walda chay bhai aur do behnein
سوال
میرے چھ بھائی ہیں اور ہم دو بہنیں ہیں والدہ ابھی حیات ہیں ۔والدصاحب کی زندگی میں انکی ملکیت میں جو جائیداد تھی اسکی تفصیل یہ ہے ، لیاقت آباد سپر مارکیٹ مرغی سیکشن میں دو دکانیں ، ایک بکرا سیکشن میں دوکان ، دو دکانیں غریب آباد مین روڈ پر ،لیاقت آباد میں ایک مکان سنگل اسٹوری،ایک 90 گز کا چار منزلہ مکان ، ایک 120 گز کا موسیٰ کالونی میں مکان تھا۔ بھائیوں نے میری شادی کے بعد والد کو بہلا پھسلا کے جائیداد بکوانی شروع کردی ،یہاں تک کہ والد نے زندگی میں زیادہ تر جائیداد بیچ دی۔پھر اسکے بعد والد صاحب کا انتقال ہوگیا اور انتقال تقریبا 18 سال پہلے کی بات ہے ،انتقال کے وقت انکی جائیداد میں صرف غریب آباد کی دو دوکانیں اور لیاقت آباد میں 90 گز والا چار منزلہ گھر تھا۔پانچ سال پہلے غریب آباد کی دوکانیں بھائیوں نے یہ کہہ کر بیچ دی کہ ابو نے کہا تھا یہ تم بھائیوں کی ہیں ہم دونوں بہنوں کو کسی میں سے کچھ حصہ نہیں دیا ۔اب صرف چار منزلہ مکان بچا ہے ہم کرائے پر رہ رہے ہیں گیس بجلی وغیرہ کا بل بھرتے ہیں ۔ چند سال پہلے والدہ نے کہا تھا کہ چار منزلہ گھر میں سے ایک پورشن تم دونوں کو دونگی ۔ لیکن بھائیوں نے چال چلی اور ماں کو اپنی طرف کر لیا وہ کہتے ہیں کہ اس گھر کے اوپر ایک اور پورشن بنا کر کرائے پر دیں گے اور پانچ سال بعد تم کو حصہ دیں گے ۔ آپ سے درخواست ہے کہ شریعت کے مطابق ان لوگوں کا فیصلہ صحیح ہے جب کہ ہم دونوں بہنوں کو ابھی تک کچھ نہیں دیا۔شریعت کی رو سے بٹوارہ کیسے ہوگا جبکہ وہ کہتے ہیں کہ جو دوکانیں بک گئیں اس کا کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
ٍسائلہ : زیب النساء :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو آپ کے بھائی سخت گناہ کا کام کر رہے ہیں ،اور اللہ کی سخت پکڑ میں آئیں گے ،
کیونکہ شریعت کے اعتبار سے وراثت میں سے کسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے اور آپ کے تمام بھائیوں پر واجب ہے کہ آپکو اور آپ کی بہن کو حصہ دیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،
بالخصوص بہنوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے، جو کہ شریعت کے نزدیک سخت گناہ ہے اور ایساکرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ :ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔( سورۃ الفجر آیت 18تا 25)
آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں اپنی بہنوں کوانکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ،اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں
بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ:ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
بخاری شریف میں ہی دوسرے مقام پر ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»:ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)
بہرحال مذکورہ صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ جس وقت آپکے والد کا انتقال ہوا اس وقت انکی ملکیت میں جو جو چیزیں(غریب آباد کی دو دوکانیں اور لیاقت آباد میں 90 گز والا چار منزلہ گھر )تھی ان تمام چیزوں میں وراثت جاری ہوگی اور وہ تمام چیزیں ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہونگی،اگر ان میں سے کوئی چیز دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر بیچ دی گئی تو اس کی قیمت وراثت میں شامل کرکے تقسیم کی جائے گی ۔تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل وراثت کے 112 حصے کیے جائیں گے جس میں سے والدہ کو 14 حصے ہر بھائی کو بھی 14 حصے اور ہر بہن کو 7،7 حصے دیے جائیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔
بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : 12)
لڑکے لڑکیوں کے حصے کے بارے میں ارشاد ہے،قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ: ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
نوٹ: کل جائیداد کی قیمت لگا کر اسکو 112 پر تقسیم کرلیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں حاصل ضرب ہر وارث کا حصہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 صفر المظفر 1440 ھ/07 نومبر 2018 ء