ہمشیرہ کو زکوۃ دینے کا حکم
    تاریخ: 20 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 817

    سوال

    ہماری ہمشیرہ بیوہ ہیں، ان کا یک مکان ہے جس کا کرایہ آتا ہے جس سے گھر کا گزر بسر بمشکل ہوتا ہے ، ان کے تین بچے ہیں تینوں بالغ ہیں ان میں سے دو یونیورسٹی میں اور ایک کالج میں پڑھتے ہیں ، یہ ٹیوشن وغیرہ پڑھا کر اپنا تعلیمی اخراجات برداشت کرتے ہیں لیکن یہ انکی معمولی آمدنی سے پورا نہیں کرسکتے ، تو کیا اس ضمن میں انہیں زکوۃ دی جا سکتی ہے ؟

    سائل: محمد شعیب: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ:ترجمہ: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللّٰہ کا اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے ۔

    وہ لوگ جن کو زکوۃ دینا جائز ہے ان میں سے ایک فقیرشرعی بھی ہے ،اور فقیر شرعی یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ مال ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کوپہنچ جائےیانِصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلِیَّہ(یعنی ضَروریاتِ زندَگی )میں مُسْتَغْرَق(گِھراہوا)ہو ۔مثلا رہنے کا مکان، خانہ داری کاسامان،سُواری کےجانور(یا اسکوٹر یا کار) کاریگروں کے اَوزار، پہننے کے کپڑے ،وغیرہ ،جیسا کہ الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے:

    (فَقِيرٌ، وَهُوَ مَنْ لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ) أَيْ دُونَ نِصَابٍ أَوْ قَدْرُ نِصَابٍ غَيْرِ نَامٍ مُسْتَغْرِقٍ فِي الْحَاجَةِ.(کتاب الزکاۃ ،باب مصرف الزکاۃ،ج:2،ص:339،طبع:دارالفکر،بیروت)ترجمہ:فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو، یعنی جو نصاب سے کم ہو یا نصاب کی مقدار ہو لیکن مال نامی نہ ہو اور اسکی حاجت میں مستغرق ہو۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپکی ہمشیرہ کے بچے فقیر شرعی ہیں (جسکی تفصیل گزر چکی) تو انکو زکوۃ دی جا سکتی ہے بلکہ انکو دینا افضل ہے کہ اس میں دوگنا ثواب ہے ایک زکوۃ ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 جمادی الثانی 1440 ھ/16 فروری 2019 ء