main talaq di main talaq nahin di
سوال
میں مرزا نوید بیگ ولد وصی الدین میں نے اپنی اہلیہ امبر نوید ولد عبد المالک کو گھریلوں ناچاقی کی وجہ سے طلاق دی میرے الفاظ یہ تھے ’’ میں نے تجھے طلاق دی ،طلاق نہیں دی ،طلاق نہیں دی ‘‘اب اس پر مجھے جواب چاہیے کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں براہ کرم مجھے راستہ دکھائیں میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔
نوٹ : سائل نے حلف اٹھایا کہ میں نے اسی طرح الفاظ بولے بیوی بھی کہتی ہے شوہر نے یہی الفاظ بولے تھے ۔بیوی کی عدت بھی گزر چکی ہے ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جب آپ نے یہ الفاظ کہے: ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘ تو اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی، اور اسی لمحے سے عدت کا آغاز بھی ہو گیا۔ چونکہ طلاقِ رجعی میں شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے، اس لیے آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ عدت کے اندر رجوع کر لیتے۔لیکن جب آپ نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا اور عدت پوری ہو گئی، تو یہ طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن میں تبدیل ہو گئی، جس کے نتیجے میں نکاح ختم ہو گیا۔اب اس کے بعد صورت یہ ہے کہ عورت چاہے تو کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے، اور اگر آپ دوبارہ گھر بسانا چاہیں تو شرعی طور پر بغیر تحلیل شرعی کے، گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کودو طلاقوں کا حق رہے گا ۔
اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ ترجمہ کنزالایمان : یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔(البقرہ:229)
رجعی عدت گزرنے کے بعد بائن ہو جاتی ہے اس بارے علامہ ابن عابدین شامی (المتوفی :1252ھ) فرماتے ہیں ’’ والرجعی لا یزیل الملك الا بعد مضی العدۃ‘‘ ترجمہ : رجعی طلاق ملکیت کو زائل نہیں کرتی مگر عدت گزرنے کے بعد ملکیت کو ختم کر دیتی ہے ۔( رد المحتار ، کتاب الطلاق ،باب الرجعۃ ،ج:3،ص:441،دار الفکر بیروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 ذی القعدہ 1447ھ/01مئی 2026