مساجد کے حوالے سے چند سوالات کے جوابات

    masajid ke hawale se chand sawalat ke jawabat

    تاریخ: 20 جولائی، 2026
    مشاہدات: 45
    حوالہ: 1648

    سوال

    1:سیلانی کے زیرِ اہتمام مساجد میں سیلانی نے مسجد کے اخراجات وغیرہ کے لئے چندہ بکس لگائے ہیں ، ان بکسز میں آنے والا چندہ کن کن امور میں استعمال کیا جاسکتا ہے ؟

    2:ان چندہ بکسز میں جو رقم جمع ہوتی ہے اسکو سیلانی اکاؤنٹ میں جمع کردیا جاتا ہے اور پھر اتنی یا اس سے زائد مقدار میں رقم دیگر مدات مثلا امام ، مؤذن کی تنخواہ، مرمت وغیرہ میں دی جاتی ہےلیکن ایسا نہیں ہوتا کہ جتنا چندہ ہوا اس سے کم دی جائے ہمیشہ زیادہ ہی ہوتی ہے کیونکہ چندہ کم ہوتا ہےاور اخراجات زیادہ ہیں۔ یعنی بعینہ وہ رقم مسجد میں نہیں لگائی جاتی۔ تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    3:سیلانی کے زیرِ اہتمام مساجد میں مسجد اخراجات کے چندہ بکس کے علاوہ الگ سے سیلانی چندہ بکس لگانا جائز ہے؟چندہ بکس پر لکھا ہوتا ہے'' سیلانی کے ہر جائز کام کے لئے ''مسجد کے اخراجات سیلانی ہی اٹھاتا ہے۔ چندے کی آمدنی ادارے میں جمع ہوجاتی ہے ، جبکہ دوسری طرف مساجد کے اخراجات سیلانی ہی اٹھاتا ہے۔

    سائل:مدنی رضا: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:مسجد کے لیے جو بھی فنڈز یا چندہ جمع کیاجاتا ہے اس کا مقصد مسجدکے مصالح یعنی مسجد کی تعمیروترقی اور آبادکاری ہے۔ لہذا اس چندہ سے ہر وہ کام کرنا جائز ہے جو مسجد کے مصالح سے ہو ۔ اور مسجد کے مصالح میں کے امام ، خطیب اور خادم کی ماہانہ تنخواہ ، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی،عمارت مسجد یا مسجد کی اشیاء کی مرمت ،مسجد کے ضرورت کی چیزیں جیسےپنکھے، لائٹیں،دریاں، مصلے، جھاڑو، لوٹے،پائیدان ،وضو خانے کے لئے نل، پانی کی موٹر، پائپ، وغیرہ شامل ہیں ۔

    البتہ مسجد کے چندے سے محافل کا انعقاد، شیرینی کااہتمام ،چراغاں وغیرہ کرنے کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر ان مساجد میں پہلے سے عرف یہی ہے کہ وہاں مسجد کے چندوں سے ہی ان سب چیزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تب تو اسی چندے سے یہ سب امور جائز ہیں ،وگرنہ نہیں۔۔۔!ہاں اگر چندہ دینے والوں کی طرف سے ان امور کی صراحتایا دلالۃ اجازت ہو تو اس صورت میں کسی طرح کی ممانعت باقی نہ رہے گی ، صراحتا اجازت کامطلب ہے کہ چندہ دینے والوں سے صاف لفظوں میں کہہ دیں کہ اس چندے سے محافل کا انعقاد، شیرینی و چراغاں کا اہتمام کیا جائے گا اور اجازت دے دیں ۔ اور دلالۃ اجازت کا مطلب ہے کہ چندہ دینے والوں کو معلوم ہے کہ اس مسجد میں اسی چندے سے محافل کا انعقاد، شیرینی و چراغاں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَفِي شَرْحِهَا لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ عِنْدَ قَوْلِهِ:وَيَدْخُلُ فِي وَقْفِ الْمَصَالِحِ قَيِّمٌ ... إمَامٌ خَطِيبٌ وَالْمُؤَذِّنُ يَعْبُرُترجمہ: اور وقف کے مصالح میں قیم (متولی)امام ، خطیب اور مؤذن سب داخل ہیں ۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الوقف مطلب فی قطع الجہات لاجل العمارۃ ج 4ص 371)

    پھر اسی میں ہے:ثُمَّ مَا هُوَ أَقْرَبُ لِعِمَارَتِهِ كَإِمَامِ مَسْجِدٍ وَمُدَرِّسِ مَدْرَسَةٍ يُعْطَوْنَ بِقَدْرِ كِفَايَتِهِمْ ترجمہ:پھر مسجد کےفنڈ کا زیادہ حقداروہ ہے جو مسجد کی آبادی کا قریبی(سبب ) ہو جیسے امام مسجد ، مدرسہ کا مدرس انہیں ان کے اخراجات کے مطابق دیا جائے۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الوقف میں مطلب فی وقف المنقول قصدا ج 4 ص 367)

    امام اہل سنت، سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : اگر مسجد کے مصارف رائجہ فی المساجد کے لئے وقف ہے تو بقدر معہود وشیرینی وروشنی ختم میں صرف جائز افطاری ومدرسہ میں ناجائز۔ نہ اسے تنخواہ مدرسین وغیرہ میں صرف کرسکتے ہیں کہ یہ اشیاء مصارف مسجد سے نہیں ولایجوز احداث مرتبۃ فی الواقف فضلا عن الاجنبی البحت (جب خود واقف کےلئے کسی نئی چیز کا احداث وقف میں جائز نہیں تو محض اجنبی شخص کیلئے کیسے ہوسکتا ہے۔)اور اگر اس نے ان چیزوں کی بھی صراحۃً اجازت شرائط وقف میں رکھی یا مصارف خیر کی تعمیم کردی یا یوں کہاکہ دیگر مصارف خیر حسب صوابدید متولی، تو ان میں بھی مطلقاً یا حسب صوابدید متولی صرف ہوسکے گا۔ اگر شرائط معلوم نہیں تو اس کے متولیوں کا قدیم سے جو عملدرآمد رہا اس پر نظر ہوگی اگر ہمیشہ سے افطاری وشیرینی وروشنی ختم کل یا بعض میں صرف ہوتا رہا اس میں اب بھی ہوگا ورنہ اصلاً نہیں اور احداث مدرسہ بالکل ناجائز۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 16 ص 486،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    2:جو روپے مسجد کے چندے میں حاصل ہوئے بعینہ انہیں خرچ کرنا لازم نہیں ہے بلکہ اسکی جگہ اسی مالیت کے دیگرروپے خرچ کیا جاسکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ جتنے روپے چندے کی مد میں حاصل ہوئے وہ سب اسی مسجد میں صرف کیے جائیں ، نہ یہ جائز کہ اس مسجد کا چندہ دوسری میں لگایا جائے اور نہ یہ جائز کہ جتنا چندہ ملا اس سے کم لگایا جائے۔کیونکہ جب کسی نے اس مسجد کے لئے چندہ دیا تو وہ اسی کے لئے خاص ہوگیا کسی اور مسجد میں لگانا جائز نہیں ۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں: اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام ،حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص)۔ (فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص486)

    3: جائز ہے کہ یہ کارِ خیر کے لئے ہے، مسجد میں اپنی ذات کے لئے مانگنے کی ممانعت ہے البتہ کسی دوسرے محتاج مسلمان کے لئے مانگنا یا کسی دینی یا نیک کام کے لئے چندہ جمع کرنا بلاشبہ جائز امر ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر غریبوں، مسکینوں، جہاد اور دیگر امور کے لیے چندہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی جمع فرمایا کرتے تھے۔ وہیں یہ اعلان فرماتے تھے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے :عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَائَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوْ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لِمَا رَأَی بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ {يَا أَيُهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ الَّذِي خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} (النساء، 4:1) إِلَی آخِرِ الْآيَةِ {إِنَّ اﷲَ کَانَ عَلَيْکُمْ رَقِيبًا} وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ {يَآ اَيُهَا الَّذِيْنَ أَمَنُوْا اتَّقُوا اﷲَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} (الحشر: 18) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ کَادَتْ کَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّی رَأَيْتُ کَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّی رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَتَهَلَّلُ کَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً کَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ۔ترجمہ:حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ناگاہ آپ کے پاس لوگوں کی ایک جماعت آئی جن کے پیر ننگے، بدن ننگے، گلے میں چمڑے کی کفنیاں یا عبائیں پہنے ہوئے اور تلواریں لٹائے ہوئے تھے، ان میں اکثر بلکہ سب قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا، آپ اندر گئے پھر باہر آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ حضرت بلال نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا، (یہ پوری آیت پڑھی) اور سورہ حشر کی یہ آیت پڑھی (ترجمہ :) انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کل آخرت کے لیے کیا بھیج رہا ہے، لوگ درہم، دینار، اپنے کپڑے، گیہوں اور جو با اندازہ صاع (ساڑھے چار سیر کا پیمانہ) صدقہ کریں خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو۔ راوی کہتے ہیں انصار میں سے ایک شخص تھیلی لے کر آئے جس کو اٹھانے سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک گیا تھا، اس کے بعد لوگوں کا تانتا بندھ گیا، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ (خوشی سے)حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ تمتما رہا تھا یوں لگتا تھا جیسے آپ کا چہرہ سونے کا ہو۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام میں کسی نیک کام کی ابتداء کرے اس کو اپنے عمل کا بھی اجر ملے گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا بھی اجر ملے گا اور ان عاملین کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور جس نے اسلام میں کسی برے عمل کی ابتداء کی اسے اپنے عمل کا بھی گناہ ہو گا اور بعد میں عمل کرنے والوں کے عمل کا بھی گناہ ہو گا اور ان عاملین کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔(مسلم ، حدیث نمبر: 1017۔مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر :19197۔ السنن الکبرٰی للبیھقی ، حدیث نمبر : 7530)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالٰی کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں، اور کسی دوسرے کےلئے مانگایا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 16 ص 418)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 ذیقعدہ 1441 ھ/02 جولائی 2020 ء