سادہ کاغذ پر بیوی کو طلاق کے الفاظ لکھ کر بھیج دینے کا حکم
    تاریخ: 15 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 37
    حوالہ: 415

    سوال

    گھر میں لڑائی ہو گئی تھی تو میری بیٹی گھرآگئی سا س و سُسر کی وجہ سے گھر آنے کے بارہ دن بعد طلاق کا نوٹس بھیجا جس پہ شوہر کے دستخط موجود تھے اس کے بعد میرے داماد نے میری بیٹی اور نواسی کی خبر تک نہیں لی میری بیٹی نے ہی بات کی داماد بولتا ہے میں رکھنا نہیں چاہتا پھر اس کے بعد کو ئی کمپرومائز (Compromise) بھی نہیں ہے اب ا تنا عرصہ ہوگیا ہے پانچ مہینے ہو گئے ہیں اس دوران کوئی رابطہ نہیں اب بولتا آجا گھر والوں سے رشتہ ختم کر کے تمہیں رکھو گا میری بیٹی جانا نہیں چاہتی داماد بار بار طلاق کی دھمکی دیتا ہے آپ بتائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں شوہر نے خود سے رابطہ نہیں کیا ۔

    نوٹ :شوہر نے جو طلاق کا نوٹس بھیجا وہ عام و سادہ سا کاغذ تھا اسٹامپ پیپر نہیں تھا مرد اقرار کرتا ہے کہ میں نے نو ٹس بھیجا جس پہ لکھا تھا 'میں تمہیں ایک طلاقدیتا ہوں ‘‘سائن بھی کیے لیکن حلفاً کہتا ہے اس سے میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی نہ تھی بلکہ ڈرانے و دھمکانے کی تھی ۔

    سائل: عبد اللہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ عورت پر قضاءً ایک طلاق واقع ہو چکی ہے دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہے اگر رجوع نہیں کیا تو ایک بائن ہو جائے گی جس سے نکاح ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد اگر دونوں فریقین دوبارہ گھر بسانا چاہیں تو شرعی طور پر بغیر تحلیل شرعی کے، گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مرد کو صرف دو طلاقوں کا حق رہے گا .مدخولہ عورت کی عدت تین حیض ہے، حیض نہ آتے ہوں تو تین ماہ عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہے تو ہر صورت میں اسکی عدت وضعِ حمل ہے یعنی جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے اس وقت تک عدت ہے۔

    مزید تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ مرد نے سادہ و عام کاغذ پر لکھا کہ میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہو تو یہ کتابت غیر مرسومہ ہے کتابت غیر مرسومہ بمنزل کنایہ کے ہے اس کے لیے نیت طلاق کا ہونا ضروری ہے لیکن جب شوہر نے وہ نوٹس بیوی کی طرف بھیج دیا تو قضاءً وقوع طلاق کا حکم لگایا جائے گا نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ جب شوہر نوٹس (عام کاغذ پر لکھ کر)بھیج دیتا ہے اسے لکھ کر اپنے پاس نہیں رکھتا تو عموما ً اس کی نیت طلاق دینا ہی ہوتی ہےڈرانا یا دھمکا نا نہیں ہوتی نیز مرد کا یہ کہنا کہ میں رکھنا نہیں چاہتا یہ لغو ہے اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اگرچہ نیت طلاق بھی کرے ۔

    دلائل وجزئیات :

    اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے '' اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ-فَاِمْسَاكٌۢبِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ'' ترجمہ کنزالایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔(البقرہ:229)۔

    جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، یونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے اس بارے ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے. ۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد:6،صفحه: 410،مكتبه دار الفكر بيروت)۔

    کتابۃ غیرمرسومہ میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہے اس بارےرد المحتار میں ہے "الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ۔۔وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو۔ ترجمہ : تحریر دو اقسام کی ہوتی ہے: مرسومہ اور غیر مرسومہ ۔مرسومہ سے مراد وہ تحریر ہے جس کا عنوان اور تمہید ہو ، جیسے کہ کسی کو خط لکھا جائے ۔ جبکہ غیر مرسومہ سے مراد وہ تحریر ہے جس کا عنوان اور تمہید نہ ہو ، اور اگر تحریرمستبینہ ہے لیکن مرسومہ نہیں اگر طلاق کی نیت کرے گا تو ہو جائے گی اگر نہیں کرے گا تو نہیں ہوگی ، اگر مر سومہ ہے نیت کرے یا نہ کرے طلاق ہو جائے گی ۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الطلاق،ج:۴،ص:۴۵۶،مکتبہ امدادیہ )

    رجعی طلاق عدت گزرنے کے بعد بائن ہو جاتی ہے اس بارے ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں ’’ فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا‘‘ ترجمہ :اگر مرد نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی سے رجوع نہیں کیا بلکہ اسے چھوڑے رہا یہاں تک کے بیوی کی عدت ختم ہو گئی تو طلاق بائن ہو جائے گی ۔( البدائع الصنائع ،کتاب الطلاق ،فصل فی بیان حکم الطلاق،جلد:3،صفحہ:180،دارا لکتب العلمیہ )

    اسی بارے علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی :1252ھ) میں ہے ’’ والرجعی لا یزیل الملك الا بعد مضی العدۃ‘‘ ترجمہ : رجعی طلاق ملکیت کو زائل نہیں کرتی مگر عدت گزرنے کے بعد ملکیت کو ختم کر دیتی ہے ۔( رد المحتار ، کتاب الطلاق ،باب الرجعۃ ،ج:3،ص:441،دار الفکر بیروت)

    مطلقہ عورت کی عدت کے متعلق علامہ علاؤ الدین سمرقندی (المتوفی:540ھ) فرماتے ہیں ’’ وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن }۔ تر جمہ: طلاق کی عدت ان عورتوں کے حق میں جو حیض والی ہیں، تین حیض ہے، بشرطیکہ وہ آزاد ہوں۔ حاملہ عورت کے حق میں اس کی عدت بچے کی پیدائش ہے، اس میں مطلقہ عورت کے معاملے میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا ظاہر یہی ہے: "اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا بچہ جنم دینے تک ہے"( تحفة الفقهاء،كتاب الطلاق، باب العدة،جلد:2،صفحہ:234، دا رالکتب العلمیة)

    فتاوی ہندیہ میں ہے ’’ إذا قال: لاأريدك أو لاأحبك أو لاأشتهيك أو لا رغبة لي فيك؛ فإنه لايقع وإن نوى في قول أبي حنيفة -رحمه الله تعالى-، كذا في البحر الرائق۔ ترجمہ: "اگر شوہر کہے’’میں تمہیں نہیں چاہتا"یا 'تم سے محبت نہیں کرتا" یا 'تمہاری خواہش نہیں کرتا' یا 'تم میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے" تو انالفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اگر چہ شوہر ان سے طلاق کی نیت بھی کرے ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق ایسا ہی "البحر الرائق" میں بیان کیا گیا ہے۔.و الله تعالى اعلم بالصواب