میں تمہیں طلاق ثلاثہ دیتا ہوں

    Main Tumhein Talaq-e-Salasa Deta Hoon

    تاریخ: 27 جولائی، 2026
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 1662

    سوال

    میں محمد علی ولد محمد مجید اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر کرکے یہ بات کہہ رہا ہوں۔دو دن پہلے میرا میری بیگم کے ساتھ چھوٹی سی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ اس پر میری بیگم مجھ سے ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی۔ پھر اس کے بعد میری بیگم دو دن بعد جب گھر آئی بچے کے کپڑے لینے تو میرے والد صاحب کے گھر کو تالا لگا لیا تھا، جس پر میری بیگم اور میرے گھر والوں کی بحث ہو گئی، اور پھر میری بیگم اپنے میکے چلی گئی۔ جب میں کام سے اپنے گھر آیا تو مجھے بہت سی باتیں سنائی گئیں۔

    میرے گھر والوں نے مجھے کہا اپنی بیوی کو طلاق دو۔ میں نے اپنے والد سے ٹائم مانگا تو میرے گھر والے اور والد صاحب نے مجھے پریشان کر دیا، تو پھر میں طلاق نامہ لے کر آیا۔ اس پر صرف ایک دفعہ دستخط کیا تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے۔ پھر جب میرے گھر والوں اور والد صاحب کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ خود دوسرا طلاق نامہ لے کر آئے اور مجھ سے زبردستی اور اصرار کرکے مجھ سے دستخط کروائے۔ دستخط کرنے سے پہلے میں نے اپنے والد سے پھر ٹائم مانگا، پر وہ صرف مجھے ذہنی ٹارچر کرتے رہے۔ پر میں نے کوئی بھی طلاق نامہ اپنی بیگم کے پاس نہیں بھیجا، اور نہ منہ سے طلاق دی، اور نہ میں نے خوشی سے یا راضی ہو کر طلاق دی۔ جو کچھ کیا، میرے گھر والوں نے کیا، اور میں یہ بات قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بھی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میں خود راضی و خوشی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی۔ میرے ساتھ جو ہوا، سب زبردستی ہوا۔

    جناب، میرا ایک بیٹا ہے جو دو سال کا ہے۔ میں اس کی زندگی خراب نہیں کر سکتا۔ میں اپنی بیوی اور بچے کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی، میں بہت پریشان ہوں، میرے ساتھ اور میری بیوی بچے کے ساتھ بہت ظلم کیا گیا۔ مجھے فتویٰ نکال کر دیں، جلد از جلد۔ میں بہت پریشان ہوں۔

    سائل :محمد علی :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب آپ نے طلاق نامہ تحریر کروایا، جس میں واضح طور پر یہ الفاظ درج تھے کہ: "لہذا مسمی محمد علی، اپنی بیوی مسمات شرین کو طلاقِ ثلاثہ دیتا ہے"، تو اس سے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہے، اسی طرح تحریری طلاق بھی شرعاً مؤثر اور نافذ ہوتی ہے، کیونکہ تحریر شرعاً "خطاب" کے درجے میں ہوتی ہے۔ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے کی وجہ سے آپ گناہگار ہوئے ہیں، اور اب مذکورہ عورت (بیوی) آپ کے لیے اجنبی ہو چکی ہے۔ تحلیلِ شرعی کے بغیر اب وہ آپ کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔

    آپ کا یہ کہنا کہ "دستخط اس لیے کیے تھے تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے"، شرعاً قابلِ قبول نہیں؛ کیونکہ یہ طلاقِ مسبینہ غیرِ مرسومہ ہے، جس میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ اس طلاق نامے کے بعد والد کادوبارہ طلاق نامہ لانا اور اس پر دستخط کروانا لغو (بے معنی) ہے، کیونکہ جب پہلے طلاق نامے پر دستخط کیے گئے تھے، اسی وقت بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی تھیں اس کے بعد مذکورہ عورت (بیوی ) طلاق کا محل ہی نہیں ۔

    نیز آپ کا یہ کہنا کہ کہ مجھ سے زبر دستی اور اصرار کرکے دستخط کرائے گئے یہ اکراہ شرعی نہیں ہے عرفی ہے جس سے بالاتفاق طلاق ہوجاتی ہے ۔

    دلائل وجزئیات:

    تین طلاقوں کے بعد عورت مرد پہ حرام ہو جاتی ہے اس بارے اللہ عزّ و جل ّ کا فرمان مقدس ہے ’’فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه " ترجمہ: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تواب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ (البقرہ:۲۳۰)

    جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، یونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے اس بارے ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد9ص 675)۔

    رد المحتار میں کتابت طلاق کے متعلق ہے "الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ۔۔وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو‘‘. ترجمہ : تحریر دو اقسام کی ہوتی ہے: مرسومہ اور غیر مرسومہ ،مرسومہ سے مراد وہ تحریر ہے جس کا عنوان اور تمہید ہو ، جیسے کہ کسی کو خط لکھا جائے ۔ جبکہ غیر مرسومہ سے مراد وہ تحریر ہے جس کا عنوان اور تمہید نہ ہو ، اور اگر تحریرمستبینہ ہے لیکن مرسومہ نہیں اگر طلاق کی نیت کرے گا تو ہو جائے گی اگر نہیں کرے گا تو نہیں ہوگی ، اگر مر سومہ ہے نیت کرے یا نہ کرے طلاق ہو جائے گی ۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الطلاق،ج:۴،ص:۴۵۶،مکتبہ امدادیہ )

    تین طلاقوں سے عورت مرد پہ حرام ہو جاتی ہے اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے :’’ وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية‘‘. ترجمہ :اگر تین طلاقیں آزاد عورت کو اور دو طلاقیں لونڈی کو ہوئیں تو عورت مرد کے لیے حلال نہیں جبکہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے اور دخول ہو پھر دوسرا مرد طلاق دے یا انتقال کر جائے اس طرح ہدایہ میں ہے ۔(الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة،جلد:1،صفحة:473،دار الفکر بیروت)

    ایک دفعہ تین اکٹھی طلاقیں دینے ساتھ گناہ گا رہوتا ہے ’’(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا‘‘. ترجمہ: بدعی طلاق دو قسم کی ہوتی ہے: ایک وہ جو عدد کی وجہ سے بدعی ہو، اور دوسری وہ جو وقت کی وجہ سے بدعی ہو۔ جو عدد کی وجہ سے بدعی ہو، وہ یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے، چاہے وہ ایک ہی کلمہ میں ہوں یا مختلف کلمات میں، یا دو طلاقیں ایک ہی طہر میں دے، چاہے وہ ایک کلمہ میں ہوں یا دو مختلف کلمات میں۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ گناہ گار ہو گا۔(فتاوی ہندیہ ،کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، جلد:1، صفحۃ:349، مکتبہ رشيدية)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17 محر الحرام 1448 ھ/03 جولائی 2026ء