warasat ka masla teen bete paanch betiyan
سوال
کبیر احمد اپنے پیچھے ایک مکان چھوڑ کر اس دنیا سے رحلت کرجاتے ہیں۔وراثت میں ایک مکان 44 گز پر مشتمل ہے،ورثاء میں 3 بیٹے(نصیر احمد ،محمود عالم،صغیر احمد) اور 5 بیٹیاں(بدر النساء،رحمت النساء،رابیہ،احمد النساء،عابدہ) چھوڑی ہیں۔ اس کے علاؤہ محروم کا کوئی چچا اور بھائی وغیرہ نہیں۔ان ورثاء کے درمیان 44 گز کس طرح تقسیم کیے جائیں گے۔رہنمائی درکار ہے۔
سائل:مولانا محمد حارث علی : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
برتقدیرِ صدقِ سائل و انحصارِ ورثاء مرحوم کےکفن دفن کےاخراجات اورقرضوں کی ادائیگی اوراگرکسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنےکےبعد مالِ وراثت کے کل 11 حصےکئےجائیں گے۔ جس میں سے ہر بیٹے کے 2 حصے اور ہر بیٹی کا ایک حصہ ہوگا ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ: رقم کی صورت میں تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مکان کی مارکیٹ ویلیو نکلوالیں پھر اس کو 11 پر تقسیم کرلیں جو جواب آئے اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں پھر اس جواب کو ہر ایک کےحصے سے ضرب دیدیں ،یوں ہر ایک کے حصے کی رقم معلوم ہو جائے گی ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 شعبان المعظم 1444 ھ/02 مارچ 2023 ء