مسجد کی مسجدیت کا حکم
    تاریخ: 27 فروری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 904

    سوال

    میں جس مسجد میں امامت کرتا ہوں وہاں پہلے ایک پرانی مسجد تھی جو بزرگوں نے بنائی تھی جسکی سمتِ قبلہ درست نہیں تھی، انتظامیہ نے اس مسجد کو شہید کرکے آگے دوسری مسجد بنادی ہے اور اس مسجد کا سارا ملبہ نئی مسجد میں استعمال کیا گیاہے ، پرانی مسجد کا صرف فرش رہ گیا ہے ۔ اس تناظر میں چند سوالات ہیں:

    1: پہلی مسجد کے فرش کا کیا حکم ہے؟وہ مسجدبدستور باقی رہے گی ، یہاں کے فرش کو ختم کردیا جائےیا اس نئی مسجد میں شامل کیا جائے، کچھ لوگ پرانی مسجد کے فرش پر چپلیں پہن کر گھوم پھر رہےانکا یہ عمل کیسا ہے؟

    عربی عبارات وغیرہ ہوں تو انکا ترجمہ بھی فرمادیں ۔بینوا توجروا

    سائل: زاہد قادری :میمن گوٹھ کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جس جگہ کو ایک مرتبہ مسجد قراردے دیا جائے تو تحت الثری سے عرش اعظم تک اُتنی فضاء مسجد ہوجاتی ہے اور قیامت تک ہمیشہ مسجد ہی رہے گی ، اس کو دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسکی مسجدیت باطل کی جا سکتی ہے ۔ مسجدیت تام ہونے یعنی اسے عین مسجد قرار دینے کے بعد اس کے کسی حصہ کو مسجدسے خارج کرنایااس پر کوئی ایسی چیز تعمیر کرنا جو مسجد نہ ہواگر چہ متعلقات مسجد سے ہی کوئی چیز بنائی جائے مثلا مسجد ہونے کے بعد اس پر امام کے لیے حجرہ بنانا یا اس میں سیڑھی بناناگویا کہ ان حصوں کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذکر و نماز سے معطل کرنا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے،مسجد کو بطور مسجد باقی رکھنا بہر صورت لازم ہے، لہذا سابقہ مسجد کا فرش بدستور مسجد ہی ہے اور اسکے تمام احکام مسجد والے ہی ہیں اس جگہ کی بے ادبی کرنا وہاں گندگی، نجاست پھیلانا اسی طرح حرام ہے جس طرح عینِ مسجد میں حرام ۔ لہذا اس حصہ میں نجس چپلیں پہنے گھومنا ناجائز و حرام ہے اور پاک ہوں تب بھی ناجائز کہ فی زمانہ بعرف و عادت یہ بے ادبی ضرور ۔اب اس فرش کو اس نئی مسجد میں شامل کرنا لازم و واجب ہے بصورتِ دیگر مسجد کو غیر مسجد کرنا لازم آئے گا جو سخت حرام و جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

    مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے والوں سے متعلق اللہ رب العزت کا قرآن پاک میں فرمان ہے :’’وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ترجمہ کنزالایمان :اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ، ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب۔ (البقرہ، آیت:114)

    فتح القدیر میں ہے:”الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ ۔“وقف کو اپنی حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔ (فتح القدیر مع الھدایہ،جلد5، ص 440، مطبوعہ کوئٹہ)

    عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ۔ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)

    سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:”جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ، کسی جز کاغیرِ مسجد کردینا اگرچہ متعلقاتِ مسجد ہی سے کوئی چیز ہو،حرامِ قطعی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ،ج16،ص482،مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :’’خود بانی نے کہ جامع مسجد بناکر اس مسجد کے ایک حصہ زمین میں اس کا زینہ (سیڑھی)بنایا یہ بھی ناجائز ہے کہ مسجد بعد تمامی مسجدیت کسی تبدیلی کی متحمل نہیں۔ واجب ہے کہ اسے بھی زائل کرکے اسے خاص مسجد ہی رکھیں۔ درمختار میں ہے: امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذٰلک لایصدق تاتارخانیۃ، فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۔لیکن مسجدیت تام ہوگئی اب واقف اس پر (حجرہ امام)تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو روکا جائیگا، اگر وہ کہے کہ شروع سے میری نیت ایسا کرنے کی تھی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی تاتارخانیہ، جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو ا سکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجدپر ہو۔ (فتاوی رضویہ،جلد 16،صفحہ 492،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”جب مسجد تعمیر ہو گئی تو تحت الثریٰ سے عرش تک اتنی فضا مسجد ہو گئی،اس کی مسجدیت باطل نہیں کی جا سکتی۔(فتاوٰی امجدیہ،ج2،ص143،مطبوعہ:مکتبہ رضویہ کراچی)

    سیدی اعلٰی حضرت مسجد میں جوتے پہننے سے متعلق فرماتے ہیں : مسجد میں تو استعمالی جوتے پہنے جاناہی ممنوع وناجائز ہے نہ کہ مسجد میں یہ جوتا پہنےشرکتِ جماعت۔ (فتاوی رضویہ،جلد 7،صفحہ 376،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    اسی میں ایک اورجگہ فرماتے ہیں: علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں جوتا پہنے جانا بے ادبی ہے حالانکہ صدرِ اول میں یہ حکم نہ تھا، فتاوٰی سراجیہ و فتاوی عالمگیری میں ہے:دخول المسجد متنعلا مکروہ ۔ ( مسجد میں جوتا پہن کر داخل ہونا مکروہ ہے ۔)(فتاوی رضویہ،جلد 8،صفحہ 407 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1445ھ/ 20 ستمبر 2023 ء