مرض الموت کے ھبہ کا حکم
    تاریخ: 4 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 958

    سوال

    ہم چھ بہن اور تین بھائی تھے جس میں سے ایک بھائی بہت پہلے فوت ہوچکے ہیں،15 سال پہلے ہمارے والد صاحب نے ہماری حالت دیکھتے ہوئے ہم 6 بہنوں کو تین تین لاکھ روپے دیئے ۔ اب دو ماہ پہلے میرے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے ۔ وہ 1 سال سے بیماری میں مبتلاء تھے ان کو سانس اور پھیپھڑوں کی بیماری تھی جسکی وجہ سے وہ اسہتال میں بھی رہے ، اسی بیماری کی وجہ سے انکا انتقال ہوا ہے انتقال سے 15 دن پہلے میرے والد جب اسپتال میں موجود تھے تو انہوں نےاپنا ذاتی بنگلہ اپنے دونوں بیٹوں کے نام کردیا تھا جوکہ 500 گز کا تھا اور اپنی زندگی میں ہم 6 بہنوں کو بھی اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا تھا ۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ والد کا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟ اگر صحیح نہیں تھا تو آج کی تاریخ میں صحیح فیصلہ کیا ہوگا ؟ اور اس فیصلے کے صحیح نہ ہونے کی صورت میں میرے والد پر کیا وبال ہوگا۔

    سائلہ: رخسانہ ،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو جو مکان بھائیوں کے نام کیا گیا ہے ، وہ مکمل مکان تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ، صرف ان دو بھائیوں کا ہی ان میں حق نہیں ہوگا۔ والد کا انکے نام کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ مذکورہ صورت مرض الموت میں ھبہ (گفٹ)کی ایک صورت ہے اور مرض الموت میں کیا گیا ھبہ وصیت کے حکم میں ہوتا ہے ، جبکہ یہاں جن کے لیے مکان ھبہ کیا گیا وہ خود شرعی وارث ہیں لہذا انکے حق میں وصیت بھی جائز نہیں ہے ۔اور مرض الموت کی بہت سی تعریفات ہیں جن میں سے درست یہ ہے کہ ایسا مرض ہو جس میں غالبا انسان بچتا نہ ہو ،بلکہ مرجاتا ہو تو جب تک موت کا خوف ہے اس وقت تک یہ مرض الموت کہلائے گا اگر چہ تندرستوں کی طرح چلے پھرے ۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: مَرَضِ الْمَوْتِ أَنْ لَا يَخْرُجَ لِحَوَائِجِ نَفْسِهِ وَعَلَيْهِ اعْتَمَدَ فِي التَّجْرِيدِ بَزَّازِيَّةٌ وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ مَا كَانَ الْغَالِبُ مِنْهُ الْمَوْتُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبَ فِرَاشٍ قُهُسْتَانِيُّ عَنْ هِبَةِ الذَّخِيرَةِترجمہ: مرض الموت کی تفسیر میں فرمایا گیا (کہ موت سے قبل) اپنی بنیادی ضروریات کے لئے گھر سے نکل نہ سکے، تجرید میں اسی پر اعتماد کیا ہے، بزازیہ، قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ مختاریہ ہے کوئی بھی ایسا عارضہ جس سے غالبا موت واقع ہوجاتی ہو اگر چہ صاحب فراش نہ ہوا ہو۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار ،کتاب الوصایا جلد 6 ص 660)

    اب جبکہ والد کا انتقال اسی مرض کے سبب ہوا تو ظاہر ہوا کہ یہ مرض الموت ہی ہے اور یہ مکان مرض الموت میں بھائیوں کے نام کیا گیا ہے اور مرض الموت میں اگر اجنبی کے لیے ھبہ ہو تو وہ کل مال کے ایک ثلث میں نافذ ہوتا ہے اور وارث کے حق میں بس اسکے وارث ہونے کا اعتبار ہے اس ھبہ کا اس سے کچھ تعلق نہیں ۔بدائع الصنائع میں ہے: وكذلك الهبة في المرض بأن وهب المريض لوارثه شيئا، ثم مات إنه يعتبر كونه وارثا له وقت الموت لا وقت الهبة؛ لأن هبة المريض في معنى الوصية حتى تعتبر من الثلث.لأن تبرعات المريض مرض الموت تعتبر بالوصايا :ترجمہ: اسی طرح مرض الموت میں ھبہ کا حکم ہے بایں طور مریض نے اپنے وارث کے لیے کچھ ھبہ کیا پھر وہ مرگیا تو اسکے وارث ہونے کا اعتبار موت کے وقت ہوگا ھبہ کے وقت نہیں ہوگا ، کیونکہ مرض الموت میں مریض کے تبرعات وصیت کے طور پر معتبر ہوتے ہیں ۔(بدائع الصنائع کتاب الھبۃ باب الشرط التی یرجع الی الموصی لہ جلد 7 ص 337)

    اب یہ مکان ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ اس مکان کو دس حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے دو ،دو حصے بھائیوں کے اور ایک ،ایک حصہ بہنوں کا ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس مکان کی قیمت لگوا کر دس پر تقسیم کرلیں جس میں سے ایک حصہ ہر بہن کو اور دو حصے ہر بھائی کو دے دیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 شوال المکرم 1440 ھ/01 جولائی 2019 ء