سونا چاندی پر قبضہ کئےبغیر فروخت کرنا
    تاریخ: 10 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1004

    سوال

    ہمارے ہاں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ سنا ر فون کرتا ہے کہ بھائی فلاں کیرٹ کا اتنا سونا یا چاندی رکھی ہوئی ہے تو ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے میرا اتنا تولہ روک لو یا اتنی چاندی روک لو پھر کچھ دنوں بعد جب قیمت اوپر جاتی ہے تو ہم دکان دار کو کہتے ہیں کہ اسے آگے فروخت کر دو تو ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟اور کیا دوبارہ اسی دکان دار کو بھی فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

    سائل:غلام مصطفی دھوراجی کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یاد رہے کہ سونا اور چاندی کی خرید و فروخت جب روپوں سے ہو تو اس میں ایک طرف قبضہ ضروری ہے لہذا اگرآپ نے مبیع پر قبضہ کر لیا یا پھر مبیع پر قبضہ نہیں ہوا لیکن سنار نے ثمن پر قبضہ کر لیا تو بیع صحیح ہوجائے گیاور اگر محض فون پر زبانی کلامی خریدو فروخت ہوئی اور کسی ایک جانب سے بھی قبضہ نہیں ہوا یعنی آ پ یا آپ کے وکیل نے چاندی پر قبضہ نہیں کیا نہ ہی سنار نے ثمن پر حقیقی یا حکمی (اکاونٹ میں رقم منتقلی) طور پر قبضہ کیا تو اس صورت میں بیع باطل ہے ۔لہذا صحتِ بیع کے لیےضروری ہے کہ کسی ایک جانب قبضہ ہو جائے۔ کسی ایک جانب قبضہ ہو جانے کے بعد بیع صحیح ہو جائے گی لیکن یہ سونا چاندی مزید آگے بیچنے کے لیے آپ یا آپ کے وکیل کا اس پر قبضہ ہونا ضروری ہے بعد ازاں ہی آگے فروخت کر سکتے ہیں قبل از قبضہ نہیں ۔

    اگرقبضہ کرنے کےبعد یہ سونا چاندی دوبارہ اسی سنار کو بیچنا چاہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں :

    1:۔ اگر ثمن ِاول کے برابر یا اس سے زیادہ قیمت میں بیچنا چاہیں تو یہ جائز ہے اور بلا مشروط جائز ہے۔

    2:۔اور اگر ثمن اول سے کم قیمت میں بیچنا چاہیں مثلا 5 لاکھ کی چیز لی تھی اور 5 لاکھ سے کم میں فروخت کررہے ہیں تو یہ فروخت کرنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہو گا :

    1:۔ سنار نے پہلی بیع کے کُل ثمن پر مکمل قبضہ کر لیا ہو مثلاً کل ثمن 5لاکھ تھا تو اس نے پورے 5 لاکھ پر قبضہ کر لیا ہو ۔

    2:۔ پہلےعقد میں یہ شرط نہ لگائی ہو کہ سنار کو ہر صورت میں وہ سونا یا چاندی دوبارہ آپ سے خریدنا ہو گا۔

    دلائل و جزئیات :

    بلا قبضہ سونا چاندی کی روپوں کی عوض میں بیع میں بیع الکالی بالکالی لازم آتی ہے وہ یوں کہ نہ مطلق سونا چاندی متعین کرنے سے متعین ہوتے ہیں نہ ہی کرنسی نوٹ متعین کرنے سے متعین ہوتا ہے تو اگر مجلسِ عقد میں کسی ایک جانب سے بھی قبضہ نہ ہوا تو عدمِ تعین کی وجہ سے دونوں دین (یعنی ذمہ پر لازم)ہوں گے اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام نےدین کی دین کے عوض بیع سے منع فرما یا ہے ۔

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ” أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع الکالئ بالکالئ“ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےدَین کی دَین کےبدلے بیع سے منع کیا ہے ۔

    (سنن دارقطنی،کتاب البیوع، جلد4، صفحہ40، مؤسسۃ الرسالہ ، بیروت)

    شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:”وإذا اشتری الرجل فلوسا بدراھم ونقد الثمن، ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز، لأن الفلوس الرائجۃ ثمن کالنقود.....وبیع الفلوس بالدراھم لیس بصرف، وکذلک لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراھم، ...... فالفلوس الرائجۃ بمنزلۃ الأثمان، لاصطلاح الناس علی کونھا ثمنا للأشیاء فإنما یتعلق العقد بالقدر المسمی منھا فی الذمۃ، ویکون ثمنا، عین أو لم یعین کما فی الدراھم والدنانیر، وإن لم یتقابضا حتی افترقا بطل العقد، لأنہ دین بدین، والدین بالدین لا یکون عقدا بعد الافتراق...... ترجمہ: اگر کسی نے دراہم کے بدلے میں سکے خریدے اور ثمن ادا کر دیا جبکہ فروخت کنندہ کے پاس سکے موجود نہیں تو یہ بیع جائز ہےکیونکہ رائج الوقت سکے سونے چاندی کی طرح ثمن ہوتے ہیں اور سکوں کی دراہم کے بدلے میں بیع صرف نہیں ہوتی ۔اور اسی طرح اگر عاقدین یوں جدا ہوئے کہ سکوں پر قبضہ ہوگیا تھا، لیکن دراہم پر نہیں ہوا تھا، تب بھی بیع درست ہے کیونکہ مروجہ فلوس اثمان کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کی اصطلاح میں یہ اشیاء کا ثمن ہوتے ہیں، لہٰذا ان کی بیان کردہ مقدار پر جو عقد وارد ہوا ،اس کا تعلق ذمہ سے ہوگا اور یہ معین کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں دونوں صورتوں میں ہی ثمن ہوتے ہیں ،دراہم و دنانیر کی طرح۔ اور اس مسئلے میں اگر دونوں طرف سے قبضہ نہ ہوا، یوں ہی جدا ہوگئے، تو یہ عقد باطل ہو جائے گا ،کیونکہ یہ دَین کی دَین کے عوض (بیع )ہے اوردَین کے بدلے میں دَین (کی بیع )جدائی کے بعد عقد نہیں رہتی ۔(مبسوط للسرخسی، جلد14،صفحه 24-25، دار المعرفہ، بیروت)

    شرح بنایہ میں ہے:( و من اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة، فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني) و اعلم أن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن لا يجوز عندنا. (و قال الشافعي: يجوز) ش: و بعد نقد الثمن يجوز عندنا أيضا و بالمثل أو الأكثر يجوز بالإجماع سواء كان قبل نقد الثمن أو بعده۔ترجمہ: اورجس نے کسی کنیز کو ہزار درہم کے بدلے نقد یا ادھار خریدا اور اس پر قبضہ کرلیا پھر اس کو بائع کے ہاتھ ثمن کی ادائیگی سے قبل ہی پانچ سو درہم میں بیچ دیا تو دوسری بیع جائز نہیں اور جان لو کہ جس چیز کو بیچ دیا ہو اس کو بیچی ہوئی قیمت سے کم میں ثمن کی ادائیگی سے قبل خریدنا ہمارے نزدیک جائز نہیں اور امام شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ جائز ہے اور ثمن کی ادائیگی کے بعد تو ہمارے نزدیک بھی جائز ہے اور اسی طرح پہلی قیمت کے برابر یا اس سے زائد میں خریدنا بالاجماع جائز ہے چاہے ثمن اول ادا كرنے سے پہلے ہو یا اس کے بعد۔ (الھدایۃ مع البنایۃ، ج 08،ص 172، دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

    ثمن اول پر قبضہ کرنے سے پہلے بائع کو مشتری سے مبیع کم قیمت میں خریدنا یہ ایک طرح سے سود ہی ہے کیوں کہ اس میں بلا عوض نفع کا حصول ہو رہا ہے ۔

    بدائع الصنائع میں ہے:إذا باع رجل شيئا نقدا أو نسيئة، و قبضه المشتري و لم ينقد ثمنه - أنه لا يجوز لبائعه أن يشتريه من مشتريه بأقل من ثمنه الذي باعه منه عندنا ۔۔لأن في هذا البيع شبهة الربا؛ لأن الثمن الثاني يصير قصاصا بالثمن الأول، فبقي من الثمن الأول زيادة لا يقابلها عوض في عقد المعاوضة، و هو تفسير الربا، إلا أن الزيادة ثبتت بمجموع العقدين فكان الثابت بأحدهما شبهة الربا، و الشبهة في هذا الباب ملحقة بالحقيقةترجمہ: جب کسی شخص نے کوئی چیز نقد یا ادھار بیچی اور مشتری نے اس پر قبضہ کرلیا اور ابھی ثمن ادا نہیں کیا تو اس کے بائع کیلئے ہمارے نزدیک جائز نہیں کہ وہ اس شے کو اسی مشتری سے اس قیمت سے کم میں خریدے جس میں اس کو بیچا تھا، کیونکہ اس بیع میں سود کا شبہ ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ دوسرا ثمن پہلے ثمن کے بدلے ہوجائے گا اور پہلے ثمن میں سے کچھ زیادتی باقی رہ جائے گی جس کے مقابل عقد معاوضہ میں کوئی عوض نہ ہوگا اور یہی سود کی تفسیر ہے مگر یہ کہ یہ زیادتی دو عقدوں کے مجموعہ سے ثابت ہورہی ہے تو ان میں سے کسی ایک میں سود کا شبہ ثابت ہوجائے گا اور اس باب میں شبہ حقیقت کے ساتھ ملحق ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 05، ص 198، دار الكتب العلمية)

    درمختار و رد المحتار میں ہے:(و فسد شراء ما باع بنفسه أو بوكيله من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه بالأقل من قدر الثمن الأول قبل نقد كل الثمن الأول. صورته: باع شيئا بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا) ترجمہ: اور جو چیز بندے نے خود یا اس کے وکیل نے بیچی ہو، تو ثمنِ اول مکمل ادا کرنے سے پہلے،ثمن اول سے کم قیمت میں خریدنا بیع فاسد ہے اگرچہ وہ خریدار حکمی طور پر ہو، جیسا کہ خریدار ہی کے وارث سے خریدنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے دس روپے کی کوئی چیز بیچی اور ثمن پر ابھی قبضہ نہیں کیا، پھر اُسی شخص سے پانچ روپے کی خرید لی، تو ایسا کرنا، سود کی وجہ سے جائز نہیں ہے، اگرچہ بازاری قیمت کم ہوگئی ہو۔

    علامہ شامی علیہ الرحمہ فساد کی تعلیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : علة لقوله لم يجز: أي لأن الثمن لم يدخل في ضمان البائع قبل قبضه، فإذا عاد إليه عين ماله بالصفة التي خرج عن ملكه وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقي له عليه فضلا بلا عوض فكان ذلك ربح ما لم يضمن وهو حرام بالنص زيلعي۔ترجمہ :للربا شارح کے قول لم یجز کی علت ہے یعنی اس لئے کہ بائع کے قبضے سے پہلے ثمن اس کے ضمان میں نہیں آیا، تو جب اس کا عینِ مال اسی صفت کے ساتھ، جس کے ساتھ اس کی ملک سے نکلا تھا، اُس کے پاس لوٹ آیا اور بعض ثمن بعض کا بدلہ ہو گئے، تو مشتری پر اس کے لیے بلا عوض زیادتی باقی رہ جائے گی، تو یہ زیادتی اُس چیز کا نفع ہے، جو اِس شخص کے ضمان میں داخل ہی نہیں ہے اور یہ نص کی وجہ سے حرام ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 05، ص 73، دار الفكر- بيروت)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:3شعبان المعظم 1447ھ/29جنوری2026ھ