مروجہ شبینہ پڑھنے اور پڑھوانے کا حکم
    تاریخ: 16 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 148
    حوالہ: 8

    سوال

    ہمارے گاؤں میں لاؤڈ سپیکر پر شبینہ پڑھوایا جاتا ہے یعنی حفاظ کرام ایک رات میں قرآن پاک پڑھتے ہیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ پڑھنے والا اکیلا بیٹھ کر پڑھتا ہے باقی سب سو جاتے ہیں یا الگ بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں یعنی گفتگو کرتے رہتے ہیں قرآن سنتا کوئی بھی نہیں ایسی صورت میں شبینہ پڑھنا یا پڑھوانا کیسا ہے ؟

    سائل :قاری غلام عباس

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ خصوصاً اِن علاقوں(یعنی جنوبی پنجاب ) میں جس طریقے سے شبینہ پڑھا جاتا ہے جیسا کہ سوال میں ذکر ہے ، اس میں کئی شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اس طرح شبینہ پڑھنا اور پڑھوانا درست نہیں ۔

    پہلی یہ کہ پڑھنے والے اکثر حفاظِ کرام (اِلّا ما شاء اللہ) قرآنِ مجید کو ان طریقوں سے نہیں پڑھتے جنہیں شرعاً معتبر قرار دیا گیا ہے، یعنی ترتیل، حدر یا تدویر۔ بلکہ ان کا پڑھنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ آخر میں صرف "یعلمون و تعلمون" ہی سمجھ آتا ہے، باقی الفاظ واضح نہیں ہوتے۔ الفاظ کے مخارج اور صفاتِ لازمہ کا بھی لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ لہذا اس طرح قرآن پڑھنا ناجائز ہے، کیونکہ علامہ ابن الجزریؒ نے فرمایا ہے کہ جو شخص قرآن کو تجوید کے بغیر پڑھے وہ گناہگار ہے۔

    دوسری یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا سنت اور اس کو سننا فرض ہے۔ شبینہ میں جب حافظِ قرآن بلند آواز سے تلاوت کرتا ہے، اور پڑھنے والا اکیلا پڑھتا رہتا ہے جبکہ جو حفاظ سننے کے لیے آئے تھے وہ سو جاتے ہیں، اور آواز ایسے لوگوں تک جاتی ہے جو اپنے کام کاج یا گفتگو میں مشغول ہوتے ہیں اور کوئی شخص سننے والا باقی نہیں رہتا، تو اس وقت قرآن پڑھنا بے ادبی اور سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ ایسا کرنے سے لوگوں کے دلوں سے عظمتِ قرآن کم ہوگی، اور اس کا گناہ اس شخص پر ہوگا جو شبینہ پڑھ رہا ہے اور جو پڑھوا رہا ہے، نہ کہ ان لوگوں پر جو پہلے ہی اپنے کاموں میں مشغول ہیں۔

    دنیاوی مثال اس کی یہ ہے کہ اگر کوئی معزز شخص لوگوں سے خطاب کرے اور سامعین اپنے کاموں میں مصروف رہیں تو وہ شخص اسے اپنی توہین اور بے ادبی سمجھے گا۔ جبکہ قرآنِ مجید وہ عظیم کتاب ہے جس میں کوئی اور نہیں بلکہ کائنات کی سب سے عظیم اور معزز ذات ہم سے ہم کلام ہے۔ پھر اگر اس وقت توجہ نہ دی جائے اور لوگ اپنے کاموں میں لگے رہیں تو یہ کتنی بڑی بے ادبی ہوگی، یہ بات ہر ذی شعور اور ذی فہم شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے۔

    تیسری یہ ہے کہ اگروہاں آئے ہوئے حفاظ جن میں ایک پڑھتا ہے اور باقیوں کا کام سننا ہوتا ہے سوتے نہیں بلکہ علیحدہ بیٹھ کر آپس میں گفتگو کرتے رہتے ہیں تو یہ بھی ناجائز ہے، کیونکہ ان کا مقصد یہاں قرآن سننا تھا۔ جب قرآن مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو ہر ایک پر فرضِ عین ہے کہ اسے غور سے سنے۔ لہٰذا جو لوگ قرآن سننے کے بجائے باتوں میں مشغول رہتے ہیں، وہ گناہگار ہوتے ہیں۔

    چوتھی یہ ہے کہ ان علاقوں میں لاوڈ اسپیکر کا استعمال کیا جاتا ہے، اور اس کی آواز بہت زیادہ بلند کر دی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف عام لوگوں کو اذیت پہنچتی ہے بلکہ نمازیوں اور ذاکرین کے سکون و خشوع میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ لوگ اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کی وجہ سے تلاوت نہیں سن سکتے ، یہ طریقہ درست نہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر علمائے کِرام نے قرآنِ مجید کی تلاوت کو لاوڈ اسپیکر پر اس طرح بلند آواز سے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اگر یہ خرابیاں نہ ہوں بلکہ شبینہ میں قرآنِ مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھا جائے، اور لاؤڈ اسپیکر استعمال نہ کیا جائے، یا اگر کیا بھی جائے تو آواز صرف شرکاءِ شبینہ تک محدود رکھی جائے، تو یہ جائز ہے۔ ایسی صورت میں شبینہ پڑھانے والے بھی اور پڑھنے والے بھی ثواب کے مستحق ہوں گے۔ اس بارے تفصیلا ًکچھ مقدمات ذکر کیے جاتے تاکہ بات واضح ہوجائے ۔

    پہلا مقدمہ :فی نفسہ شبینہ پڑھنا و پڑھانا جائزاور ثواب کا کام ہے:

    رمضان میں یا رمضان کے علاوہ میں ہمارے اکابرو آئمہ دین کا دستور رہا ہے کہ وہ روزانہ ایک قرآن شریف کا ختم پڑھ لیتے تھے لہذا شبینہ فی نفسہ قطعاً جائز اور ثواب کا کا م ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ اتنی جلدی نہ پڑھے کہ حروف قرآن درست ادا نہ ہو اور نہ سستی اور کسل سے پڑھے ۔ حضرت اما م اعظم رحمۃا للہ علیہ نے تیس سال کامل ہر را ت رکعت میں قرآن مجید ختم کیا ہے۔

    اس بارے ر د المحتار میں ہے :"قَالَ الْحَافِظُ الذَّهَبِيُّ: قَدْ تَوَاتَرَ قِيَامُهُ بِاللَّيْلِ وَتَهَجُّدُهُ وَتَعَبُّدُهُ، أَيْ وَمِنْ ثَمَّ كَانَ يُسَمَّى الْوَتَدَ لِكَثْرَةِ قِيَامِهِ بِاللَّيْلِ، بَلْ أَحْيَاهُ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي رَكْعَةٍ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ يُسْمَعُ بُكَاؤُهُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يَرْحَمَهُ جِيرَانُهُ". ترجمہ :حضرت امام حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ کا قیام اللیل ،تہجد اور عبادت کرنا تواتر کے ساتھ منقول ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو "وتد" یعنی کیل کہا جاتا ہے ؛کیونکہ آپ کے قِیام و لیل میں کثرت تھی بلکہ آپ تیس سال تک رات کو ایک رکعت میں پورے قرآن کی تلاوت کرتے اور رات کو آپ کے رونے کی آواز سنی جاتی تھی حتّٰی کے کہ آپ کے پڑوسی آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی دعا کرتے ۔( رد المحتار ،مقدمہ،ج:1،ص:62،دارا لفکر بیروت)

    اعلٰحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان( علیہ رحمۃ الرحمٰن) اس حوالے سے لکھتے ہیں" اہل دین کے افعال سے تمسّك کیاجائے گا۔علمائے کرام نے فرمایا ہے سلف صالحین میں بعض اکابر دن رات میں دوختم فرماتے ،بعض چار ،بعض آٹھ ، میزان الشریعہ امام عبدالوہاب شَعرانی میں ہے کہ سیدی علی مرصفی قدّس سرُہ نے ایك رات دن میں تین لاکھ ساٹھ ہزارختم فرمائے ۔ ''آثار''میں ہے امیرالمومنین مولٰی علی( کرّم اﷲ تعالٰی وجهه الکریم )بایاں پاؤں رکاب میں رکھ کر قرآن مجید شروع فرماتے اور دَہنا پاؤں رکاب تك نہ پہنچتا کہ کلام شریف ختم ہوجاتا۔ بلکہ خود حدیث میں ارشاد ہے کہ داؤد علیہ السلام اپنے گھوڑے زِین کرنے کو فرماتے اور اتنی دیر سے کم میں زبور یاتوراۃ مقدس ختم فرمالیتے۔ توراۃ شریف قرآن مجید سے حجم میں کئی حصے زائد ہے۔والحدیث رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال خفف علی داؤد القراٰن فکان یامر بدوابہ فتسرج فیقرأ القراٰن من قبل ان تسرج دوابہ. امام احمد اور امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ حدیث شریف روایت کی ہے کہ رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : حضرت داؤدعلیہ السلام پراﷲ تعالٰی نے تلاوت آسان فرمادی تھی آپ سواری پرزین رکھنے کاحکم دیتے اور زین رکھی جاتی توآپ زین رکھنے سے پہلے زبورتلاوت کرلیتے۔( صحیح البخاری ، کتا ب الانبیا ء ،قول اللہ آتینا ساود و زبور )۔(فتاوی رضویہ ،ج:7 ،ص:477،رضا فاونڈیشن )

    مزید یہ کہ اعلحضرت عظیم البرکت فرماتے ہیں کہ فی نفسہ یہ فعل حسن ہے اگر اس میں کراہت یا ممانعت ا ٓتی ہے تو عوارضات سے ۔

    دوسرا مقدمہ :ایک رات میں پورا قرآن پڑھنا

    شبینہ میں تو ایک رات میں قرآن کریم کا ختم کیا جاتا ہے صحابی رسول حضرت تمیم داری رضی اللہ عنه تو ایک رکعت میں سارا قرآن شریف پڑھا کرتے تھے طحا وی شریف میں امام ابن سیرین سے روایت ہے کہ :" عن ابن سیرین قال تمیم الداری یحیی ٰ اللیل کله بالقرآن کله فی رکعة" . ترجمہ : حضرت ابن سیرین سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ تمام رات جاگتے اور ایک رکعت میں سارا قرآن پاک پڑھتے تھے ۔( شرح معانی الاثار ،کتاب الصلاة ، باب جمع السور فی رکعة ،ج :1،ص:348،عالم الکتب )

    لہٰذا جب بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک ہی رات میں پورا قرآن پاک ختم فرما لیتے تھے یہ جائز ہے تو شبینہ میں پوری رات میں ایک ختمِ قرآن کرنا بطریقِ اولیٰ جائز ہوگا۔ ایک حدیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو تین دن سے کم میں قرآن پڑھے وہ قرآن نہ سمجھے گا بعض حضرات نے اعتراض کیا کہ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین دن سے کم میں پورا قرآن نہ پڑھنا چاہیے؛ کیونکہ پھر قرآن سمجھ نہ آئے گا لہذا شبینہ بالکل منع ہے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اعلٰحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں "یہ وجہ صرف افضلیت کی نفی ہے جس سے کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی‘‘ ۔تائید کے طور پر فرمایا کہ:و لہذا عالمگیری میں کراہت شبینہ کے قول کو بصیغہ ضعف و مرجوحیت نقل کیا حیث قال افضل القرأۃ ان یتدبر فی معناہ حتی قیل یکرہ ان یختم القراٰن فی یوم واحد . یہاں الفاظ یہ ہیں کہ افضل قرأت یہ ہے کہ اس کے معانی میں تدبر ہوحتی کہ یہ کہاگیا ہے کہ ایک دن میں ختم قرآن مکروہ ہے۔ اقول پھریہ بھی ان کے لئے ہے جوتفکر معانی کریں یہاں کے عام لوگ کہ کتناہی دیرمیں پڑھئے تفکر سے محروم ہیں اُن کے لئے دیر بے سود ہے اور وہ مقصود لذاتہٖ نہیں بلکہ اسی لئے مقصود ہے اُن کے لئے معتدل جلدی ہی کاافضل ہونا چاہئے کہ جس قدر جلد پڑھیں گے قرأت زائد ہوگی اورقرآن کریم کے ہرحرف پردس نیکیاں ہیں سَوکی جگہ پانسوحرف پڑھے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزارنیکیاں ملیں، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من قرأ حرفا من کتاب اﷲ فلہ حسنۃ و الحسنۃ بعشرا مثالھا لااقول المـ حرف ولکن الف حرف ولام حرف ومیم حرف ۔ رواہ الدارمی والترمذی و صححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ جس نے قرآن کریم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ہرنیکی دس نیکیاں، میں نہیں فرماتا کہ المـ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ اسے دارمی اور ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیااور اسے صحیح کہا۔اور ہرثواب فہم پرموقوف نہیں، امام احمد رضی اﷲ عنہ نے رب عزوجل کوخواب میں دیکھا عرض کی: اے میرے رب! کیاچیزتیرے بندوں کو تیرے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ فرمایا: میری کتاب۔ عرض کی: یارب بفھم اوبغیرفھم اے میرے رب! سمجھ کر یابے سمجھ بھی۔ فرمایا: بفھم وبغیرفھم سمجھ کر اور بے سمجھے۔ (فتاوی رضویہ ،ج:7 ،ص:478،رضا فاونڈیشن)

    تیسرا مقدمہ :قرآن کریم کا پڑھنا اور اس کا سننا

    قرآن کا پڑھنا و تلاوت کرنا مستحب ہے،اس بارے الموسوعة الفقہیة میں ہے :" وَيُسْتَحَبُّ الإِكْثَارُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَتِلاَوَتِهِ خَارِجَ الصَّلاَةِ. قَال تَعَالَى مُثْنِيًا عَلَى مَنْ كَانَ ذَلِكَ دَأْبَهُ:ٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْل. ترجمہ : نماز کے علاوہ (یعنی باہر) قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جن کا یہ معمول ہوتا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: 'وہ رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔(الموسوعة الفقہیة ،ج:13،ص:251)

    لیکن قرآن کو ایسا نہ پڑھا جائے کہ سننے والے کو " یعلمون ،تعلمون" سمجھ آئے بلکہ اچھے لہجے اور تجوید کے اصولوں کے مطابق قرآن پڑھا جائے قرآن کو پڑھنے کے لیے صفات لازمہ بھی ہیں اور صفات عارضہ بھی ہیں اگر صفات لازمہ کا اعتبار نہیں کرتے تو وہ لفظ ہی ادا نہیں ہوتا ۔

    تجوید کی تعریف العلوم التجویدیہ فی شرح مقدمۃ الجزریہ میں اس طرح کی گئی جیسا کہ:" وعُرف التجويد على أنه إعطاء كل حرف حقه مخرجاً وصفةً، وقيل من البعض هو مرتبة من مراتب القراءة وهي مرتبة من مراتب التحقيق وهي من أقوى المراتب في تحقيق الحروف. ترجمہ : تجوید کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ہر حرف کو اس کا حق دیا جائے اس کا صحیح مخرج اور اس کی صفات ادا کر کے ۔ اور بعض کے نزدیک تجوید قراءت کی مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے، جو 'تحقیق' کے مراتب میں شامل ہے، اور یہ حروف کی ادائیگی میں سب سے مضبوط مراتب میں شمار ہوتا ہے۔ ( ‫العلوم التجويدية في شرح المقدمة الجزرية،ص:30) ‬‬‬‬‬‬‬‬

    تجوید کے ساتھ قرآن مجید کو پڑھنے کے حوالے سے علامہ جذری کے مشہور اشعار :" وَالأَخْذُ بِالتَّجْوِيدِ حَتْمٌ لازِمُ ... مَنْ لَمْ يُجَوِّدِ الْقُرَآنَ آثِمُ،لأَنَّهُ بِهِ الإِلَهُ أَنْزَلاَ ... وَهَكَذَا مِنْهُ إِلَيْنَا وَصَلاَ،وَهُوَ أَيْضًا حِلَيةُ التِّلاَوَةِ ... وَزِيْنَةُ الأَدَاءِ وَالْقِرَاءَةِ،وَهُوَ إِعْطَاءُ الْحُرُوفِ حَقَّهَا ... مِنْ صِفَةٍ لَهَا وَمُستَحَقَّهَ. ترجمہ : تجوید کو اختیار کرنا لازم اور واجب ہے … جو شخص قرآن کو تجوید کے ساتھ نہیں پڑھتا وہ گناہگار ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو تجوید کے ساتھ ہی نازل فرمایا ہے … اور اسی طرح تجوید کے ساتھ ہی یہ ہم تک پہنچا ہے،یہ (تجوید) تلاوت کی زینت ہے … اور پڑھنے اور قراءت کی خوبصورتی ہے،اور یہ ہے کہ ہر حرف کو اس کا پورا حق دیا جائے … اس کی صفات اور اس کے لائق ادا کے ساتھ۔(المقدمة الجزریة ،باب التجويد،11،دار المغني للنشر والتوزيع)

    اور قرآن مجید سننا فرض ہے ۔ قرآن مجید کو سننے کے بارے اللہ تبارک و تعالٰی ارشاد فرماتا ہے : وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ .ترجمہ : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔

    اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی اگر تلاوت کی جائے تو اسے غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے. اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ۔

    اس بارے علیٰحضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ رحمہ فرماتے ہیں :کہ علماء کو اختلاف ہے کہ یہ استماع وخاموش فرض عین ہے کہ جلسہ میں جس قدر حاضر ہوں سب پر لازم ہے کہ ان میں جو کوئی اس کے خلاف کچھ بات کرے مرتکب حرام وگنہگار ہوگا یا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایک شخص بغور متوجہ ہو کر خاموش بیٹھا سن رہا ہے تو باقی پر سے فرضیت ساقط، ثانی اوسع اور اول احوط ہے۔ ظاہر یہ ہے واللہ تعالٰی اعلم کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے تلاوت قرآن عظیم بآواز کررہا ہے اور باقی لوگ اس کے سننے کو جمع ہوئے بلکہ اپنے اغراض متفرقہ میں ہیں تو ایک شخص تالی کے پاس بیٹھابغور سن رہاہے ادائے حق ہوگیا باقیوں پر کوئی الزام نہیں، اوراگر وہ سب اسی غرض واحد کے لئے ایک مجلس میں مجتمع ہیں تو سب پر سننے کا لزوم چاہئے جس طرح نماز میں جماعت مقتدیان کہ ہر شخص پر استماع وانصات جداگانہ فرض ہے یا جس طرح جلسہ خطبہ کہ ان میں ایک شخص مذکر اور باقیوں کو یہی حیثیت واحدہ تذکیر جامع ہے تو بالاتفاق ان سب پر سننا فرض ہے نہ یہ کہ استماع بعض کافی ہو جب تذکیر میں کلام بشیر کا سننا سب حاضرین پر فرض عین ہوا تو کلام الٰہی کاا ستماع بدرجہ اولٰی۔(فتاوی رضویہ )

    قرآن پاک کی تلاوت کرنا اس جگہ جہاں لوگ اپنے اپنے کام میں مشغول ہوں اس بارے "حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار" میں ہے:"و یجب علی القارئ احترامه بان لا یقرء فی الاسواق و مواضع الاشتغال فان قرء فیھا کان ھو المضیع لحرمتہ ۔فیکون الاثم علیہ دون اھل الاشتعال دفعا للحرج فی الزامھم ترک اشتغالھم المحتاج الیھا.ترجمہ:اور قرآن پڑھنے والے پر واجب ہے کہ اس کا احترام کرے اس طرح کہ بازاروں میں اور ایسی جگہوں میں جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں ،تلاوت نہ کرے اور اگر ایسی جگہوں پر پڑھا تو یہ قرآن کی حرمت کو ضائع کرنے والا ہے اور اس کا گناہ اس پر ہے کاموں میں مشغول لوگوں پر نہیں اس لیے کہ سننے کے لیے انہیں اپنے کام چھوڑ دینے کا حکم دینا انہیں تکلیف میں ڈالنا ہے اور ایسا نہیں کیا جائے گا۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار،جلد:2، صفحہ:240، مکتبہ وحیدیہ بشاور باکستان)

    اسی بارےمفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ایسی جگہ جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں ،جیسے بازار وغیرہ ،وہاں بلند آواز سے قرآن کی قراءت و تلاوت سخت مکروہ ہے ۔اس سے قرآن کی عظمت لوگوں کے دلوں سے کم ہوجائے گی ۔لہذا پڑھنے والا اور اسی طرح پڑھوانے والا دونوں گناہگار ہیں۔(وقار الفتاوٰی ،جلد:2،ص:95،بزم وقارالدین مدنی مدرسہ ضیاء القرآن کراچی)

    ہاں شبینہ میں اس بات کا ضرور لحاظ رکھا جائے کہ قاری قرآن آداب واصول قراءت کی رعایت کرتے ہوئے تلاوت کرے اور لوگ دلچسپی کے ساتھ قرآن مجید کی سماعت کریں،جیسا کہ بہار شریعت میں ہے:" شبینہ کہ ایک رات کی تراویح میں پورا قرآن پڑھا جاتا ہے، جس طرح آج کل رواج ہے کہ کوئی بیٹھا باتیں کر رہا ہے، کچھ لوگ لیٹے ہیں ، کچھ لوگ چائے پینے میں مشغول ہیں ، کچھ لوگ مسجد کے باہرحقہ نوشی کر رہے ہیں اور جب جی میں آیا ایک آدھ رکعت میں شامل بھی ہوگئے یہ ناجائز ہے۔ (بہار شریعت جلد1،حصہ4،صفحہ700 مکتبۃ المدینہ کراچی)

    اونچا پڑھنے سے کسی شخص کو تکیف نہ پہنچے اس بارے "مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح" میں ہے:"قال الطيبي جاء آثار بفضيلة الجهر بالقرآن وآثار بفضيلة الاسرار به والجمع بأن يقال الإسرار أفضل لمن يخاف الرياء والجهر أفضل لمن لا يخافه بشرط أن لا يؤذي غيره من مصل أو نائم أو غيرهما .ترجمہ: طیبی نے فرمایا: قرآن کو بلند آواز سے پڑھنے کی فضیلت پر بھی آثار (احادیث و روایات) آئے ہیں اور آہستہ پڑھنے کی فضیلت پر بھی۔ ان دونوں میں جمع یوں کیا جائے کہ آہستہ پڑھنا اُس کے لیے افضل ہے جسے ریا کا خوف ہو، اور بلند آواز سے پڑھنا اُس کے لیے افضل ہے جسے ریا کا خوف نہ ہو، بشرطیکہ اس کے پڑھنے سے کسی نمازی، سونے والے یا دوسرے کسی شخص کو اذیت نہ پہنچے۔ ( مرقاۃ المفاتيح ،کتاب فضائل القرآن، ج ٥ ص ٨٢،دارالکتب العلمیۃ بیروت )

    بہار شریعت میں ہے:صدر الشریعہ( علیہ الرحمہ )تحریر فرماتے ہیں: "حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے۔(بہار شریعت ، قرآن مجید پڑھنے کا بیان ،ج: 1، حصہ: سوئم ، ، ص :544،المکتبۃ العلمیہ)

    اس بارے سیدی امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:قرآن عظیم کی تلاوت آواز سے کرنا بہتر ہے مگر نہ اتنی آواز سے کہ اپنے آپ کو تکلیف یا کسی نمازی یا ذاکر کے کام میں خلل ہو یا کسی جائز نیند سونے والےکی نیند میں خلل آئے یا کسی بیمار کو تکلیف پہنچے یا بازار یا سرایا عام سڑک ہو یا لوگ اپنے کام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لئے حاضر نہ رہے گا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنے کا حکم ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد23،صفحہ383،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد سجاد سلطانی

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 03ربیع الثانی 1446ھ/26ستمبر2025