سوال
میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے ، سات سال پہلے 2012 میں۔میرا ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔ انکی وراثت میں 86 لاکھ روپے کیش جس کا مکان خریدا۔11 لاکھ کیش اپنے داماد کو دیئے ۔ اس سے پہلے 21 لاکھ اسی داماد کو دیئے تو کل 32 لاکھ داماد کو قرض دیئے ہوئے تھے جس کا وہ آج بھی اقرار کرتا ہے ۔میرے شوہر کا ایک پلاٹ تھا جو انہوں نے میرے نام کیا تھا جو میں نے بیچ کر بیٹے کی شادی کردی ۔ کچھ شیئرز تھےجن کو بیچ کر میں نے ایک لاکھ ستر ہزار کے وصول کیے جو کہ گھر کے اخراجات میں خرچ کردیئے ، انہوں نے ایک جگہ ایک لاکھ انوسٹ کیئے ہوئے ہیں جس کا 3 ہزار ہر مہینے نفع آتا ہے جوکہ گھر میں خرچ ہوجاتا ہے ،اسی طرح میرے شوہر کے والد کے مکان سے میرے شوہر کا حصہ ملا ایک لاکھ سترہ ہزار جوکہ میں نے گھر میں خرچ کردیا ۔ میرے شوہر کی سرکاری نوکری تھی ابھی پنشن پروسس میں ہے ، جبکہ انشورنس کے ایک لاکھ 75 ہزار روپے ملے تھے وہ بھی گھر میں ہی خرچ ہوگئے ۔
اب میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اپنے شوہر کے اثاثوں کو میں کس طرح تقسیم کروں ۔ برائے مہربانی تفصیلا میری رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ:رخسانہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔
پھر وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔
علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں :ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه:ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا( یعنی وہ اسی کی ملکیت میں ہو)۔(التعریفات ص 42)
لہذا آپ کے شوہر زندگی میں جس جس چیز کے مالک تھی وہ سب چیزیں تمام ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہونگی۔
ذکر کردہ اشیاء میں سے (1) مکان جو آپ نے انکی وراثت کے پیسوں سے لیا ،(2) 32 لاکھ جو داماد کے ذمے انکے واجب الادء ہیں ، وراثت میں تقسیم ہونگے ۔اور اسکے علاوہ وراثت کی جو رقوم آپ نے گھریلو اخراجات میں خرچ کی وہ رقم وراثت میں شامل نہیں ہوگی یعنی آپ اس رقم کی دَین دار نہیں ہیں۔جس کے بعد یہ رقم آپ سمیت تمام ورثاء میں انکی شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی ۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے میت کی بیوی کو 6 حصے ملیں گے اور بیٹے کو 14 حصے جبکہ ہر بیٹی 7 حصوں کی حقدار ٹھہرے گی۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ : ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 48 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 شوال المکرم 1440 ھ/01 جولائی 2019 ء