Soda Cancel Hone Par Double Bayana Zabt Karna Kaisa
سوال
بیعانہ کی رقم ڈبل واپس لینے کا کیا حکم ہے؟بعض ایگریمنٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ مکان فروخت کرنے والا اگر سودا کینسل کرے گاتو بیعانہ کی رقم ڈبل واپس کرے گا۔
سائل: مجتبی یوسف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بیعانہ کی رقم ڈبل واپس کرنے یا لینے کی شرط لگانا شرعاً ناجائز اور باطل ہے۔ سودا ختم ہونے کی صورت میں خریدار کیلئے صرف اتنا بیعانہ واپس لینا جائز ہے جس سے اس کا حقیقی مالی نقصان پورا ہو سکے، اس سے زائد رقم یا ڈبل رقم کا مطالبہ کرنا اپنے حق سے تجاوز کرنا ہے۔
تفصیلِ مسئلہ:
بیعانہ دراصل شے کی قیمت کا حصہ ہوتا ہے، کوئی مالی جرمانہ نہیں۔ متقدمین فقہاء کے نزدیک بیعانہ ضبط کرنا یا اس پر زائد رقم وصول کرنا مطلقاً ناجائز تھا کیونکہ حدیث مبارک میں "بیع العربون" سے منع فرمایا گیا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں، لوگوں میں دیانتداری کی کمی اور پراپرٹی انوسٹرز کی جانب سے سودے کینسل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے فروخت کنندہ کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
کیونکہ مارکیٹ میں یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ اپنے سودے پراپرٹی کے ریٹ کے مد نظر رکھتے ہوئے پورے کرتےہیں یعنی ایک ہی وقت میں کئی سارے سودے کرتے ہیں اور بطور ضمانت فروخت کنندہ کو بیعانہ کی رقم دے دیتے ہیں اور پھراگر پراپرٹی کی ویلیو کم ہوجاتی ہے اور انہیں اپنا نقصان ہوتا نظر آتا ہے تو سودے کینسل کر دیتے ہیں اور اس سے فروخت کنندہ کو نقصان اٹھانا پرتا ہے۔
اسی ضرر کو دور کرنے کیلئے متاخرین فقہاء نے "لا ضرر ولا ضرار" اور "الضرر یزال" کے تحت یہ گنجائش دی ہے کہ اگر بیچنے والے کی وجہ سے سودا ٹوٹا ہے، تو خریدار بیعانہ کی رقم میں سے صرف اپنے اصل نقصان کے بقدر واپس لے سکتا ہے۔
جہاں تک ڈبل بیعانہ کی شرط کا تعلق ہے، تو یہ شرط صریحاً ناجائز ہے۔ شریعت کسی ایسے تلافی کی اجازت نہیں دیتی جو حقیقی نقصان کی تلافی سے تجاوز کر جائے، کیونکہ ایسی زائد رقم کا کوئی شرعی عوض نہیں ہوتا اور یہ ایک طرح کا سود بن جاتا ہے۔ لہذا اگر بیچنے والا سودا کینسل کرے، تو اس پر صرف خریدار سے لی گئی اصل رقم اور اصل نقصان کے بقدر کی واپسی لازم ہے، اس پر اضافہ (ڈبل رقم) دینا اس کیلئے لازم نہیں اور نہ ہی خریدار کیلئے اسے لینا جائز ہے۔ البتہ اگر کسی حقیقی مجبوری کی وجہ سے سودا نہ ہو پائے، تو اخلاقی اور شرعی تقاضا یہی ہے کہ صرف اصل بیعانہ واپس کیا جائے۔
اشکال و جواب:
اشکال 1: حدیث مبارک میں بیعانہ ضبط کرنے (بیع العربون) سے منع کیا گیا ہے، تو اسے جائز قرار دینا حدیث کی مخالفت کیوں نہیں؟
جواب: ممانعت کی جو روایت (نھی رسول اللہ ﷺ عن بیع العربان) پیش کی جاتی ہے، امام قرطبی اور دیگر محدثین کے نزدیک وہ سنداً ضعیف ہے، لہذا اس سے حرمت کا قطعی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مکان کی خرید وفروخت میں اس شرط پر بیعانہ دیا تھا کہ اگر سودا پسند نہ آیا تو دی گئی رقم بائع کی ہوگی۔ لہذا ضعیف روایت اور صحابہ کے عمل کے تعارض کی صورت میں، اور موجودہ دور کے مفاسد کو دیکھتے ہوئے، حرمت کا قول لازم نہیں آتا۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ، 5/3435) (فقہ المعاملات المالیۃ المقارن، ص:94) (تفسیرالقرطبی ،تحت سورۃ النساء: 29) (مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث 9213 ، سنن البیہقی الکبری، رقم الحدیث 10962)
اشکال 2: بیعانہ ضبط کرنا ناحق مال کھانا ہے کیونکہ بائع کو یہ رقم بغیر کسی عوض کے مل رہی ہے، یہ کیسے جائز ہوا؟
جواب: یہ رقم بلا عوض نہیں ، بلکہ بائع کو ہونے والے اس نقصان کا عوض ہے جو اسے خریدار کے انتظار، مارکیٹ ریٹ گرنےکی وجہ سے اٹھانا پڑا۔ حدیثِ مصراۃ (جس کا مقصد جانور کے تھنوں میں دودھ جمع کر کے خریدار کو دھوکہ دینا ہے) سے ثابت ہے کہ نقصان کا بدلہ (مالی نقصان کے ساتھ) لیا جا سکتا ہے۔ پہلے زمانے میں سونا چاندی معیار تھے جن کی قیمت میں اچانک بڑی کمی نہیں آتی تھی، مگر آج افراطِ زر (Inflation) کے دور میں پیسے کی قیمت روز بروز گر رہی ہے، لہذا بیعانہ ضبط کرنا مالی تحفظ کا ذریعہ ہے۔ (رد المحتار، باب خیار العیب، مطلب فی مسالۃ المصرّاۃ، 5/44، دار الفکر)
اشکال 3: فقہاء کے نزدیک بیعانہ کی شرط خیارِ مجہول اور غرر کی وجہ سے فاسد ہے، اس کا کیا حل ہے؟
جواب: سابقہ ادوار میں یہ غیر یقینی ہوتا تھا کہ خریدار کب تک فیصلہ کرے گا، لیکن عصرِ حاضر میں بیعانہ دیتے وقت وقت کی تحدید کر لی جاتی ہے (مثلاً 15 دن یا ایک ماہ)۔ اس طرح مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے۔ نیز، فقہی قاعدہ "العرف قاض علی القیاس" کے تحت، چونکہ آج پوری دنیا کی تجارتی منڈیوں اور اسلامی بینکوں میں یہ طریقہ رائج ہو چکا ہے، اس لیے تعاملِ ناس اور ضرورت کی بنا پر اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔
اشکال 4: اگر بیعانہ ضبط کرنا جائز ہے، تو پھر ڈبل بیعانہ کی شرط کو ناجائز کیوں کہا جا رہا ہے؟
جواب: بیعانہ ضبط کرنے کی گنجائش صرف بقدرِ نقصان اور بائع کے حقِ تحفظ کیلئے دی گئی ہے۔ شریعت میں کسی بھی تلافی کی حد حقیقی نقصان تک ہوتی ہے۔ ڈبل بیعانہ وصول کرنا نقصان کی تلافی نہیں بلکہ سراسر نفع اندوزی اور ایسا مطالبہ ہے جس کا کوئی شرعی بدل موجود نہیں۔ چونکہ ڈبل رقم کا نہ کوئی عرف ہے اور نہ ہی یہ کسی حقیقی نقصان کا بدلہ ہے، اس لیے یہ سود کے مشابہ ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔
اشکال 5: کیا ہر صورت میں بیعانہ ضبط کرنا جائز ہوگا؟
جواب: جی نہیں، یہ گنجائش صرف بددیانتی کے ضرر سے بچانے کیلئے ہے۔ اگر بائع و مشتری (دونوں میں سے کوئی بھی ) کسی حقیقی مجبوری (مثلاً موت، حادثہ یا دیوالیہ ہونا) کی وجہ سے سودا ختم کرے تو دوسرے فریق کیلئے بیعانہ ضبط کرنا اخلاقاً اور شرعاً اب بھی ناپسندیدہ ہے اور ایسی صورت میں اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے رقم واپس کرنا ہی فتوی ہے۔
دلائل و جزئیات:
علامہ زین الدین ابن نجیم المصری (المتوفی: 970ھ) لکھتے ہیں: "الضرورات تبيح المحظورات". ترجمہ: ضرورات محظورات کو جائز کردیتی ہیں۔(الاشباہ والنظائر، ص: 73، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
آپ ہی فرماتے ہیں: "الضرر يزال".ترجمہ: نقصان کو دور کیا جاتا ہے۔ (الاشباہ والنظائر، ص: 72، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
نقصان پہنچانے کی ممانعت پر امام ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ (المتوفی: 273ھ) روایت نقل فرماتے ہیں: "عن عبادة بن الصامت، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قضى أن لا ضرر ولا ضرار".ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 2340)
بیعانہ (عربون) کے جائز ہونے کی صورتوں پر المعاییر الشرعیہ (آیوفی) میں ہے: "يجوز العربون في عقود المعاوضات التي لا يشترط لصحتها تسليم البدلين أو أحدهما سواء كان المعقود عليه معينا أو موصوفا في الذمة مثل البيع و الاستصناع و الاجارة المعينة والموصوفة في الذمة".ترجمہ: عربون (بیعانہ) ان عقود میں جائز ہے جو ایسے عقودِ معاوضہ ہوں جن کے صحیح ہونے کیلئے قیمت اور فروخت کردہ چیز دونوں پر یا ان میں سے کسی ایک پر قبضہ کرنا شرط نہ ہو، خواہ جس چیز پر عقد ہوا ہے وہ کوئی متعین چیز ہو یا کوئی ایسی چیز ہو جس کی صفات متعین کر دی گئی ہوں، مثلاً بیع، استصناع، اجارہ معینہ اور اجارہ موصوف فی الذمہ۔ (المعاییر الشرعیہ، صفحہ: 1258، بحرین) واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:17ذو القعدہ 1447ھ/5 مئی 2026ء