سوال
میری بہن کو طلاق ہوچکی ہے اسکے بچے نہیں ہیں والدین کا بھی پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے اسکی کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ،اسکے پاس نقد 5 یا چھ ہزار روپے ہیں جوکہ علاج کے لیے میں نے ہی دیئے ہیں اسکے علاوہ اس کے پاس ایک سونے کی چین ہے جسکی مالیت تقریبا پچیس ہزار روپے ہے ۔اسکے علاوہ ہم دونوں نے ایک پلاٹ دور دراز علاقے میں رہنے کے لیے لیا تھا،جس میں بھی زیادہ تر میرے پیسے تھے اور کچھ ان کے بھی ۔ کیا ایسی صورت میں اپنی بہن کو زکوۃ دے سکتی ہوں۔
سائلہ:بنت حوا: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ:ترجمہ: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللّٰہ کا اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے ۔
وہ لوگ جن کو زکوۃ دینا جائز ہے ان میں سے ایک فقیرشرعی بھی ہے ،اور فقیر شرعی یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ مال ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کوپہنچ جائےیانِصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلِیَّۃ(یعنی ضَروریات زندَگی )میں مُسْتَغْرَق(گِھراہوا)ہو ۔مثلا رہنے کا مکان، خانہ داری کاسامان،سُواری کےجانور(یا اسکوٹر یا کار) کاریگروں کے اَوزار، پہننے کے کپڑے ،وغیرہ ،جیسا کہ الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے:(فَقِيرٌ، وَهُوَ مَنْ لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ) أَيْ دُونَ نِصَابٍ أَوْ قَدْرُ نِصَابٍ غَيْرِ نَامٍ مُسْتَغْرِقٍ فِي الْحَاجَةِ.(کتاب الزکاۃ ،باب مصرف الزکاۃ، ج:2، ص: 339، طبع : دار الفکر،بیروت)ترجمہ:فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو، یعنی جو نصاب سے کم ہو یا نصاب کی مقدار ہو لیکن مال نامی نہ ہو اور اسکی حاجت میں مستغرق ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپکی ہمشیرہ فقیر شرعی ہیں (جسکی تفصیل گزر چکی) لہذا، انکو زکوۃ دی جا سکتی ہے بلکہ انکو دینا افضل ہے کہ اس میں دوگناثواب ہے ایک زکوۃ ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 شعبان المعظم 1440 ھ/20 اپریل 2019 ء