masjid ka makan urf se kam ijarah par dena
سوال
زید پچھلے 15 سال سے مسجد کے مکان میں ماہانہ 3000 روپے کرائے پر رہائش پذیر ہے۔ اور موجودہ دور کے اعتبار سے اسکا کرایہ 10000 بنتا ہے۔اب حال یہ ہے کہ پچھلے کئی ماہ سے وہ کرایہ ادا ہی نہیں کررہا۔مسجد کمیٹی اسٹاف کی رہائش کے لئے اس مکان کو خالی کروانا چاہتی ہے ۔ جب کہ زید مسجد کا مکان خالی کرنے پر راضی نہیں اسکا کہنا ہے کہ میں غریب بندہ ہوں اپنے بیوی بچوں کو لے کر کہاں جاؤں گا اہل محلہ بھی کمیٹی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ زید سے مکان خالی نہ کروایا جائے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا عند الشرع از روئے ہمدردی زید کو 3000 کرایہ پر مکان الاٹ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
سائل:محمد فیضان :شاہ فیصل ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بالجملہ یہاں دو امر ہیں ۔
اول یہ ہے کہ مسجد پر وقف شدہ مکان کو عرف عام سے کم اجارہ پر دینا ۔
دوم یہ کہ مسجد کمیٹی کا اس مکان کو خالی کرواکر مسجد اسٹاف کی رہائش کےلئے دینا ۔
پہلے امر کا حکم یہ ہے کہ وقف کے مکان کو عرف سے ہٹ کر اجارہ پر دینا ناجائز و حرام ہے۔ بالخصوص جب مکان وقف علی المسجد ہو کہ اسکا کرایہ امور مسجد میں صرف ہوگا اس وقت تو حرمت اور شدید ہوجائےگی۔ ایسے اجیر سےفورا مکان خالی کروایا جائے اور ایسے متولیان کو جو اس اجارہ پر راضی ہیں فورا معزول کیا جائے،کہ یہ خائن ہیں ۔ اسکی جگہ نیک متقی، سنی ،صحیح العقیدہ اور ا مانت دار و دیانتدار شخص کو متولی بنایا جائے۔بجائے مسجداگر انکا اپنا مکان ہو تو ہرگز اتنے اجارہ پر راضی نہ ہونگے بلکہ عرف کے مطابق جو اجرت ہے اس سے زیادہ کی کوشش کریں گے۔ اور اس عرصہ میں عرف کے مطابق اجرت سے کم پر جتنا عرصہ رہا اور جتنی اجرت کم دی ، اور جتنے عرصہ کی اجرت نہ دی۔ وہ تمام اس اجیر سے لے کر مسجد کے فنڈ میں جمع کروائیں۔ اجیر نہ دے تو متولی ضامن ہے ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ہر دو پر اللہ کریم کی بارگاہ میں توبہ کرنا فرض ہے۔
یونہی جو اہل محلہ اس بات پر مصر ہیں کہ زید سے مکان خالی نہ کروایا جائے انہیں چاہیے کہ زید سے ذاتی طور پر تعاون کرکے اسکے اخراجات و دیگر امور کی نگہہ داشت کریں ۔ مسجد کے مال میں تصرف کاا نہیں کوئی حق نہیں کہ مسجد اور وقف علی المسجد خاص ملک خدا ہوتی ہیں۔کسی کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔
وقف کے مال میں خیانت کرنا، اپنی رائے سے ایسا تصرف کرنا جو وقف کے لئے نقصان کا سبب بنے ناجائز و حرام ہے کیونکہ مال ِوقف ،مالِ یتیم کی مثل ہے،اور مال یتیم کے بارے میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۔ترجمہ: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں،اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ)میں جائیں گے۔(النساء: 10)
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَ)الْمَوْقُوفُ(إذَاآجَرَهُ الْمُتَوَلِّي بِدُونِ أَجْرِالْمِثْلِ لَزِمَ الْمُسْتَأْجِرَ) لَا الْمُتَوَلِّيَ كَمَا غَلِطَ فِيهِ بَعْضُهُمْ (تَمَامُهُ) أَيْ تَمَامُ أَجْرِ الْمِثْلِ۔وَفِي الْأَشْبَاهِ عَنْ الْقُنْيَةِ: أَنَّ الْقَاضِيَ يَأْمُرُهُ بِالِاسْتِئْجَارِ بِأَجْرِ الْمِثْلِ وَعَلَيْهِ تَسْلِيمُ زَوْدِ السِّنِينَ الْمَاضِيَةِ،ترجمہ:اور متولی جب مالِ وقف کو اجرت مثل سے کم پر اجارہ پر دے تو مستاجر پر لازم ہے کہ مکمل اجارہ (باجرت مثل)ادا کرے ۔متولی پر لازم نہیں ہے۔اور اشباہ میں قنیہ سے ہے کہ قاضی اسے اجرت مثل پر اجارہ پر لینے کا حکم کرے گا۔ اور اس پر گزشتہ سالوں کا نقصان پورا کرنا لازم ہے۔
اسکے تحت شامی میں ہے:لَكِنْ قَالَ فِي الْبَحْرِ: يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ خِيَانَةً مِنْ الْمُتَوَلِّي لَوْ عَالِمًا بِذَلِكَ۔ترجمہ:بحر میں فرمایا کہ اگر متولی جانتے بوجھتے ایسا کرے تو اسے متولی کی جانب سے خیانت سمجھا جائے۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار،وحاشیہ ابن عابدین شامی کتاب الوقف ، فصل فی اجارۃ الواقف جلد 4 ص 407)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے:(وَيُؤَجَّرُ بِأَجْرِالْمِثْلِ) فَ(لَا)يَجُوزُ(بِالْأَقَلِّ)وَلَوْ هُوَ الْمُسْتَحِقُّ۔ ترجمہ:اور مال وقف کو اجرت مثل پر اجارہ پر دیا جائے ۔ لہذا اجرت مثل سے کم پر اجارہ جائز نہیں ہے اگر چہ مستاجر مستحق ہی کیوں نہ ہو۔
شامی میں ہے:(قَوْلُهُ وَفِي فَتَاوَى الْحَانُوتِيِّ إلَخْ) وَنَصُّهُ: سُئِلَ مَا قَوْلُكُمْ فِيمَا لَوْ حَكَمَ حَاكِمٌ بِصِحَّةِ إجَارَةِ وَقْفٍ وَأَنَّ الْأُجْرَةَ أُجْرَةُ الْمِثْلِ بَعْدَ أَنْ أُقِيمَتْ الْبَيِّنَةُ بِذَلِكَ ثُمَّ أُقِيمَتْ بَيِّنَةٌ بِأَنَّهَا دُونَ أَجْرِ الْمِثْلِ فَيُعْمَلُ بِبَيِّنَةِ بُطْلَانِهَا أَمْ لَا؟ فَأَجَابَ: أَجَابَ الشَّيْخُ نُورُ الدِّينِ الطَّرَابُلُسِيُّ قَاضِي الْقُضَاةِ الْحَنَفِيُّ بِمَا صُورَتُهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْأَعْلَى بَيِّنَةُ الْإِثْبَاتِ مُقَدَّمَةٌ وَهِيَ الَّتِي شَهِدَتْ بِأَنَّ الْأُجْرَةَ أُجْرَةُ الْمِثْلِ وَقَدْ اتَّصَلَ بِهَا الْقَضَاءُ فَلَا تُنْقَضُ.وَأَجَابَ الشَّيْخُ نَاصِرُ الدِّينِ اللَّقَانِيِّ الْمَالِكِيُّ وَقَاضِي الْقُضَاةِ أَحْمَدُ بْنُ النَّجَّارِ الْحَنْبَلِيُّ بِجَوَابِي كَذَلِكَ، فَأَجَبْتُ: نَعَمْ الْأَجْوِبَةُ الْمَذْكُورَةُ صَحِيحَةٌ، قُلْتُ: وَهَذَا حَيْثُ لَمْ تَكُنْ الشَّهَادَةُ الْأُولَى يُكَذِّبُهَا الظَّاهِرُ وَإِلَّا فَلَا تُقْبَلُ وَتُنْقَضُ كَمَا فِي الْحَامِدِيَّةِ۔ ترجمہ:فتاوٰی حانوتی میں ہے کہ سوال کیا گیا کہ آپکا کیا کہنا ہے کہ اگر کوئی حاکم یہ فیصلہ صادر کرے کہ اس وقف کا اجارہ صحیح ہے ،جس کے بارے میں گواہوں سے یہ ثابت ہوجائے کہ اسکی اجرت،اجرت مثل ہے اسکے بعد پھر دیگر گواہان سے یہ ثابت ہوجائے کہ وقف کی اجرت ،اجرت مثل سے کم ہے تو کیا پہلا اجارہ باطل ہوجائے گا یا نہیں؟ تو آپ نے جواب ارشاد فرمایا کہ شیخ نورالدین طرابلسی جو کہ حنفی قاضی ہیں انہوں نے اسی طرح کی ایک صورت کا یہ جواب دیا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سب سے بلند ہے اثبات کے گواہ مقدم ہیں، اور یہ وہ ہیں جنہوں نے اجرت مثل ہونے پر گواہ دیئے۔اور انکے ساتھ قاضی کی قضا بھی مل گئی تو قضا نہ ٹوٹے گی۔اور شیخ ناصر الدین لقانی مالکی اور قاضی القضاۃ احمد بن نجار حنبلی نے میرے جواب کی مثل جواب دیا۔ تو میں نے کہا کہ مذکورہ جواب صحیح ہیں۔ میں (علامہ شامی)کہتا ہوں یہ اس وقت ہے جب کہ ظاہر اس کی تکذیب نہ کرے ورنہ یہ بات قبول نہ کی جائے گی اور قاضی کی قضاء ٹوٹ جائے گی(اور پہلا اجارہ باطل ہوجائے گا اور اجرت مثل پر دینا لازم ہوجائے گا)۔(رد المحتار مع الدرالمختار ، باب مایجوز من الاجارۃ جلد 6 ص 67)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملک ہے نہ مصلیوں کی، نہ کسی غیر خدا کی، وہ سب خالص ملک الٰہی ہے،اوقاف مسجد کانتظام متولی کے سپرد ہے اور امام ومؤذن کا نصب وعزل بانی مسجد یا اس کی اولاد پھر مصلیوں کے متعلق ہے متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے باز پرس کرسکتے ہیں۔ متولی امین ہے جب تک اس کی خیانت کا صحیح مظنہ نہ پیدا ہو وہ جمع خرچ سمجھانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الشرکہ جلد 16 ص 509، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
دوسرا امر یہ کہ مسجد کمیٹی کا اس مکان کو خالی کرواکر مسجد اسٹاف کی رہائش کے لئے دینا ۔اسکا حکم یہ ہے کہ یہ بھی ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ وقف میں تغییر ہے ۔ اور وقف میں تغییر ہرگز جائز نہیں اگر چہ مقصود ایک ہی کیوں نہ ہو۔کما ھو مصرح فی کتب العامہ ۔ عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)
یونہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:وقف کو اس کی ہیئت سے بدلنا جائز نہیں اگرچہ مقصود واحد ہو مثلا کسی مسجد پر دکانیں وقف ہیں کہ ان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتا ہے انہیں حمام کردیا جائےا ور اس کا کرایہ مسجد کو دیا جائے یا حمام کا کرایہ مسجد پر وقف تھا اسے دکانیں کردیا جائے یہ ناجائزہے حالانکہ مقصودیعنی کرایہ واحد ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:لایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ فلایجعل الدکان خاناالخ ترجمہ: وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں لہذا دکان کو سرائے بنادینا جائز نہیں الخ۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الشرکہ جلد 16 ص 544، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوٰی قاضی خان میں ہے:ان متولی المسجد اذا دفع الی المؤذن او الی الامام ما ھو من مستغلات المسجد لایجوز ذلک للمتولی ویکرہ للامام والمؤن ان یسکن فی ذلک المنزل۔ترجمہ:متولی مسجد نے مکان امام یا مؤذن کورہنے کے لئے ایسا مکان دیاجو مسجد کے اخراجات پورا کرنے کے لئے وقف تھا ۔ تو متولی کو ایسا کرنا ،ناجائز ہے۔اور امام و مؤذن کا اس گھر میں رہنا ممنوع ہے۔(فتاویٰ قاضی خان، کتاب الوقف، باب الرجل یجعل دارہ مسجدا جلد 3 ص 169،قدیمی کتب خانہ)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں :مسجد پر جو مکان اس ليے وقف ہیں کہ اُن کا کرایہ مسجد میں صرف ہوگایہ مکان بھی امام و مؤذن کو رہنے کے ليے نہیں دے سکتا اور دے دیا تو ان کو رہنا منع ہے۔ (بہار شریعت جلد 2 ص 562، مکتبۃ المدینہ)۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 رجب المرجب 1441 ھ/09 مارچ 2020 ء