مسجد کے ارد گرد شیڈ لگاناتاکہ مسجدکونجاستوں سے پاک رکھا جا سکے
    تاریخ: 10 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 377

    سوال

    ہماری مسجد ایک اپارٹمنٹ کے اندر گراؤنڈ فلور پر ہے۔مسجد کی دیوارپر چاروں طرف شیڈ لگا ہوا تھا یہ اس لیے تھا کہ اوپر سے ناپاک پانی اور کچرا وغیرہا نمازیوں کےاوپر گرتا تھا ۔مسجد کی کھڑکیاں ، دروازے ،اے سی کے آوٹر وغیرہا کی حفاظت کے لیے لگایا گیا تھا ۔وہ شیڈ خراب ہو گیا تو اب کمیٹی نے نیا شیڈلگایا ہے ۔

    مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کے اوپر پہلی منزل والا ایک شخص کو اس پر اعتراض ہے کہ شیڈ نہ لگایا جائے خصوصا اس کے گھر سامنے بلکل نہ لگایا جائے ۔برائے کرم جواب ارشاد فرمائیں کہ اس شخص کا اعتراض درست ہے

    نوٹ: ہم (دار الافتاء) نےسوال کی صداقت کو جاننے کے لیے مسجد کامعائنہ کیا اس کے بعد یہ فتوی جاری کیا گیا جا رہا ہے!!

    سائل:انتطامیہ مسجد چمنطیبہ /گارڈن ویسٹ

    بمعرفت مولانا راشد المدنی امام مسجد ھذا

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ذکر کردہ صورت میں زید کا شیڈ لگانے سے روکنا ناجائز و حرام ہے اسے اپنے اعمال کی فکر کرتے ہوئے اس حرکت سے باز آنا چاہیے کہ یہ دنیا و آخرت میں پکڑ کا باعث بن سکتی ہے۔

    اللہ تبارک و تعالی نے اپنے گھروں(مساجد) کو پاک و صاف رکھنے کا حکم دیا اور مسجد کی صفائی و ستھرائی کا معاملہ تو ایسا ہے کہ اولی العزم جلیل المنزلت انبیاء کو تاکیدا اس کا حکم دیا گیا چناچہ حضور خلیل اللہ ابراہیم اور آپ کے شہزادے ذبیح اللہ جناب اسماعیل علی نبینا و علیھما الصلاة والسلام کو اس کا حکم ارشاد فرمایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ،اعتکاف کرنے والوں،رکوع کرنے والوں اور میری بارگاہ میں جبین نیاز کرنے والوں کے لیے صاف و شفاف رکھو۔نبی کریم علیہ الصلاة والتسلیم نے مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ خادمین اور جاروب کشوں کے لیے بشارتیں عطا فرمائیں۔

    کیا زید اس بات کو قبول کرے گا کہ اس کا نام ان لوگوں کی صف میں شامل ہو جو مسجدوں میں تکلیف دہ چیزوں کے آنےکا سبب بنتے ہیں؟

    کیا زید اپنے گھر کے لیے اسے برداشت کر سکتا ہے کہ بالائے مکان سے نیچےاس کے گھر میں نجاست آئے؟

    مسجد کو ناپاک اور ناپسندیدہ تکلیف دہ چیزوں سے بچانے کے لیے مسجد ہی کی دیوار پر جو شیڈ لگایا جا رہا ہے نہ صرف جائز بلکہ تحفظ کے پیشِ نظر لازم و ضروری ہے۔ زید کو کسی طور بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے روکے اس لیے کہ یہ فعل مسجد کی ملکیت میں ہو رہا ہے جس سے اس کی ملکیت میں تصرف نہیں ، پڑوسی ہونے کی حیثیت سے شیڈ لگانے سے اسے نقصان بھی نہیں پہنچ رہا بلکہ اس میں تو اسکا بھی فائدہ ہے کہ وہ بھی اسی مسجد کا نمازی ہے تو پھر یہ اعتراض کیسا!!

    اللہ جل وعلا کا فرمان ہے:وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ-وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۔ترجمہ کنز الایمان :اوریاد کروجب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔(البقرہ:125)

    حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے:’’امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ببناء المساجد فی الدور وان تنظف وتطیب‘‘ ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں پاک صاف اور معطر رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔(سنن ابی داؤد ، کتاب الصلوٰۃ،باب اتخاذ المساجد فی الدور،جلد1،صفحہ78،مطبوعہ لاھور)

    مسجد کو بدبو سے بچانے کے متعلق سنن نسائی میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’من اكل من هذه الشجرة،قال اول يوم:الثوم، ثم قال:الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا في مساجدنا،فان الملائكة تتاذى مما يتاذى منه الانس‘‘ترجمہ:جو اس درخت سے کھائے(پہلے دن آپ نےلہسن کا فرمایا،پھرلہسن ،پیاز اورگندنایعنی لہسن کےمشابہ ایک بو والی سبزی کا فرمایا)،تووہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ،کیونکہ انسان جس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، فرشتے بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔(سنن نسائی،کتاب المساجد،باب من یمنع من المسجد،جلد1،صفحہ116،مطبوعہ لاھور)

    نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ان احدکم اذا قام فی صلاتہ فانہ یناجی ربہ او ان ربہ بینہ و بین القبلۃ فلا یبزقن احدکم قبل قبلتہ ولکن عن یسارہ او تحت قدمیہ۔‘‘ترجمہ: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو بیشک وہ رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے یا اُس کے رب کی رحمت ، اُس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتی ہے، لہذا تم میں سے ہر گز کوئی قبلہ کی طرف منہ کر کے مت تھوکے، ہاں اپنی اُلٹی طرف یا پیروں کے نیچے تھوک لے۔(صحیح البخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب حک البزاق بالید فی المسجد، جلد1، صفحہ58، مطبوعہ کراچی)

    علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کےتحت لکھتےہیں:’’ذکر ما یستنبط منہ فِيه تعظیم المساجد عن اثقال البدن وعن القازورات بالطریق الاولی وفیہ احترام جھۃ القبلۃ وفیہ إِزَالَة البزاق وَغَيره من الأقذار من الْمَسْجِد۔‘‘ترجمہ: اِس حديثِ مبارك سے حاصل شدہ مسائل میں سے یہ ہے کہ مسجد کو بدنی رطوبتوں سے بچاتے ہوئے اُس کی عظمت برقرار رکھنا، سمتِ قبلہ کا احترام بجا لانا اور مسجد سے تھوک اور دیگر نجاستوں کوزائل کرنا(ضروری ہے)۔(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری،كتاب الصلوة،جلد4، صفحہ222، دار الکتب العلمیہ)۔

    مسلمانوں کو اذیت دینے کے حوالے سے اللہ جل وعلا کا فرما ن ہے :وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۔ترجمہ کنز الایمان :وہ لوگ جو ایماندار مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی جرم کے تکلیف دیتے ہیں بے شک انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے ذمے لے لیا۔(احزاب:58)

    سیّدِعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلم فرماتے ہیں : ’’مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَ مَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ‘‘ جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔( المعجم الاوسط، باب السین، من اسمہ سعید، جلد 4، صفحہ 60، قاھرہ )واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد يونس انس القادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:12رجب المرجب 1444 ھ/03فروری 2023 ء