ماں کی وراثت میں بچوں کا حصہ

    maan ki warasat mein bachon ka hissa

    تاریخ: 13 مئی، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1341

    سوال

    بعد سلام عرض یہ ہے کہ میرے شوہر فلم کی سیڈیوں کا کام کرتے ہیں اور ایک دو سال سے قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں ، انہوں نے اپنے پیسے کسی انویسٹر کودئے تھے تاکہ اس کے نفع سے تھوڑا تھوڑا قرض اتارتا جائوں گا مگر وہ وہ پیسے لے کر بھاگ گیا ، کہتے ہیں نہ کہ جب مشکل آتی ہے تو ہر جگہ سے آتی ہے ۔جب میرے شوہر چھوٹے تھے تو انکے والد کی وفات ہوگئی تھی تو وہ سولہ سترہ سال کی عمر میں ہی کام پر لگ گئے تھے تین بہنوں اور ماں کا خرچہ اٹھانےلگے ایک بہن کپڑے سی کر گزارا کرتی تھی پھر انہوں نے بہنوں کی شادی کرنے کے بعد اپنی شادی بھی کی ، جب دو بچے ہوئے تو سیٹھوں کو گھر کی عرضی دی تو انہوں نے دو روم کا گھر قرضے پرلے کر دیا جوبعد میں میرے نے قرض اتار دیا لیکن گھر رجسٹر ماں کے نام پر کروایا ، اب ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور ہم یہ گھر بیچنا چاہتے ہیں تو اب بہنیں کہہ رہی ہیں کہ اس میں ہمارا حق بھی ہے کیونکہ یہ ماں کے نام ہے گھر اس لیے یہ ورثہ ہے چاہے تمہارے پاس پیسے ہیں یا نہیں ہمیں ہمارا حصہ دو ۔ میں نے مفتیوں، مولویوں سے پتہ کروایاہے تو پتہ چلا یہ ورثہ نہیں ہے کیونکہ اسکے اصل مالک میرے شوہر ہیں ماں کے نام صرف رجسٹری تھی ۔ آپ سے بھی فتویٰ چاہیے تاکہ میری اور بچوں کی کچھ مدد ہوسکے ،میں بہت مشکل میں ہوں، میری مدد کیجیے۔

    سائلہ: مسز عرفان ابراہیم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا مذکور ہوا تو موجودہ صورت حال میں بہنوں کا حصہ طلب کرنا درست نہیں ہے،کیونکہ مکان کے اصل مالک موجود ہیں اور زندہ ہیں اور ماں کے نام پر صرف رجسٹری تھی انکی ملکیت نہیں تھی لہذا مالک کی موجود گی میں حصہ کا مطالبہ درست نہیں ہے ۔

    شامی کتاب الفرائض ج6 ص758 میں ہےوَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، :ترجمہ: اور وراثت کی تین شرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ مورث کی موت ہے ، حقیقتاََ مر جائے یا حکماََ جیسے مفقود شخص ۔

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557میں ہےوَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ:ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ

    وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے) کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔

    خلاصہ یہ ہوا کہ چونکہ مالک آپ کے شوہر ہیں اور وہ ابھی حیات ہیں ،تو جب تک وہ حیات ہیں وہی مالک ہیں ، انکی وفات کے بعد انکے ورثاءمیں انکی وراثت تقسیم کی جائے گی۔اگر اولاد بیٹے بیٹیاں ہیں تو وفات کے بعد بھی بہنوں کو انکی وراثت سے کچھ نہیں ملے گا ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی