مقروض کو زکوۃ کی رقم دے کر قرض کی مد میں واپس لینے کا حکم
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 299

    سوال

    ہم ایک ایسوسی ایشن کی طرف سے مندرجہ ذیل امور پر تحریری فتویٰ چاہتے ہیں:

    (۱)کیا ہم زکوٰۃ کے فنڈز کو شریعہ کے مطابق منی مارکیٹ فنڈز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ اور ان فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کے ممکنہ استعمال کیا ہیں؟

    (۲)کیا ہم زکوٰۃ کے فنڈز کو منافع بخش اسلامی بینکنگ مصنوعات میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟ اور ان فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کے ممکنہ استعمال کیا ہیں؟

    (۳)ایک ایسوسی ایشن نے گذشتہ 11 ماہ (جولائی 23 - مئی 24) کے دوران کچھ طلباء کو تعلیم کی مدد عطیات / غیر زکوٰۃ اکاؤنٹ سے فراہم کی ہے۔یہ افراد زکوٰۃ اکاؤنٹ سے مدد حاصل کرنے کے اہل بھی ہیں کیونکہ وہ اس مدت کے دوران زکوٰۃ کی صورت میں کچھ مدد حاصل بھی کر رہے ہیں۔اب ایسوسی ایشن غیر زکوٰۃ اکاؤنٹ سے فراہم کردہ تعلیم کی مدد کو زکوٰۃ اکاؤنٹ میں بک انٹری کے ذریعے منتقل کرنا چاہتی ہے،کیا یہ جائز ہے؟

    (۴)ایک ایسوسی ایشن نے ایک فنڈ بنایا ہے جس کے ذریعے وہ چھوٹے کاروبار، موٹر بائیکس، ہاؤسنگ، لیپ ٹاپ وغیرہ کے لئے قرض حسنہ فراہم کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ قرضے اب ناقابل واپسی ہیں کیونکہ قرض لینے والوں کی دیوالیہ پن کی وجہ سے یہ اب زکوٰۃ کے اہل ہیں۔ کیا ہم ان قرضوں کو زکوٰۃ اکاؤنٹ سے منتقل کر کے مائیکروفنانس فنڈ کو بحال کر سکتے ہیں؟ کیا یہ بک انٹری کے ذریعے کیا جا سکتا ہے؟ یا ہمیں ان قرضوں کو زکوٰۃ فنڈ سے ایڈجسٹ کرنے کے لئے کوئی اور طریقہ کار اپنانا ہوگا؟

    سائل: عبد اللہ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱)(۲)زکوۃ کے فنڈ سے منی مارکیٹ یا اسلامی بینک میں بغرض نفع سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں۔کیونکہ شرع کی طرف سے مصارفِ زکوۃ (جہاں مال زکوۃ خرچ کرنے کی اجازت ہے)متعین ہیں۔جن میں فقراء،مساکین،عاملین زکوٰۃ (زکوٰۃ اکٹھی کرنے والے) ،مقروض،فی سبیل اللہ اور مسافر شامل ہیں۔لہذا ان مصارف کے علاوہ کسی بھی مصرف میں زکوۃ کا استعمال جائز نہیں۔

    نیز یہاں بلا وجہِ شرعی زکوۃ فنڈ کا حیلہ کرنا بھی جائز نہ ہوگا کہ اس سے زکوۃ کو اصل حقداروں سے پھیرنا اور ان کا حق باطل کرنا لازم آئے گا جس کی قطعاً اجازت نہیں۔حیلہ شرعی صرف انتہائی ضرورت کے وقت جائز قرار دیا گیا ہے۔لہذا زکوۃ کا حیلہ کرکے کروڑوں اربوں روپے اپنے بینکوں میں جمع کرلینا اور اپنی صواب دید پر اس طرح خرچ کرنا گویا اس رقم کے مالک ہیں یا اس سے سرمایہ کاری کرنا ناجائز ہے کیونکہ یہاں کوئی ضرورت شرعی نہیں ہے۔ہزاروں مستحقین موجود ہیں جن کو زکوۃ دی جاسکتی ہے تو پھر حیلہ کر کے بینک بیلنس بڑھانے میں کونسی ضرورت شرعی ہے۔البتہ ضرورت و حاجتِ شرعیہ کی وجہ سےایسے کام کیلئے حیلہ کرنا جو باعثِ ثواب ہو جائز ہے ،اور جو حیلہ محض منفعت کے حصول،یا خواہشِ نفس کی تکمیل کیلئے ہوجائز نہیں کہ اس سے مقصدِ شریعت کو فوت کرنا ہے جو کہ قبیح جرم ہے ۔

    حیلہ شرعی کی شرائطِ جواز:

    (۱)ضرروت ہو۔ یعنی جس کام کے لیے،جس غرض کیلئے حیلہ کیا جا رہا ہے ،اس کی حاجت ہو اور زکوۃ کی رقم کے سواکوئی دوسرا ذریعہ نہ ہو جسکے ساتھ اس کام کو مکمل کیا جا سکتا ہو۔

    (۲)باعثِ ثوابہو۔وہ کام کسی معصیت یا محضمباح پر مبنی نہ ہو ۔بلکہ اس کے کرنے میں اجر ہو۔

    (۳)حیلہ شرعی کی وجہ سے مقصد ِشریعت فوت نہ ہوتا ہو کہ زکوۃ سے مقصود اللہ کی رضا،مال کی پاکی،اورغربا و فقرا کی امدادکرناہے ۔

    (۳)غیر زکوٰۃ اکاؤنٹ سے فراہم کردہ تعلیم کی مدد کو زکوٰۃ اکاؤنٹ میں بک انٹری کے ذریعے منتقل کرنے کی دو صورتیں ہیں:

    پہلی کہ ماضی میں جو غیر زکوۃ اکاؤنٹ سے مدد کی گئی انہیں اب زکوۃ اکاؤنٹ سے منہا (Minus) سمجھا جائے گا اور اتنی رقم واپس اس غیر زکوۃ اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے گی،ایسا کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کیلئے رقم مستحق کو دیتے وقت یا رقم علیحدہ رکھتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر طلباء کو تعلیم کی مد میں رقم زکوۃ کی نیت کے بغیر دی تھی اور طلباء نے وہ رقم خرچ کردی، تو اب نیت کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔لیکن اگر رقم ابھی طلباء کے پاس موجود ہےاور انہوں نے وہ خرچ نہیں کی تو ان پیسوں میں زکوۃ کی نیت کی جاسکتی ہے۔

    دوسری صورت کہ آئندہ مستقبل میں ان طلباء کی مدد زکوۃ اکاؤنٹ سے کی جائے۔اگر طلباء زکوۃ کے اہل ہیں یعنی فقیر شرعی(جو صاحبِ نصاب نہیں یعنی جس کے پاس اتنی مالیت نہیں کہ ساڑھے تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی چاندی کے برابر کی رقم جو حاجت اصلیہ سے زائد ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو) ہیں اور ہاشمی سید بھی نہیں ہے توان کی مدد بلا واسطہ زکوٰۃ اکاؤنٹ سے کی جاسکتی ہے۔ وگرنہ زکوٰۃ اکاؤنٹ سے ان کی مدد کی اجازت نہیں۔

    (۴)جیسا کہ پیچھے بیان ہوا کہ مالِ زکوۃ کو اپنے مصارف کے علاوہ کہیں اور استعمال کرنا ناجائز و حرام ہے،لہذا قرضوں کو زکوٰۃ اکاؤنٹ سے منتقل کر کے مائیکروفنانس فنڈ کو بحال نہیں کیا جاسکتا کہ مائیکروفنانس فنڈمصارف زکوۃ سے نہیں۔

    ہاں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہےکہ مقروض افراد (جو ہاشمی نہ ہوں اور جن پر اتنا قرض ہو کہ اُسے نکالنے کے بعد نصابِ زکوۃ باقی نہ رہے) کو زکوۃ فنڈ سے بطورِ زکوۃ مال پر مستقل قبضہ دے کر ملک کردیا جائے کہ مصارفِ زکوۃ میں مقروض بھی شامل ہے،پھر ایسوسی ایشن اِن سے اپنا دیا گیا قرض وصول کرلیں،اگرچہ جبر و اکراہ کے ذریعے ہو۔

    لیکن یاد رہے کہ محض یہ کام بک انٹری کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا ہےبلکہ مقروض کو باقاعدہ قبضہ دے کر ملک کرنا ضروری ہے۔یا پھر مقروض اپنی زکوۃ وصولی کیلئے ایسوسی ایشنکے علاوہ کسی تیسرے فرد کو اپنا وکیل کردے کہ وکیل کا قبضہ در اصل مؤکل ہی کا قبضہ ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    زکوۃ وصدقات واجبہ کے مصارف اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمادئیے ہیں ان کے علاوہ کسی مصرف میں مال زکوۃ خرچ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ. ترجمہ: زکوۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے محتاج، اور نرے نادار، اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں، اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے، اور گردن چھوڑانے میں،اور قرضداروں کو، اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہر ایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔(التوبۃ:60)

    غلام آزاد کرنے کا مصرف ساقط ہوچکا کہ دنیا میں کوئی غلام باقی نہیں۔اسی طرح مؤلفۃ القلوب کا مصرف بھی ساقط ہوچکا ہے، علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:‎"الأصل فيه قوله تعالى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} الآية فهذه ثمانية أصناف وقد سقط منها المؤلفة قلوبهم لأن الله تعالى أعز الإسلام وأغنى عنهم وعلى ذلك انعقد الإجماع".ترجمہ: مصارفِ زکاۃ ميں اصلاً اللہ عزوجل کا فرمان ہے(صدقات تو محتاج اور نرے نادار لوگوں کے لیے ہے )پس يہ آٹھ مصارف ہيں اور ان مصارف سے المؤلفة قلوبهم(یعنی جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے) ساقط ہوگيا ہے کيونکہ اللہ تعالی نے اسلام کو عزّت بخشی اور ان لوگوں سے غنی فرماديا اور اسی پر اجماع ہے۔(الھدايۃ،کتاب الزکاۃ، باب من يجوز دفع الصدقۃ إليہ ومن لا يجوز،1/110،دار احیاء التراث العربی)

    بلاضرورت ِشرعی حیلہ شرعی کرنا مسلمان فقیر اور مستحق ِزکوۃ کا حق باطل کرنا ہے جیسا کہ فتح الباری میں اسی صفحہ پر ہے:"وَإِنْ كَانَتْ لِإِبْطَالِ حَقِّ مُسْلِمٍ فَلَا بَلْ هِيَ إِثْمٌ وَعُدْوَانٌ".ترجمہ: اگر حیلہ شرعی سے کسی مسلمان کا حق باطل کرنا ہو تو یہ جائز نہیں بلکہ یہ گناہ اور زیادتی ہے۔(فتح الباری لابن حجر،کتاب الحیل،12/326،دار المعرفۃ)

    زکوۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے شرعی فقیر کی تعریف یوں کی گئی ہے:"(وَهُوَ مَنْ لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ) أَيْ دُونَ نِصَابٍ أَوْ قَدْرُ نِصَابٍ غَيْرِ نَامٍ مُسْتَغْرِقٍ فِي الْحَاجَةِ".ترجمہ: فقیر شرعی وہ ہے جس کے پاس قلیل مال ہو یعنی نصابِ زکوۃ سے کم یا نصاب کی مقدار غیر نامی ہو جو اس کی حاجت میں گِھرا ہوا ہو۔(الدر المختار،کتاب الزکوۃ، باب المصرف،2/339، دار الفکر)

    سوائے عاملِ زکوۃ اور مسافر کے تمام مصارف زکوۃ کا فقیر شرعی غیر ہاشمی ہونا شرط ہے،علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لِأَنَّ الْفَقْرَ شَرْطٌ فِي الْأَصْنَافِ كُلِّهَا إلَّا الْعَامِلُ وَابْنُ السَّبِيلِ إذَا كَانَ لَهُ فِي وَطَنِهِ مَالٌ بِمَنْزِلَةِ الْفَقِيرِ بَحْرٌ، وَنَقَلَ ط عَنْ الْحَمَوِيِّ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ أَنْ لَا يَكُونَ هَاشِمِيًّا".ترجمہ:کیونکہ سوائے عامل زکوۃ اور مسافر کے تمام مصارف زکوۃ کیلئے فقر (صاحبِ نصاب نہ ہونا) شرط ہے،بحر۔ امام طحطاوی نے حموی سے نقل کیا کہ یہاں ہاشمی نہ ہونا بھی شرط ہے۔(رد المحتار،کتاب الزکوۃ، باب المصرف،2/343، دار الفکر)

    مقروض کے قرض کو اپنی واجب شدہ زکوۃ بنالینے سے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَفِي صُورَتَيْنِ لَا يَجُوزُ: الْأُولَى أَدَاءُ الدَّيْنِ عَنْ الْعَيْنِ كَجَعْلِهِ مَا فِي ذِمَّةِ مَدْيُونِهِ زَكَاةً لِمَالِهِ الْحَاضِرِ".ترجمہ: دو صورتیں جائز نہیں۔پہلی یہ کہ عین کی جانب سے دین کی ادا ئیگی جس طرح کہ جو اس مدیون کے ذمہ ہے اسے حاضر مال کی زکوۃ بنا دینا ۔(رد المحتار،کتاب الزکوۃ،،2/271،دار الفكر)

    البتہ ایک حیلہ شرعیہ علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) بیان فرماتے ہیں:"وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ".ترجمہ:اور جواز کا حیلہ یہ ہے کہ اپنے قرضدار فقیر کو اپنی زکوۃ دے پھر وہ زکوۃ قرض کی مد میں واپس لے لے۔(الدرالمختار،کتاب الزکوۃ،،2/271،دار الفكر)

    رقم دینے کے بعد اس میں زکوۃ کی نیت کرنے سے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَإِذَا دَفَعَ إلَى الْفَقِيرِ بِلَا نِيَّةٍ ثُمَّ نَوَاهُ عَنْ الزَّكَاةِ فَإِنْ كَانَ الْمَالُ قَائِمًا فِي يَدِ الْفَقِيرِ أَجْزَأَهُ، وَإِلَّا فَلَا كَذَا فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ وَالزَّاهِدِيِّ وَالْبَحْرِ الرَّائِقِ وَالْعَيْنِيِّ وَشَرْحِ الْهِدَايَةِ".ترجمہ:اگر فقیر شرعی کو بلا نیتِ زکوۃ مال دیا پھر اس کے بعد اس مال پر زکوۃ کی نیت کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے تو یہ نیت جائز ہوگی وگرنہ نہیں، ایسا ہی معراج الدرایۃ،زاہدی،بحر الرائق،عینی اور شرح ہدایہ میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الزکوۃ،الباب الاول،1/171،دار الفکر)

    وکیل کا قبضہ مؤکل ہی کا قبضہ شمار کیا جاتا ہے،علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"لأن قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل".ترجمہ:کیونکہ وکیل کا قبضہ مؤکل کے قبضے کے مرتبے میں ہے اس طور پر کہ قبضہ کرنے میں وکیل مؤکل کا عامل ہے۔(المحيط البرهاني،کتاب الصرف،الفصل الثانی عشر،7/204،دار الكتب العلمية)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ذو القعدہ 1445 ھ/4 جون 2024ء