manasikha chaar batoon ka masla
سوال
ایک شخص فیاض الدین کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں ایک بیوی(سیدہ وسیم)پانچ بیٹیاں(حسین،مہ جبین،یمین،شائستہ،نائلہ)اور آٹھ بھائی(فصیح،ریاض، رئیس،فہیم،سلیم،متین،امین،مبین)تھے،اسکے بعد ایک بیٹی مہ جبین کا وصال ہوگیا،اسکے شوہرکا اس سے پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے اور اولاد کوئی نہیں ہے۔ اسکے بعد ایک اور بیٹی شائستہ کا انتقال ہوا، اسکا شوہر موجود ہے لیکن اس نےوفات سے تین سال قبل شوہر سے خلع لے لی۔ اور شوہر نے خلع کے پیپرز پر دستخط کردیئے۔ اسکی بھی کوئی اولاد نہیں ۔اس کے بعد فیاض الدین کی بیوی سیدہ وسیم کا انتقال ہوگیا ۔اسکے ورثاء میں صرف تین بیٹیاں(حسین،،یمین، ،نائلہ) ہیں۔ اور اسکے علاوہ دو بہنیں (بلقیس،میکن )بھی حیات ہیں ۔ شریعت کی رو سے کس کس کو حصہ ملے گا اور کس کو نہیں ؟ جن کو ملے گا کتنا ملے گا مکمل تفصیل فتوی کی صورت میں عنایت فرمائیں۔
سائلہ: نائلہ فیصل :پاکستان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔
السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
پوچھی گئی صورت میں میت کے انتقال کے وقت جو اولاد بقید حیات تھی وہ سب اپنے اپنے حصوں کے مطابق وراثت کے حقدار ٹھہرے ہیں ، پھر اس اولاد میں سے دو بیٹیوں (مہ جبین، شائستہ) کا انتقال ہوگیا۔ لہذا ان کا مال وراثت بھی انکے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔اس تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 77760حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، حسین،،یمین اور نائلہ میں سے ہر ایک کوالگ الگ 17776حصے ملیں گے، اورفصیح،ریاض، رئیس،فہیم،سلیم،متین،امین،مبین میں سے ہر ایک کوالگ الگ 2493 حصے ملیں گے۔جبکہ بلقیس اورمیکن میں سے ہر ایک کو 2244حصے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔
ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے، قال اللہ تعالی :وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد کی قیمت لگواکر اسکو مبلغ یعنی 77760پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14رمضان المبارک 1441 ھ/08 مئی 2020 ء