mansasikha aik batn ka masla
سوال
میرے والد اور والدہ کا انتقال ہوگیا ہے ۔ وراثت میں ایک مکان ہے جسکی ویلیو 36 لاکھ ہے۔ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں والدہ کی وفات کے وقت حیات تھے ، جسکے بعد ایک بھائی کا انتقال ہوگیا انکے ورثاء میں ایک بیوی،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ہر ایک کے حصے میں کتنی رقم آئے گی ۔ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
سائل:محمد دلشاد:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں مرحومین پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کے 168 حصے کیے جائیں گے جن کی تقسیم درج ذیل ہے :
ہر بیٹے کو کل مال وراثت سےالگ الگ 24، 24حصےیعنی 5 لاکھ 14 ہزار دوسو چھیاسی روپے ، ہر بیٹی کوالگ الگ 12، 12حصے یعنی 2 لاکھ 57ہزار ایک سو ترالیس روپےملیں گے ۔پھر جس بھائی کا انتقال ہوگیا اسکی وراثت اسکے ورثاء یعنی اسکی بیوی ،بیٹا اور بیٹی میں تقسیم ہوگی۔ اسکی تفصیل یہ ہے کہ اگران پر بھی کوئی قرض تھا تو ان کے حصے کی رقم میں سے پہلے اس کی ادائیگی کی جائے گی پھر دیکھا جائے گا کہ انہوں نے اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کی جائے گی جو مال بچے اسکے24 حصے کئے جائیں گے جس میں سے ان کی بیوی کو 3حصےیعنی 64 ہزار سو سو چھیاسی روپے، بیٹے کو 14 حصےیعنی 3لاکھ روپے اور بیٹی کو 7 حصےیعنی 1 لاکھ 50 ہزار روپے ملیں گے۔
یہ حصے قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق بیان کیے گئے ہیں : بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 رجب المرجب 1441 ھ/05 مارچ 2020 ء