہ پہلے وقف کی تابع ہے۔اور اگر وہ اسے کسی دوسری جہت پر وقف کرے تو اس کے جواز میں فقہاء نےاختلاف کیاہے، اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ جائز نہیں۔ اسی طرح 'الغياثیة' میں مذکور ہے۔(الفتاوی الہندیہ، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع،ج:2،ص:362،دار الفکر بیرروت)
وقف کی تبدیل جائز نہیں اس بارے ' فتاوٰی ہندیہ 'میں ہے:’’لا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلايجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف‘‘.ترجمہ:وقف کواس کی ہیئت سے تبدیل کرنا،جائز نہیں، لہذا گھر کو باغ بنانا ، سرائے کو حمام بنانا او ر ر باط کو دکان بنانا ،جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کرسکتاہو، جس میں وقف کی مصلحت ہو، توجائز ہے۔(الفتاوٰى الھندیہ،الباب الرابع عشر في المتفرقات،ج:2،ص:490،دارالفکر بیروت)
اسی بارے اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:”مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے، وقف مالک حقیقی کی مِلک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔(فتاوی رضویہ، جلد16 ،صفحہ 232،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
کسی جگہ کے مسجد ہو جانے کے بعد اس پر عمارت بنانا جائز نہیں اس کے متعلق علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ” لو بنی فوقه بيتا للإمام لا يضر ، لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية، ثم أراد البناء منع، ولو قال: عنيت ذلك لم يصدق، تتارخانية. فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره، فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه، ولا أن يجعل شيئًا منه مستغلا و لا سکنی بزازیة۔ ترجمہ : اگر امام کے لیے مسجد کے اوپر یعنی چھت پر کوئی کمرہ بنایا تو کوئی حرج نہیں ؛کیونکہ امام کے لیے کمرہ (رہائش ) مصالح مسجد میں سے ہے ۔ اگر مسجدیت تام ہو جائے پھر واقف امام کے لیے کمرہ بنانے کا ارادہ کرے تو اسے روکا جائے گا، اگر واقف کہے کہ میں نے ارادہ پہلے سے کیا تھا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی تاتارخانیہ میں یہ ہے۔ بہر حال جب ایسا کرنا واقف کے لیے جائز نہیں تو واقف کے علاوہ کے لیے کیسا جائز ہو سکتا ہے یعنی واقف کے علاوہ کے لیے تو بطریق اولی منع ہے تو اس بنائی ہوئی عمارت کو گرانا ضروری ہے اگر چہ صرف مسجد کی دیوار پر ہو اس سے اجرت لینا جائز نہیں ( یعنی مسجد کی چھت پر رکھنے کی ) اور مسجد کی کسی بھی چیز کو کرائے کے لیے بنانا یا رہائش بنانا بھی جائز نہیں۔(رد المحتار ،كتاب الوقف،فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد،ج:4،ص:358،دار الفکر بیروت )
زکوۃ کسی فقیر شرعی کو دی جائے اس بارے تنویر ابصار مع الدر المختارمیں ہے :تملیک جزء مال عینه الشارع من مسلم فقیر غیر هاشمی و لا مولاه ۔ترجمہ:مال کے ایک حصے کا مسلم فقیر جو ہاشمی اور ہاشی کا غلام نہ ہوکو مالک بنا دینا جس کو شارع نے متعین کیا ہو ا ۔۔(رد المحتار،کتاب الزکاة،ج:3،ص:172،مکتبہ امدادیہ)
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 29جمادی الاولی 1447 ھ/21نومبر 202ء