بیوی مہر معاف کرنے کے بعد مہر کا مطالبہ کرے

    biwi Mehr Maaf Karne Ke Baad Mehr Ka Mutalba Kare

    تاریخ: 14 اپریل، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 1128

    سوال

    شوہر کے انتقال کے بعدبیوی یہ کہے کہ میں نے حق مہر معاف کیا ایسی صورت میں حق مہر لے سکتی ہے؟

    سائل: سلیم احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مہر عورت کا حق ہے، عورت اپنی خوش دلی سے اپنا پورا مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو معاف ہو جاتا ہے، لہذا اگر بیوی نے بغیر کسی جبر واکراہ کے مہر معاف کردیا تو اب دوبارہ اس عورتکو اس رقم کے مطالبہ کا حق نہیں ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةًؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِؕ-" ترجمہ کنزالایمان: ”تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر انہیں دو اور قرار داد (طے شدہ)کے بعد اگر تمہارے آپس میں کچھ رضامندی ہوجائے تو اُس میں گناہ نہیں ۔“ (النساء،آیت نمبر 24)

    مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں صدر الافاضل مولاناسید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:” خواہ عورت مہر مقرّر شدہ سے کم کردے یا بالکل بخش دے یا مرد مقدار مہر کی اور زیادہ کردے ۔“ (تفسیر خزائن العرفان، ص 161، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    تنویر الابصار مع درمختارمیں ہے: ”(وصح حطھا) لکلہ او بعضہ(عنہ) قبل او لا“ یعنی عورت کا اپنا سارا مہر یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دینا درست ہے،شوہر قبول کرے یا نہ کرے۔

    مذکورہ بالا عبارت کے تحت ردالمحتار میں ہے: ” (وصح حطھا) ۔۔۔۔۔ ولا بد من رضاها۔ ففي هبة الخلاصة خوفها بضرب حتى وهبت مهرها لم يصح لو قادرا على الضرب۔۔۔۔( لکلہ او بعضہ) قیدہ فی البدائع بما اذا کان المھر دینا ای دراھم اودنانیر لان الحط فی الاعیان لایصح۔ بحر “ یعنی حق مہر معاف ہونے میں عورت کا راضی ہونا ضروری ہے، خلاصہ میں ہے کہ شوہر نے عورت کو مار پیٹ کرنے کی دھمکی کے ذریعے خوف دلایا اور عورت نے مہر معاف کر دیا تو مہر معاف نہ ہوا جبکہ شوہر مار پیٹ کرنے پر قادر ہو ۔ ۔۔۔۔ کل یا بعض مہر ، اس مسئلے کو بدائع میں درہم و دینار سے مقید کیا ہے کیونکہ عین چیز میں معافی درست نہیں، بحر۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، ج3، ص113 مطبوعہ بیروت، ملتقطاً)

    فتاوی رضویہ میں ہے:” ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیا، اس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو رد نہ کیا ہو۔“ (مترجم از فارسی،فتاوی رضویہ، ج 19، ص 233، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    اور رد کرنے کا اختیار بھی ہے اسی مجلس تک ہے،اس کے بعد رد کرنے سے رد نہیں ہوگا ۔در مختار میں ہے:في الصيرفية لو لم يقبل، ولم يرد حتى افترقا،ثم بعد أيام رد لا يرتد في الصحيح۔ ترجمہ: صیرفیہ میں ہے اگر قبول کیااورنہ ہی رد، یہاں تک کہ مجلس ختم ہوگئی،پھر کچھ دن بعد رد کیا ،تو رد نہیں ہوگا۔ (در مختار مع شامی،ج05،ص728،دار الفکر)

    اگر بیوی نے اپنا مہر معاف کیا، تو ایسی صورت میں دوبارہ بیوی کو حق مہر کے مطالبہ کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

    بہار شریعت میں ہے:” مدیون کو دین ہبہ کردینا ایک وجہ سے تملیک ہے اور ایک وجہ سے اسقاط، لہٰذا رد کرنے سے رد ہوجائے گااور چونکہ اسقاط بھی ہے لہٰذا قبول پر موقوف نہ ہوگا۔۔۔ دائن نے مدیون کو دین ہبہ کردیا اور اُس وقت نہ اُس نے قبول کیانہ رد کیا دو تین دن کے بعد آکر اُسے رد کرتا ہے صحیح یہ ہے کہ اب رد نہیں کرسکتا۔“مزید لکھتے ہیں:” دائن کو خبرملی کہ مدیون مرگیا اس نے کہامیں نے اپنا دَین معاف کردیا ہبہ کردیا بعد میں پھر پتاچلا کہ وہ زندہ ہے اُس سے دین کا مطالبہ نہیں کرسکتا کہ معافی بلا شرط تھی۔(بہار شریعت،ج03،ص99-100،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد عثمان طاہری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20شوال المکرم 1447 ھ/09 اپریل 2026 ء