مخلوط کمرشل جم کے لیے ایس ای او اور ٹیکنیکل خدمات فراہم کرنے کا حکم

    makhloot commercial gym ke liye seo aur technical khidmaat faraham karne ka hukum

    تاریخ: 3 اگست، 2026
    مشاہدات: 40
    حوالہ: 1702

    سوال

    سیلانی دار الافتاء سے حال ہی میں ’’ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور موبائل گیمز کی آمدنی‘‘کے عنوان سے ایک فتویٰ جاری ہوا، جس میں امام اعظم رحمہ اللہ کے موقف کی روشنی میں یہ اصول بیان کیا کہ اگر کسی خدمت کا ’’مقصودِ اعظم‘‘ جائز ہو، اور گناہ کسی تیسرے فریق کے آزادانہ فعل (فاعلِ مختار) سے پیدا ہو، تو معصیت متعین نہیں ہوتی اور آمدنی حلال رہتی ہے (جیسا کہ AdSense کی مثال میں)، جبکہ اگر مقصودِ اعظم ہی گناہ ہو تو معصیت متعین ہوگی (جیسا کہ موبائل گیمز کی مثال میں)۔ میرا مسئلہ اسی اصول سے متعلق ہے۔

    میں ایک امریکہ میں واقع commercial gym کے لیے SEO کی خدمات فراہم کرتا ہوں (site speed، backend structure، backlinks، اور عمومی/مردانہ فٹنس سے متعلق informational content)۔ یہ gym امریکہ کے عمومی معیار کے مطابق mixed (مرد و خواتین دونوں) ہے۔ میں کوئی ایسا مواد نہیں لکھتا جو خاص طور پر خواتین کو یا mixed ماحول کی طرف راغب کرے ۔میرا کام صرف ٹیکنیکل انفراسٹرکچر اور عمومی فٹنس معلومات تک محدود ہے، اور ویب سائٹ کی رینکنگ پہ کام کرنا ہے، جس سے ٹریفک بہتر ہو، website پر آنے والا ہر شخص اپنی مرضی سے membership لیتا ہے اور وہاں کیسا برتاؤ کرتا ہے، یہ اس کا اپنا آزادانہ فیصلہ ہے، جس میں میری کوئی براہ راست شمولیت نہیں۔ساتھ اس نے باقی کی جو ٹیم ہے اپنی ڈیزائنر، مارکیٹنگ ٹیم انکی پروجیکٹ منیجمنٹ مجھے دی ہوئی کہ انکو ٹاسک کی اپ ڈیٹس لیا کرو۔سوال یہ ہے کہ کیا میری اس نوعیت کی خدمت کا ’’مقصودِ اعظم‘‘ AdSense کی مثال سے مشابہ سمجھا جائے گا (یعنی جائز infrastructure، جس میں کسی اور کا فعل بعد میں شامل ہو)، یا اس میں کوئی ایسا قرینہ موجود ہے جو اسے معصیت کے قریب لے جائے؟ اسکی سروس میں وہ Gym memberships, اور پرسنل ٹرینگ اور اسکا کوچنگ سافٹ وئیر ہے جس کو وہ بیچتا اور اسی کی ہم رینکنگ کر رہے ہوتے لیکن ہم اس میں کہیں بھی یہ پہلو ظاہر نہیں کرتے کہ یہ co-gym ہے، یا اس میں عورتیں مرد ایک ساتھ آتی ہیں، ہم اس طرح کا کوئی کنٹینٹ نہیں ایڈ کرتے نہ ہی اسکی ویب سائٹ پہ اس کو ڈالتے۔براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: حمدان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اوّلا تو یہ نظریہ درست کریں کہ ہمارا فتوی اس بنیاد پر نہیں کہ ایڈ مونیٹائزیشن یا موبائل گیمز ڈیویلوپمنٹ میں مقصود اعظم معصیت کو دیکھا جائے گا، بلکہ فتوی کی بنیاد امام صاحب کے مؤقف پر تھی کہ کسی شے میں گناہ کا پہلو ہونے کے باوجود، جب تک اس شے کے استعمال کی کوئی ایک بھی جائز صورت باقی رہے، تو وہاں معصیت متعین نہیں ہوتی، لہٰذا ایسی صورت میں اجارہ ہو یا بیع امام صاحب کے نزدیک جائز ہے۔یعنی بنیاد معصیت کا متعین ہونا نہ ہونا ہے، اور اس تعیین میں ہم نے امام صاحب کے مؤقف کو لیا ۔ جبکہ صاحبین کے مؤقف پر یہ تعیین تین صورتوں سے ہوتی ہے: (۱) جب وہ شے معصیت کیلئے ہی بنائی گئی ہو، (۲) یا اس کا مقصودِ اعظم گناہ ہو، (۳) یا کوئی قوی قرینہ معصیت کو متعین کر دے۔اس کے باوجود بعض صورتوں میں فتوی صاحبین کےقول پر زیادہ موزوں ہوتا ہے، تو وہاں خود ہم بھی فتوی صاحبین کے قول پر ہی دیتے ہیں۔

    رہا آپ کے سوال کا جواب تو، یہاں صورتِ حال کو اس ضابطے کے تحت سمجھیں کہ یہ جم (Gym)اپنی اصل کے اعتبار سے کوئی معصیت کی جگہ (جیسے نائٹ کلب وغیرہ) نہیں ہے، بلکہ جسمانی صحت اور ورزش کا مرکز ہے، جو کہ مباح اور درست عمل ہے۔اگرچہ اس میں امریکی معاشرے کے عمومی رواج کے مطابق مخلوط ماحول پایا جاتا ہے، لیکن آپ کا اس میں عمل دخل اس کے ناجائز امور کی ترویج نہیں ہے، بلکہ آپ صرف اس کے ٹیکنیکل انفراسٹرکچر، SEO، بیک لنکس اور عمومی فٹنس کے مضامین پر کام کر رہے ہیں، اور آپ نے واضح کیا کہ آپ کہیں بھی اس مخلوط ماحول کو یا کسی ناجائز عنصر کو فروغ نہیں دیتے، بلکہ آپ کا مقصود جم کی جنرل فٹنس، ممبرشپ اور کوچنگ سافٹ ویئر کی ترویج ہے۔

    لہٰذا، امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اصول (کہ جب تک کسی شے کے استعمال کی کوئی ایک بھی جائز صورت باقی رہے، وہاں معصیت متعین نہیں ہوتی) کے مطابق، آپ کی یہ خدمات اور اس پر ملنے والی اجرت شرعاً جائز اور درست ہے، کیونکہ اس میں معصیت متعین نہیں۔ بشرطیکہ آپ کی نیت صرف جائز ٹیکنیکل خدمات فراہم کرنے کی ہو اور کسی گناہ کے کام میں تعاون کی نیت نہ ہو۔

    البتہ، چونکہ اس ماحول میں غیر محرم مرد و زن کے اختلاط کا قباحت والا پہلو موجود ہے، اس لیے اگر کوئی شخص اس سے بچتے ہوئے کسی ایسے ذرائع یا رزق کو اختیار کرے جس میں اس نوعیت کا شائبہ بھی نہ ہو، تو وہ تقویٰ اور احتیاط ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى. ترجمہ: اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اُٹھائے گی۔(الفاطر:18)

    آیت کے تحت علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود نسفی (المتوفی: 710ھ) فرماتے ہیں: "ولا تحمل نفس آثمة إثم نفس أخرى".ترجمہ: یعنی کوئی گنہگار جان کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (مدارك التنزيل وحقائق التأويل، تحت سورۃ الفاطر: 18) (المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز/ تفسیر ابن عطیۃ، تحت سورۃ الفاطر: 18) (معالم التنزيل في تفسير القرآن / تفسير البغوي، سورة فاطر، تحت الآية: 18)

    امرمباح پر اجارہ کے جواز سے متعلق علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "أن الاجارة وقعت على أمر مباح فجازت".ترجمہ: اجارہ امرِ مباح پر واقع ہوا ہے تو اجارہ جائز ہے۔ (فتح القدير، كتاب الکراہیۃ، فصل فی البیع، 10/60، دار الفكر، بيروت)

    سکونت و زراعت پر اجارہ کے جواز اور مستاجر کے فعل کا موجر پر الزام نہ ہونے پر امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: ’’اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیاہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا، بونا فی نفسہٖ معصیت نہیں۔ اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے، جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے، یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ ترجمہ: کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی“۔ (فتاوی رضویہ، 19/441، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    امام صاحب کے مؤقف پر تعیینِ معصیت سے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الذي يظهر لي أنّ الشيء إذا صلح في حدّ ذاته لأن يستعمل في معصية وفي غيرها ولم يتعيّن للمعصية فلم يكن بيعه إعانةً عليها؛ لاحتمال أن يستعمل في غير المعصية، وإنما يتعين ذلك بقصد القاصدين والشك لا يؤثر، وغلبة الظن في أمثال المقام ملتحق باليقين، والتغيير لكونه فعل فاعل مختار يقطع النسبة". ترجمہ: میرے لیے جو ظاہر ہوا وہ یہ کہ جب کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت اور غیر معصیت دونوں میں مستعمل ہوسکے اور معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کی خرید و فروخت گناہ پر اعانت نہیں کیونکہ احتمال موجود ہے کہ وہ غیر معصیت میں استعمال ہو اور اس کا معصیت کیلئے متعین ہونا قاصد کے قصد سے ہوگا اور اس میں شک مؤثر نہیں ہوگا اور ایسے مسائل میں غلبہ ظن یقین سے ملحق ہوتا ہے۔تغییر کیونکہ فاعل مختار کا فعل ہے اس لئے یہ بھی بائع سے معصیت کی نسبت کو منقطع کر دے گا۔ (جد الممتارعلی رد المحتار،7/75-76،دار الکتب العلمیۃ)

    امام اہلسنت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ طوائف مریضہ اگرمطب میں آئے تو اس کا علاج کرنامعصیت ہے یانہیں؟ دوسری صورت میں اعانت برمعصیت ہونے میں کوئی شبہہ ہے؟ اسکے جواب میں آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا :’’اگرمعالجہ زن فاحشہ سے طبیب خود یہی نیت کرے کہ یہ ارتکاب معاصی کے قابل ہوجائے ناسازی طبیعت کہ مانع گناہ ہے زائل ہوجائے جب تو اس کے عاصی ہونے میں کلام نہیں،فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔اور اگر اس کی یہ نیت نہیں بلکہ عام معالجے جس نیت محمودہ یا مباحہ سے کرتاہے وہی غرض یہاں بھی ہے تو اگرمرض ایذادہندہ ہے جیسے کہ اکثر امراض یونہی ہوتے ہیں جب تو اصلاً حرج نہیں، نہ اسے اعانت معصیت سے علاقہ بلکہ نفع رسانی مسلمہ، یادفع ایذائے انسان کی نیت ہے تو اجر پائے گا۔قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل کبد حرّاء اجر۔ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عمرو بن العاص وکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ (حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ہرجگرِ گرم یعنی ہرجاندار کی نفع رسانی میں ثواب ہے (بخاری ومسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد نے ابن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے)۔ اور اگر مرض سے کوئی ایذا نہیں صرف موانع زنا سے ہے جس کے سبب اس کا معالجہ ایک زانیہ عورت کے لئے کوئی نفع رسانی نہ ہوگا بلکہ زنا کاراستہ صاف کرے گا مثلاً عارضہ رتق یاشدّت وسعت (نہ بوجہ سیلان رطوبت) کہ فی نفسہٖ موذی نہیں مگر اس کا اشتہار باعث سردی ِبازار ِزنان ِزناکار ہے ایسے معالجہ کو جب کہ امورمذکورہ پرطبیب مطلع ہو اگرچہ برقیاس قول صاحبین من وجہ اعانت کہہ سکیں مگرمذہب امام رضی اﷲ عنہ پریہ بھی داخل ممانعت نہیں کہ یہ تو پاک نیت سے صرف اس کاعلاج کرتا ہے گناہ کرنانہ کرنا اس کا اپنا فعل ہے جیسے راج کاگرجایاشوالہ بنانا یامکان رنڈی زانیہ کو کرایہ پردینا‘‘۔ (فتاوی رضویہ،24/178-179،رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12صفر المظفر 1448ھ/28 جولائی 2026ء