warasat ka masla walida char bete do betiyan
سوال
گزارش یہ ہے کہ کافی عرصہ پہلے ہمارے والد مرحوم کا انتقال ہوچکا ہے مر حوم والد کی وفات کے وقت انکے ورثاء میں ہماری والدہ (بانو)چار بیٹے (ذاکر،شاکر،ناصر،امیر)اور دو بیٹیاں (شاہجہاں،پھول جہاں)حیات تھیں ۔والد کی وراثت میں ایک مکان ہے ، جس کی مالیت 29 لاکھ ہے۔جبکہ اس پر 1لاکھ 30 ہزار کا بل بھی چڑھا ہوا ہے۔والد کی وفات کے بعد ایک بہن پھول جہاں کا انتقال ہوگیا تھا ، انکے شوہر(سلیم) اور دوبیٹے (راحیل،منیب) موجود ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو بل چڑھا ہے وہ اس وقت چڑھا جب والد والے مکان میں صرف ایک بھائی شاکر رہ رہا تھا باقی سب الگ ہو چکے تھے ۔ اور بل ایسے چڑھا کہ شاکر بھی وہ بجلی استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ اس نے کنڈالگوایا ہوا تھا، اور لیکن جو میٹر لگا ہوا تھا اس میٹر پر بل آتا تھا ،جو بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گیا، اب ایک سال ہوگیا لائن کٹ گئی ہے لیکن بل ادا کرنا ہے ابھی بھی ، بڑا بھائی ذاکر کہہ رہا ہے کہ بل سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے تم سب بھائی جانو میں نے اسکو استعمال ہی نہیں کیا۔ اب ہمارے درج ذیل سوالات ہیں
1:۔ بل سب کے حصہ میں سے کٹے گا یا صرف بعض کے میں سے؟
2:۔ وراثت میں ہر ایک کا کتنا کتنا حصہ ہوگا، رقم کی صورت میں؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دے دیں۔
سائل: امیر حسین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:۔بجلی کا بل اس بھائی کے حصہ سے منہا کیا جائے گا جو اس مکان میں رہائش پذیر ہیں ،کیونکہ اس بھائی کی ذمہ داری تھی کہ وہ بل وغیرہ کے معاملات دیکھیں جب مکان میں رہ کر اس کی منفعت اس نے حاصل کی تو جو نقصان ہوگا وہ بھی اسی کاہوگا۔
الاشباہ ص 129 میں ہے الْقَاعِدَةُ الْعَاشِرَةُ: {الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ}:ترجمہ:دسواں قاعدہ یہ ہے کہ خراج ضمان کے بدلے ہے یعنی جو نفع لے گا نقصان بھی اسی کا ہوگا نہ کہ کسی دوسرے کا۔
2:۔آپکی والدہ کو کل وراثت کا آٹھواں حصہ ملے گا جبکہ بقیہ وراثت بہن اور بھائیوں کے درمیاں بطور عصبہ تقسیم ہوگی، السراجی فی المیراث ص18 میں ہے:اما للزوجات الثمن مع الولد او ولد الابن:ترجمہ: بیویوں کے لیے اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ ہے۔
اور ہر بیٹے کو ہر بیٹی سے دگنا ملے گا۔ اس طرح کل وراثت کی تقسیم ہوگی۔قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
اسی میں ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا ۔
لہذا وراثت ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ کل وراثت کے 1920 حصے کیے جائیں ، جس میں سے آپکی والدہ کو 268 حصے اور ہر بھائی کو 336،336 حصے اور بہن (شاہ جہاں) 168 حصے جبکہ بہن (پھول جہاں ) کا حصہ انکے ورثاء میں اسطرح تقسیم ہوگا کہ ان کے شوہر سلیم کو 42حصے ،اور ہر بیٹے ( راحیل،منیب ) کو49،49حصے ملیں گے۔
فائدہ:رقم کی تقسیم اسطرح ہوگی کہ کل رقم29 لاکھ میں سے والدہ کو 404791.64 اور بیٹوں میں سے ہر ایک ( ذاکر ، شاکر ،ناصر،امیر) کو 507499.8 اور شاہ جہاں کو 253744.98 پھول جہاں کے ورثاء میں سے انکے شوہر سلیم کو 63437.497 اور ہر بیٹے کو 74010.413 روپے ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی