mansasikha char batn ka masla o hukum
سوال
ایک شخص محمد یوسف کا انتقال ہوا،انتقال کے وقت ورثاء میں تین بیٹے (عبدالرشید، عبدالحمید، سعید) اوردو بیٹیاں (زیب النساء ،زاہدہ)تھی۔ بعد ازاں ایک بیٹے (عبدالرشید ) کا انتقال ہوا ، انکے ورثاء میں ایک بیوی(فریدہ) دو بیٹیاں (وجہیہ، ام کلثوم) اور ایک بیٹا (زین العابدین) ہے۔ پھر ایک اور بیٹے (عبدالحمید)کا انتقال ہوگیا انکےورثاء میں ایک بیوی(کنیز فاطمہ) دو بیٹیاں (شازیہ، نازیہ) اور ایک بیٹا (آصف ) ہے۔پھر ایک بیٹی (زیب النساء )کا انتقال ہواانکی صرف ایک بیٹی ہے جبکہ شوہر پہلے فو ت ہوگئے۔ سوال یہ ہے کہ وراثت سے ہروارث کو کیا ملے گا نیز زیب النساء کے حصہ سے کون کون مستحق ٹھہرے گا۔
سائلہ:عظمٰی احسان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو 384 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر ایک وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
سعید:112 ،زاہدہ:56 ،فریدہ:12 ،وجہیہ:21 ، ام کلثوم:21 ، زین العابدین:42 ،کنیز فاطمہ:12 ،شازیہ:21 ،نازیہ:21 ، آصف:42 ،عظمٰی:24
زیب النساء کے حصے کا نصف بیٹی (عظمٰی) کو ملے گا اور مابقی بہن بھائی کے مابین تقسیم ہوگا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 384 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر جو محفوظ اعداد ہیں اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01شعبان المعظم 1445ھ/ 12 فروری 2024 ء