bhai ki warasat aur wasiyat
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے ، جسکا نام عزیز اللہ عقیلی ہے ، ان کی ایک بیوی ہے اولاد نہیں ہے اسکے علاوہ ہم 4 بھائی اور 5بہنیں ہیں ،ماں باپ فوت ہوچکے ہیں ۔ان کے ترکے میں رقم ہے ، لیکن انہوں نے وصیت کی تھی کہ ساری رقم میری بیوی کو ملے ۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ
1:۔ کیا اب ساری رقم انکی بیوی کو ملے گی یا اس میں ہم سب بہن بھائیوں کا بھی حصہ ہوگا؟
2:۔ اگر بھائی،بہن اپنی مرضی سے مرحوم کی بیوی کو کچھ چھوڑنا چاہیں تو ا س صورت میں حصے کیسے ہونگے؟
سائل: سمیع اللہ عقیلی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
:۔ اگر کوئی شخص موت کے وقت میت کا وارث بن رہا ہو تو اسکے حق میں میت کی وصیت نافذ نہیں ہوگی یعنی وصیت سے اسکو کچھ نہیں ملے گا ،
بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337 میں ہے(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» وَفِي هَذَا حِكَايَةٌ، وَهِيَ مَا حُكِيَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْأَعْمَشِ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَانَ مَرِيضًا، فَعَادَهُ أَبُو حَنِيفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَوَجَدَهُ يُوصِي لِابْنَيْهِ، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إنَّ هَذَا لَا يَجُوزُ، فَقَالَ: وَلِمَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ فَقَالَ: لِأَنَّكَ رَوَيْتَ لَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» فَقَالَ سُلَيْمَانُ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَاءِ أَنْتُمْ الْأَطِبَّاءُ وَنَحْنُ الصَّيَادِلَةُ.:ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا
وارث کے حق میں وصیت جائزنہیں ہے۔اسی سلسلے میں ایک حکایت نقل کی گئی ہے کہ سلیمان بن الاعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے تو امام اعظم ابو حنیفہ انکی عیادت کے لیے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹوں کے لیے وصیت کررہے تھے تو امام اعظم ابو حنیفہ نے فرمایا یہ جائز نہیں ہے انہوں نے کیا کیوں؟ تو امام اعظم نے کہا کہ آپ نے ہی تو ہمیں حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔تو انہوں نے کہا کہ اے گروہ فقہائ ہم تو صرف شکاری ہیں اصل طبیب آپ ہیں۔
تو جب وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں تو آپکے بھائی کی بیوی بھی آپکے بھائی کی وارثہ ہیں لہذا انکو بھی وصیت سے کچھ نہیں ملے گا ،انکا جو شرعی حصہ ہوگا صرف وہ انکو ملے گا اور جو بچے گا وہ آپ بہن بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
2:۔ کسی شخص نے مرنے سے پہلے وارث کے لیے وصیت کی تو وصیت نافذ نہیں ہوگی (جیساکہ ابھی گزرا ) لیکن اگر دیگر ورثاء اس بات پر راضی ہوجائیں کہ وصیت میں سے انکو ملنا چاہیے جس کے لیے وصیت کی ہے تو اب وصیت جائز ہوجائیگی ۔
بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 338 میں ہےوَلَوْ أَوْصَى لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ، فَأَجَازَ الْبَاقُونَ؛ جَازَتْ الْوَصِيَّةُ؛ لِأَنَّ امْتِنَاعَ الْجَوَازِ كَانَ لَحَقِّهِمْ لِمَا يَلْحَقُهُمْ مِنْ الْأَذَى وَالْوَحْشَةِ بِإِيثَارِ الْبَعْضِ، وَلَا يُوجَدُ ذَلِكَ عِنْدَ الْإِجَازَةِ، وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - أَنَّهُ قَالَ «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ» ،:ترجمہ:اگر کسی وارث کے لیے وصیت کی اور باقی ورثہ نے وصیت نافذ کرنے کی اجازت دے دی، تو وصیت جائز ہے کیونکہ وصیت ناجائز اس لیے تھی کہ اس وصیت کی وجہ سے دوسرے ورثاء کو تکلیف اور وحشت لاحق ہورہی تھی اور جب اجازت مل گئی تو یہ تکلیف ختم ہوگئی ، اور بعض روایات میں اس طرح موجود ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے مگر یہ کہ ورثاء اجازت دے دیں تو پھر جائز ہوجائے گی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر میت کے دیگر ورثاء میت کی زوجہ کے حق میں وصیت نافذ کردیں تو کل مال کے ایک تہائی مال میں سے وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ دوتہائی ورثہ میں تقسیم ہوگا۔اور اگر وصیت سے دینے پر راضی نہ ہوں تو پھر کل مال تمام ورثاء میں انکے شرعی حصو ں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
ورثاء میں تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال کے 52 حصے کیے جائیں گے جس میں سے میت کی زوجہ کو 4/1 یعنی 13 حصے ملیں گے،
السراجی فی المیراث ص18 میں ہےاما للزوجات الربع عند عدم الولد و ولد الابن:ترجمہ: بیویوں کے لیے اولاد کی عدم موجودگی میں چوتھا حصہ ہے۔
اور اور بقیہ 39 حصے میت کے بہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہونگے کہ ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔یعنی ہر بھائی کو 6 حصے اور ہر بہن کو 3 حصے ملیں گے، اس طرح کل وراثت کی تقسیم ہوگی۔
قال اللہ تعالییُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
اسی میں ص19میں ہے
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی