مکان و فلیٹ پر زکوۃ ہونے نہ ہونے کا شرعی حکم
    تاریخ: 19 نومبر، 2025
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 171

    سوال

    1:۔جو پلاٹ سیونگ کے لیے خریدے گئے ان پر زکاۃ ہے کہ نہیں ؟

    2:۔جس پلاٹ پر مرمت ہو رہی ہے مگر پوری نہیں ہوئی اسپر زکاۃ واجب ہے کہ نہیں؟

    3:۔جس پراپرٹی کاقبضہ نہیں ملا لیکن اس کی قسط چل رہی ہے اس پر زکاۃ ہےنہیں ؟

    4:۔جو گھر میرے نام ہے مگر اس میں نند رہ رہی ہے بغیرکرایہ دیے تو اس مکان پر زکاۃ ہے کہ نہیں ؟

    5:۔جو گولڈ زیور کی صورت میں بنے ہوئے ہیں،کبھی استعمال ہوتے ہیں کبھی نہیں ان پر زکاۃ ہے کہ نہیں ؟

    سائلہ: افیشن

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔مذکورہ پلاٹ پر زکاۃنہیں ۔جو پلاٹ خالص تجارت کی نیت سےخریدا جائے صرفاس پر زکاۃہوتی ہے۔ اور جو پلاٹ سیونگ کی نیت سے خریدا کہ جب کبھیضرورت پڑی یااچھی قیمت کی پیشکش ہوئی تو بیچ دیاجائے گا اس پر زکاۃ نہیں ۔ در مختار میں ہے:او اشتری شیئا للقنیۃ ناویا انہ ان وجد ربحا باعہ لا زکاۃعلیہ ۔ترجمہ:اگر کسی نے خاص اپنےلیے کوئی چیز خرید ی یہ نیت کرتے ہوئے کہ اگر نفع ملا تو بیچ دوں گا تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں۔(تنویرالابصارمع الدر،جلد:03،صفحہ195،مطبوعہ امدادیہ ملتان)

    2:۔اگر یہ پلاٹ تجارتکی نیت سے خریدا گیا تو اس پر زکاۃ ہےاور جب آپ کے نصاب کا سال مکمل ہو گا تو اس وقت قیمت بازار(market value ) جو پلاٹکی ہو گی زکاۃ اس حساب سے ہو گی خواہ وہپلاٹ اس وقت تعمیراتی مراحل میں ہو یا تعمیر ہو چکا ہو ۔ امام شمس الائمہ سرخسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’ان اشتری داراللتجارۃ فحال علیھا الحول زکاھامن قیمتھا‘‘ ترجمہ:اگرکسی نےتجارت کےلئےمکان خریدا،تو سال مکمل ہونےپر وہ شخص اُس کی قیمت کےاعتبارسےاُس کی زکوٰۃ دےگا۔(المبسوط للسرخسی،ج2،ص207،دارالمعرفۃ،بیروت)

    3:۔اگر تو قبضہ نہ ملنے سے مراد یہاں پر یہ ہے کہ بائع(فروخت کنندہ) کی جانب سے تک فائل نہیں دی گئی اور نہ ہی بیچنے کا اختیار دیا گیا ہے تو ایسی صورت میں اس پر زکاۃ نہیں ہو گی ،ورنہ (فائل اور بیچنے کا اختیار دے دیا گیاتو) زکاۃ ہو گی۔در مختار میں ہے: ولا فیما اشترہ لتجارۃ قبل قبضہ۔ترجمہ: اور نہ ہی قبضہ سے پہلے اس مال پر زکاۃہے جو تجارت کی غرض سے خریدا گیا ۔(تنویرالابصارمع الدر،جلد:03،صفحہ181،مطبوعہ امدادیہ ملتان)

    4:۔اس پر زکاۃ نہیں کہ عموما اس طرح کا مکان تجارت کی غرض سے نہیں ہوتا ۔

    5:۔ گولڈ یا زیور کسی بھی حالت میں ہو ، اس کا استعمال ہو یا نہ ہو بہر صورت اس پر زکاۃ ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ بقدر نصاب ہو یا کسی اور نصاب(روپے،چاندی،مال تجارت )کے ساتھ مل کر نصاب کوپہنچتا ہو۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 صفر المظفر ا1444 ھ/6 ستمبر 2022 ء