مناسخہ ایک بطن اور مکان وراثت میں تعمیرات کا حکم

    mansasikha aik batn aur makan wirasat mein tameerat ka hukum

    تاریخ: 27 اپریل، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1234

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوا،وراثت میں ایک بیوی (بیوہ)دو بیٹے (جمال، کمال)اور چار بیٹیاں (ریحانہ،فرزانہ،شاہین،فاطمہ)ہیں ، بعد ازاں بیوی کا بھی انتقال ہوگیا ،پھر ایک بیٹی(شاہین)کا انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر(عبداللہ)ایک بیٹا(اسامہ)اور ایک بیٹی(امامہ)ہے۔ مالِ وراثت میں گھر ہے جسکی مالیت تقریبا ڈھائی کروڑ ہے۔ خریدتے وقت یہ تین منزلہ تھاجس میں والد اور دو بھائیوں جمال اور کمال نے مشترکہ پیسے لگائے تھے۔گھر 17 لاکھ کا خریدا تھا جس میں جمال ڈھائی لاکھ اور کمال کے 4 لاکھ،باقی والد کے تھے۔ بعد ازاں کمال نے والد کی اجازت سے چھت پر ایک اور منزل کی اپنے پیسوں سے تعمیر کروائی۔

    ہر ایک کا وراثت سے حصہ رقم کی صورت میں بیان فرمادیں۔

    نوٹ:پیسے دیتے وقت دونوں بھائیوں میں سے کسی نے بھی قرض یا شرکت کی صراحت نہیں کی بلکہ بایں طور دیئے کہ گھر میں سب نے رہنا تھا کچھ پیسے کم پڑ رہے ہیں تو دونوں بھائیوں نے حسبِ استطاعت دے دیئے۔

    سائل:کمال صاحب:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    گھر کی خریداری میں بیٹوں نے جتنی رقم ملائی جب وہ بغیر کسی عقد کے ملائی تو ظاہر یہی ہے کہ یہ رقم تبرع ہے اور وہ سارا مکان والد کی ملک قرار پائے گا۔لیکن بعد میں کمال نے باجازتِ والد جو تعمیرات کی وہ خاص اسکی ملک ہیں وہ وراثت میں تقسیم نہ ہونگی۔

    لہذااس تعمیرات کے علاوہ کل مکان ترکہ قرار پائے گا اور تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    ترکہ کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 32 حصہ کئے جائیں گے جس میں سے جمال و کمال ہر ایک کو 8حصے، ریحانہ، فرزانہ اور فاطمہ میں سے ہر ایک کو الگ الگ 4 حصہ، جبکہ عبداللہ(شوہر شاہین) کو 1 حصہ، اسامہ کو 2 حصے اور امامہ کو 1 حصہ ملے گا۔

    اگر کسی نے دوسرے کے ساتھ مال ملایا اور قرض یا شرکت کی صراحت نہیں کی تو یہ اسکی جانب سے تبرع ہوگا۔جیساکہ امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں:صَرف ِشادی کامطالبہ صرف دختر سےنہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سےٹھہرالیاہوکہ ہم یہ ساراصَرف تیرےحساب میں مجرالیں گے،وذٰلک لان ماکانوا مضطرین فی ذٰلک وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختاروالعقود الدریۃ۔ترجمہ:یہ اسلئےہےکہ وہ اس میں مجبورنہیں تھےنہ اسکی یہ سبیل ہےلہٰذاایساکرنے والا متبرع قرارپائےگاسوائےاس کےکہ اس نےرجوع کی شرط کی ہوجیساکہ کوئی اجنبی میت کوکفن پہنائےیاکسی کی اجازت کےبغیراس کاقرض اداکردے۔ یہ دونوں مسئلےدرمختاراورعقودالدریہ میں مذکورہیں۔(فتاوی رضویہ :ج26،ص 131،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ ترجمہ:کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ :ج18،ص178،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)

    جس بیٹے نے والد کی زندگی میں انکی اجازت سےجو تعمیرات کی وہ خاص اسی کی ہے وہ وراثت میں تقسیم نہ ہوگی۔جیسا سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباۃ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ عمارت اس بانی کی ہوگی۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی قیمت لگواکر اس کو مبلغ یعنی 32 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے، اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر جو محفوظ اعداد ہیں اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 ذوالقعدہ 1442 ھ/01 جولائی2021 ء