میں تمہیں طلاق دے دونگا
    تاریخ: 29 جنوری، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 689

    سوال

    شوہر کا بیان

    میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تو میں نے غصہ میں کہا کہ میں تمہیں طلاق دے دونگا اسکے بعد ہم گھر سے چلا گیا اور تقریباً ڈیڑھ ماہ سے دوست کے گھر رہ رہا ہوں کیا ان الفاظ سے طلاق ہوجاتی ہے یانہیں نیز یہ کہ ہم اب اپنا گھر بسانا چاہتے ہیں اسکا کیا طریقہ ہے۔

    بیوی کا بیان بھی شوہر کے بیان کے مطابق ہے۔

    سائل:محمد عمیر : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا اور شوہر نے بعینہ یہی الفاظ کہے تھے تو حکمِ شرع یہ ہے کہ تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ یہ الفاظ مستقبل میں وعدہ طلاق پر دلالت کرتے ہیں ،اور وعدہ طلاق ،طلاق نہیں ہوتی ۔فتح القدیر باب ایقاع الطلاق جلد 4ص7میں ہے:وَلَا یَقَع بِأُطَلِّقُک إلَّا إذَا غَلَبَ فِی الْحَالِ۔ترجمہ : اور میں تجھے طلاق دے دونگا سے طلاق واقع نہیں ہوگی لیکن جبکہ حال میں اسکا استعمال غالب ہو تواس سے طلاق ہو جائے گی۔

    سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ،جلد 13 ص 159)

    لہذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی مثل رہ سکتے ہیں، اگر پہلے کبھی طلاق نہیں دی تو شوہر کو تین طلاقوں کا حق باقی ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 رجب المرجب 1445ھ/ 16 جنوری 2024 ء