امام کا مسجد کے ہال کے دروازے میں کھڑا ہونا

    Imam ka masjid ke hall ke darwaze mein khada hona

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 117
    حوالہ: 1313

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد میں صحن بھی ہو اور مسجد کا ہال بھی ، امام مسجد کے ہال کے دروازہ میں کھڑے ہو کر امامت کروائے ، جو دروازہ صحن میں کھلتا ہے ، اور مقتدی سب باہر صحن میں صفیں بنائیں ، کیا ان کی نماز درست ہو گی ؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر امام اس طرح کھڑا ہو کہ اسکے قدم ہال کے دروازے سے باہر ہوں اور سجدہ ہال میں واقع ہو اور تمام مقتدی حضرات باہر صحن میں ہو تو اس صورت میں بلاکراہت نماز جائز ہوجائے گی۔ البتہ اگر امام مکمل طور پر ہال کے اندر ہو یعنی اسکے قدم بھی تو اس صورت میں فقہاء کے مکروہ فرمایا ہے البتہ یہ کراہت تنزیہی ہوگی نہ کہ تحریمی۔

    اسکی نظیر مسئلہ محراب ہے ، فقہاء نے اس مسئلے میں بعینہ یہی صورت ذکر فرمائی ہے۔ چناچہ فقہا کرام نے امام کے لیے محراب کے اندر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کو مکروہ تنزیہی قرار دیا ہے کیونکہ ایسی صورت میں امام ،اور مقتدیوں کی جگہوں میں علیحدگی کا شبہ پایا جاتا ہے، البتہ اگر امام کے قدم محراب سے باہر ہوں اور سجدے محراب کے اندرہوں تو پھر مذکورہ کراہت نہیں ہو گی۔

    فتاوی ہندیہ میں ہے : ويكره قيام الإمام وحده في الطاق وهو المحراب ولا يكره سجوده فيه إذا كان قائما خارج المحراب هكذا في التبيين۔ترجمہ:اور امام کا اکیلے طاق یعنی محراب کے اندر کھڑا ہونا مکروہ ہے، اور اگر وہ محراب سے باہر کھڑا ہو تو اس کے اندر سجدہ کرنا مکروہ نہیں ہے، اسی طرح 'التبيين میں ہے۔(کتاب الطهارۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، 108/1، : دار الفکر)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: فی الواقع امام کا بے ضرورت محراب میں کھڑا ہونا کہ پاؤں محراب کے اندر ہوں یہ بھی مکروہ (ہاں پاؤں باہر اور سجدہ محراب کے اندر ہو تو کراہت نہیں) اور امام کا دَر میں کھڑا ہونا بھی مکروہ مگر اُسی طرح پاؤں باہر اور سجدہ در میں ہو تو کراہت نہیں بشرطیکہ در کی کرسی بلند نہ ہو ورنہ اگر سجدہ کی جگہ پاؤں کے موضع سے چارہ گرہ سے زیادہ اونچی ہوئی تو سِرے سے نماز ہی نہیں ہوگی اور چارہ گرہ یا کم بلندی ممتاز ہوئی تو کراہت سے خالی نہیں ، اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگھہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہےوالضرو رات تبیح المحظورات ( سخت ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔)رہا اکیلا ، اسکے لئے ضرورت، بے ضرورت محراب میں ،دَر میں مسجد کے کسی حصہ میں کھڑا ہونا اصلاً کراہت نہیں رکھتا ۔ دُرمختار میں ہے: کرہ قیام الامام فی المحراب لاسجودہ فیہ وقد ماہ خارجہ لان العبرۃ للقدم ۔امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے، اگر قدم باہر ہوں اور سجدہ محراب میں ہو تو یہ مکروہ نہیں کیونکہ اعتبار قدموں کا ہے۔(فتاوٰی رضویہ، باب مقامات الصلوۃ،جلد6 ص 131 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجـــــواب صحــــیـح

    ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی


    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

    محمد زوہیب رضا قادری

    27 ذوالحج 1447ھ/ 13 جون 2026 ء