سات بیٹوں میں وراثت کی تقسیم

    saat beton mein wirasat ki taqseem

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1182

    سوال

    میرے نانا کا انتقال 1981 میں ہوا اس وقت انکی زوجہ (نانی) خاتون بیگم ۔سات بیٹے (جمیل،ضمیر،اکرام،معراج،کلیم،نعیم،فھد)اور چھ بیٹیاں ( انو ریحانہ،فرزانہ،شاھانہ،کوثر اور شفق) حیات تھیں۔ انکے والدین پہلے ہی جا چکے تھے۔اسکے بعد نانا کی ایک بیٹی انو کا انتقال 1995 میں ہوا وہ شادی شدہ تھیں انکے ورثاء میں شوہر(منصور) ایک بیٹا(فرحان) اور چار بیٹیاں(فائزہ، صائمہ،بشرٰی ،ثناء) پھر 1997 میں نانی کا انتقال ہوا ۔ اس وقت انکی وراثت میں سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ہر ایک کا کیا حصہ بنے گا۔

    نوٹ : وراثت کا مکان ایک کروڑ پچھتر لاکھ میں فروخت ہوا ہے ہر ایک کیا حصہ ہوگا۔

    سائل: جہانزیب: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا تو وراثت کی تقسیم ایسے ہوگی کہ کل مال وراثت کے 218880 حصے کئے جائیں گے جس میں سے ہر بیٹے (جمیل،ضمیر،اکرام،معراج،کلیم،نعیم،فھد)کو 22200 حصے ،ہر بیٹی (ریحانہ،فرزانہ،شاھانہ،کوثر اور شفق)کو 11100حصے ، انو بیگم کے شوہر منصور کو 2394 حصے،انکے بیٹے (فرحان) کو 1862 حصے اور ہر بیٹی (فائزہ، صائمہ،بشرٰی ،ثناء)کو 931 حصے دیئے جائیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی

    وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ:ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔

    لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    نوٹ : مال تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم کو اوپر ذکر کردہ کل حصوں یعنی 218880پر تقسیم کردیا جائے جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصہ میں ضرب دے دیں اس طرح کل وراثت سے ہر ایک کا حصہ معلوم ہوجائے گا ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 شعبان المعظم 1440 ھ/11 اپریل 2019 ء