سوال
(۱)حضور نے فرما یا: ’’لا نکاح الا بولی‘‘ ولی کے بغیرنکاح نہیں ہے،جبکہ احناف کہتے ہیں کہ کفو میں جائز ہے۔تو احناف نے جوکفو بیان کیا یہ کسی دلیل سے ہے؟
(۲) کفو میں کیا کیا چیزیں ہیں، کن چیزوں کا اعتبار ہوگا ؟ کفو میں عورت کا اعتبار ہوگا یا مرد کا ؟ہمارے علاقے میں ایک برادری کی بڑی بڑی جماعتیں رہتی ہیں لیکن ان کے پیشے مختلف ہیں ۔مثلاً سب اعوان ہیں،پیشہ کوئی زمینداری کا رکھتا ہے،کوئی جوتے مرمت کرتے ہیں،کوئی حجام ہے۔
(۳)اگر ایک پیشہ والا دوسرے پیشے والے سے کورٹ میرج کر لیتا ہے تو اسکا کیا حکم ہے نکاح ہوا یا نہیں؟
(۴)بعض بستیاں ایسی ہیں جو اپنی لڑائیوں اور فراڈ کی وجہ سے بد نام ہیں جن سے کوئی بھی شادی کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اگر کوئی عورت ان کی طرف بغیر ولی کے نکاح کرلے تو کیا حکم ہے ؟
سائل: علامہ محمد کمال خان (فتح جنگ اٹک)۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱) اس قسم کی روایات کا تعلق نابالغہ ، مجنون اور باندی سے ہے، یعنی ایسی عورتوں کا نکاح انکے ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔اگر اس روایت کے ظاہری الفاظ کو لیں تو یہ روایت نفیِ کمال پر محمول ہوگی کہ اصل نکاح منعقد ہوجائے گا، لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ عورت ولی کی اجازت سے اپنا نکاح کرے۔پھر محدثین کرام نے بھی اِن روایات کی فنی حیثیت پر کلام ہے، کہ یہ روایات اس درجہ کی نہیں ہیں کہ انہیں امام اعظم رحمہ اللہ کے موقف کے مقابلے میں بطور دلیل اختیار کیا جا سکے۔جس کی تفصیل عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں موجود ہے۔
یہاں یہ خیال درست نہیں کہ ہر لڑکی کا نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتااور اسکے نکاح میں ولی کا ہونا لازم ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزّت نے نکاح کرنے کی نسبت عورت کی طرف کی نہ کہ ولی کی طرف۔چنانچہ ارشاد ہوا : حَتَّى تَنْكِحَ.یعنی حتی کہ وہ عورت نکاح کرے۔(البقرۃ:230) پھر صحیح مسلم کی روایت ہے کہ( ’’ایم‘‘)وہ عورت جس کا کوئی شوہر نہ ہو خواہ وہ باکرہ ہو یا نہ ہو)بالغہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے۔
نیز غیر کفو میں بالغہ عورت کے نکاح کا باطل ہونا ان روایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ فسادِ زمان کی وجہ سے ہے۔
مزید یہ کہ کفو کی دلیل رسول اللہﷺ کے فرامین ہیں کہ ’’عورتوں کا نکاح صرف اپنے کفو کے لوگوں سے کرو‘‘۔اسی طرح مسند بزار کی روایت ہےکہ فرمایا ’’بعض عرب بعض کے کفو ہیں‘‘۔جامع ترمذی کی روایت ہے’’اگر ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کا دین و اخلاق تمہیں پسند ہوتو (بطور ولی)تم اس کا نکاح کردو‘‘۔دوسری روایت میں آیا کہ ’’جب بے شوہر والی کا کفو مل جائے تو نکاح میں تاخیر نہ کرو‘‘۔
معلوم ہوا کہ نکاح میں کفو (یعنی برابری) کا اعتبار لازم ہے،اس لئے کہ کفو نہ ہونے کی صورت میں مصالحِ نکاح تلف ہو جائیں گے، کیونکہ مصالحِ نکاح استفراش سے حاصل ہوتے ہیں ، اور عورت غیر کفو کے استفراش سے راضی نہیں ہوتی ،اسے عار سمجھتی ہے۔پھر کفو نہ ہونے کی وجہ سے زوجین کے درمیان سے شکر رنجیاں ہوتی رہتی ہیں، اور انہیں برداشت کئے بغیر نکاح باقی نہیں رہ سکتا ۔ غیر کفو کی ایسی باتوں کو سہنا نہایت دشوار ہوتا ہے ۔ لہذا کفو نہ ہونے کی صورت میں نکاح برقرار نہیں رہ سکے گا ، اس لئے کفو کا اعتبار لازم ہے۔
(۲) کفومیں پانچ چیزوں کا اعتبار کیا جاتا ہے: (۱)مذہب۔ (۲)نسب۔ (۳)پیشہ۔ (۴)مال۔(۵)دیانت یعنی چال چلن۔
اور یہ اعتبار مرد میں ہوتا ہے کہ وہ ان چیزوں میں ایسا ہو کہ عورت کے اولیاء کیلئے باعثِ عار نہ ہو،جبکہ عورت میں کفو کا اعتبار نہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ مرد کسی عورت کو فراش بنانے کو عار نہیں سمجھتا اور کفو کا مقصد مسلمان کو عار سے بچانا ہے۔پھر پیشے کا مختلف ہونا کفو کو مانع نہیں البتہ پیشہ ایسا نہ ہو جو عرف میں باعثِ عار ہو۔
(۳) اگر مرد کا پیشہ ایسا ہے جس پر اولیاءِ زَن کو اعتراض نہ ہو اور نکاح شرعی تقاضوں (یعنی ایجاب و قبول اور گواہان) کے مطابق ہو تو جائز ہے۔البتہ والدین کو ناراض کرکے شادی کرنا سخت محرومی وناراضی الہٰی کا باعث ہے۔
(۴)اگر ان افراد کا چال چلن واقعی ایسا ہو کہ کسی بھی ولی کیلئے اپنی بیٹی کا ان افراد سے نکاح کرنا باعث ِعار ہو تو نکاح سرے سے باطل ہوگا،چاہے ولی نے منع نہ کیا ہو یا اسکے مرضی کے خلاف نہ ہو۔البتہ اگر نکاح سے پہلے ولی واضح طور پر بیٹی کو اجازت دے دے تونکاح جائز ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
صحیح مسلم کی روایت ہےکہ حضور ﷺنے فرمایا: "الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا".ترجمہ: ایم اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے۔(صحیح مسلم،کتاب النکاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق،2/1037،رقم:1421،دار احیاء التراث العربی)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَالْأَيِّمُ مَنْ لَا زَوْجَ لَهَا بِكْرًا أَوْ لَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلْوَلِيِّ إلَّا مُبَاشَرَةُ الْعَقْدِ إذَا رَضِيَتْ وَقَدْ جَعَلَهَا أَحَقَّ مِنْهُ بِهِ".ترجمہ:الایم وہ عورت ہے جس کا کوئی شوہر نہ ہو خواہ وہ باکرہ ہو یا نہ ہو، کیونکہ ولی اسی صورت میں اس کا عقد کر سکتا ہے جب وہ راضی ہو۔ شریعت نے اِسے اپنے نکاح کا حقدار ولی سے زیادہ بنایا ہے۔(رد المحتار،کتاب النکاح،باب الولی،3/56،دار الفکر)
امام ابو الحسن علی الدارقطنی رحمہ اللہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"لَا تُنْكِحُوا النِّسَاءَ إِلَّا الْأَكْفَاءَ".ترجمہ:عورتیں کا نکاح صرف اپنے کفو کے لوگوں سے کرو۔(سنن الدارقطنی،باب المہر، رقم:3601، المعجم الاوسط، من اسمہ احمد، رقم:3، الجامع الکبیر، القسم الاول، حرف اللام والالف، رقم:25429، کنز العمال، حرف النون، رقم:44690، جامع الاحادیث، حرف الکاف، رقم:17011، 109مسند ابی یعلی، مسند جابر،رقم:2094)
مسند بزار کی روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:" الْعَرَبُ بَعْضُهَا أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ". ترجمہ:بعض عرب بعض کے کفو ہیں۔(مسند بزار،مسند معاذ بن جبل،رقم:2677، السنن الصغیر للبیہقی،باب اعتبار الکفاءۃ،رقم:2411،کنز العمال،حرف النون،رقم:44703)
ترمذی شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:"إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ، وَفَسَادٌ عَرِيضٌ".ترجمہ:جب ایسا شخص پیغام بھیجے، جس کے خُلق و دین کو پسند کرتے ہو تو نکاح کر دو، اگر نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فسادِ عظیم ہوگا۔(جامع الترمذی،أبواب النکاح،باب ماجاء کم من ترضون دینہ...إلخ،2/344،رقم الحدیث:1084)
مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، نبی ﷺنے فرمایا:"يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْئًا".ترجمہ: اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو۔ (۱) نماز کا جب وقت آجائے،( ۲) جنازہ جب موجود ہو، (۳ )بے شوہر والی کا جب کفو ملے‘‘۔(جامع الترمذی،أبواب الجنائز،باب ماجاء فی تعجیل الجنازۃ،2/339،رقم الحدیث:1075)
محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"فَإِنَّ الْمُوجِبَ هُوَ اسْتِنْقَاصُ أَهْلِ الْعُرْفِ فَيَدُورُ مَعَهُ".ترجمہ:کفو نہ ہونے کا سبب عرف والوں کا باعث ننگ و عار سمجھناہے۔(فتح القدیر،کتاب النکاح،فصل فی الکفاءۃ،3/302،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’حدیث میں جو ارشاد ہوا "لا نكاح إلا بولي و شاهدي عدل" (ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں) نفی بمعنی نہی ہے اور منافی صحت نہیں بلکہ ہمارے نزدیک یہ نہی ارشادی ہے کہ بالغہ کے نکاح میں ولی بھی شرط نہیں، واللہ تعالی اعلم‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 11 /305،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فقیہ اعظم ہند مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی:1421ھ)فرماتے ہیں:’’حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب یہی ہے کہ عورت خواہ کنواری ہویا ثیب،بالغ ہو یا نا بالغ بغیر ولی کی اجازت کے اگر وہ نکاح کرے تو نکاح نہ ہوگا۔یہی مذہب امام بخاری کا بھی ہے۔ اس کی دلیل میں ابو داؤد اور ترمذی کی وہ حدیث پیش کرتے ہیں جو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺنے فرمایا "لا نکاح الا بولی "بغیر ولی کے نکاح نہیں۔ علامہ بدرالدین محمود عینی نے اس پر بہت کلام فرمایا ہے۔
پھر امام بخاری نے ان آیتوں سے استدلال فرمایا: پہلی آیت سورہ بقرہ کی ہے کہ فرمایا:وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ(البقرۃ:232) ترجمہ:جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں اپنے سابق شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو ۔امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ اگر اولیاء کو نکاح کرنے کا حق نہ ہوتا تو روکنے کا حق بھی نہ ہوتا۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ اس آیت میں خطاب طلاق دینے والے سابق شوہروں سے ہے کہ جب تم اسے طلاق دے چکے تو تم کو یہ حق نہ رہا کہ اگر وہ کسی پسندیدہ شخص سے نکاح کرنا چاہیں تو انہیں روکو۔اور انہیں ازواج باعتبار مایؤل کے کہا گیا ہے۔یا خطاب اولیاء ہی سے جانا جائے تو اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض دفعہ اولیاء عورتوں کو بلا استحقاق کے بھی اپنی خواہش کا پابند رکھنا چاہتے ہیں اور عرف میں شادی کے معاملے میں بلا اجازت شرع سارا حق اپنے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں نکاح کرنے سے روکنے کا حق نہیں تم نے زبردستی یہ اپنا حق بنا لیا ہے یعنی لوگوں کی عادت کی بنا پر یہ حکم دیا گیا ہے۔اس طرح یہ آیت ہماری مؤید ہو جائے گی۔مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں روکنے کا حق نہیں۔
دوسری آیت یہ پیش کی ہے:وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ(البقرۃ:221)ترجمہ:اور مشرکین سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اس ارشاد سےوَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ(المآئدۃ:5)نیز ایسی صورت میں اولیاء کے لیے حق نکاح ثابت کرنا صحیح نہ ہو گا۔
تیسری آیت یہ پیش کی ہے:وَاَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ(البقرۃ:221)ترجمہ: اپنے میں سے بے شوہر عورتوں کا اور اپنے نیک غلاموں کا نکاح کرو۔اس کا جواب یہ ہےکہ ایم جس کی جمع ایامی ہے،اس عورت کو بھی کہتے ہیں جس کا شوہر نہ ہو اور اس مرد کو بھی کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو تو اگر وَاَنْكِحُواسے ولایت ِنکاح مراد لی جائے تو لازم آئے گا کہ مرد کا بھی نکاح بغیر ولی کے صحیح نہ ہو حالانکہ اس کا قائل کوئی نہیں ‘‘۔(نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری،کتاب النکاح،5/300،فرید بک اسٹال)
کفو کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا... مال میں کفاءت کو صرف اس قدر كفايت کہ وہ شخص اگر پیشہ ور ہو تو روز کا روز اتنا کماتا ہو جو اس عورت غنیہ کے قابل کفایت روزانہ دے سکے، اور پیشہ ورنہیں تو ایک مہینہ کا نفقہ دے سکے، اور مہر جس قدر معجل ٹھہر ے اس کے ادا پر قدرت بہرحال درکار ہے۔ (فتاوی رضویہ ،11/214-215،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
غیر کفو کے متعلق فرمایا:’’شرع میں غیر کفو وہ ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو، ایسے شخص سے اگر بالغہ بطورخودنکاح کرے گی نکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ نہ ولی نے منع کیا ہو نہ اس کے خلاف مرضی ہو۔ یہ نکاح اس صورت میں جائز ہوسکے گاکہ ولی نے پیش از نکاح اس غیر کفو بمعنٰی مذکور کی حالت مذکورہ پر مطلع ہوکر دیدہ ودانستہ صراحۃً بالغہ کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہو، ان میں سے ایک شرط بھی کم ہو تو بالغہ کا کیا ہوا وہ نکاح باطل محض ہوگا اور ولی کو اس کے فسخ کرنے یا اس کا فسخ چاہنے کی کیا حاجت کہ فسخ تو جب ہو کہ نکاح ہولیا ہو، یہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں... ہاں عوام کے محاورہ میں غیر کفو اسے کہتے ہیں جو اپنا ہم قوم نہ ہو مثلا سید و شیخ یا شیخ اور پٹھان یا پٹھان اور مغل، ایسا غیر کفو اگر اس شرعی معنی پرغیر کفو نہ ہو تو بالغہ کا بے اذن ولی بلکہ بناراضی ولی اس سے نکاح کرلینا جائز ہے اور ولی کو اس پر کوئی حق اعتراض نہیں۔(فتاوی رضویہ ، 11 /280،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَيُفْتَى) فِي غَيْرِ الْكُفْءِ(بِعَدَمِ جَوَازِهِ أَصْلًا) وَهُوَ الْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى (لِفَسَادِ الزَّمَانِ)".ترجمہ:غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونےکا فتوی ہے کہ فسادِ زمان کی وجہ سے نکاح منعقد ہی نہ ہوگا۔(الدر المختار،کتاب النکاح،باب الولی،3/57،دار الفکر)
کفو میں مرد کا اعتبار ہے چنانچہ علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(الْكَفَاءَةُ مُعْتَبَرَةٌ) فِي ابْتِدَاءِ النِّكَاحِ لِلُزُومِهِ أَوْ لِصِحَّتِهِ (مِنْ جَانِبِهِ) أَيْ الرَّجُلِ لِأَنَّ الشَّرِيفَةَ تَأْبَى أَنْ تَكُونَ فِرَاشًا لِلدَّنِيءِ وَلِذَا (لَا) تُعْتَبَرُ (مِنْ جَانِبِهَا) لِأَنَّ الزَّوْجَ مُسْتَفْرِشٌ فَلَا تَغِيظُهُ دَنَاءَةُ الْفِرَاشِ".ترجمہ: كفاءت ابتداء نکاح میں نکاح کے لازم ہونے یا اس کے صحیح ہونے کیلئے معتبرہے۔یعنی مرد کی جانب سے کیونکہ معزز خاندان کی عورت کسی ادنیٰ درجہ کے مرد کا فراش بنے سے انکار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے عورت کی جانب سے اس کفاء ت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ شوہر فراش بنانے والا ہے تو فراش کا کم ہونا اس کو غیض و غضب میں مبتلا نہیں کرتا۔(الدر المختار،کتاب النکاح،باب الکفاءۃ،3/84-85،دار الفکر)
اسکے تحت علامہ علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لَا يُعَدُّ عَارًا فِي حَقِّهِ بَلْ فِي حَقِّهَا لِأَنَّ النِّكَاحَ رِقٌّ لِلْمَرْأَةِ وَالزَّوْجُ مَالِكٌ". ترجمہ:مرد کے حق میں اسے عار نہیں سمجھا جاتا بلکہ عورت کے حق میں عار سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ نکاح عورت کے لئے غلامی ہے اور شوہر مالک ہوتا ہے۔ (رد المحتار،کتاب النکاح،باب الکفاءۃ،3/84،دار الفکر)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ کفاءت صرف مرد کی جانب سے معتبر ہے عورت اگرچہ کم درجہ کی ہو اس کا اعتبار نہیں‘‘۔ ( بہار شریعت، کفو کا بیان ، 2/53 ،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
والدین کو ناراض کرکے شادی کرنے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’اگر کفو ہے تووالدین کو ناراض کرکے عورت کا بطور خود نکاح کرلینا خصوصاً وہ بھی اس طورپر جا کر عور ت کے لیے سخت محرومی وناراضی الہٰی کا باعث ہے۔(فتاوی رضویہ، 11 /292،رضا فاؤنڈیشن لاہور)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:29 ربیع الثانی1444 ھ/13 نومبر2023ء