Jis mein nikah ki istitaat na ho woh kya kare
سوال
بندہ شادی نہیں کر سکتا اس کے پاس اتنی اخراجات میسر نہیں اور پھر اس کے لیے کیا حکم ہے اس دور میں نوجوان کیا کر سکتے ہیں یہ دور بہت سخت دور ہے برداشت کرنا ممکن ہے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعتِ مطہرہ نے ایسے نوجوانوں کے لیے جو شادی کی استطاعت نہیں رکھتے نہایت حکیمانہ اور عملی رہنمائی فرمائی ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ کا واضح ارشاد ہے کہ اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نظر کو نیچا رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ کثرت سے روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑنے کا ذریعہ ہے، اس دورِ فتن میں جب ہر طرف بے حیائی کے اسباب موجود ہیں نوجوانوں کے لیے سب سے پہلا قدم اپنی نظروں کی حفاظت کرنا ہے کیونکہ بدنظری ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے، اس کے ساتھ ساتھ اپنی تنہائیوں کو پاکیزہ بنانا، فحش تصاویر، ویڈیوز اور غلط دوستوں کی صحبت سے مکمل پرہیز کرنا لازم ہے، وقت کو تعمیری کاموں، ورزش اور دینی کتب کے مطالعے میں صرف کرنا چاہیے تاکہ ذہن منتشر نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ نکاح کی طاقت نہیں رکھتے وہ پاکدامنی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے، لہٰذا ہمت ہارنے کے بجائے اللہ پر توکل کریں، کثرت سے استغفار کریں اور فضول اخراجات و رسومات سے پاک سادہ نکاح کی کوشش کریں کیونکہ نکاح میں برکت ہے اور اللہ تعالیٰ نکاح کرنے والے کی مدد فرماتا ہے، اس سخت دور میں صبر اور تقویٰ ہی وہ ڈھال ہے جو انسان کو گناہ کی دلدل سے بچا سکتی ہے، اللہ پاک آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور عفت و پاکدامنی نصیب کرے۔