سوال
اگر چند سالوں کا عشر نہ دیا ہو اس کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہو گا نیز عشر دیں گے یا نصف عشر اسے بھی بیان کر دیں ؟بینوا وتوجروا
سائل:محترم سید عطاء اللہ بخاری (عمر کورٹ سندھ )
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اولاً: تو بلا عذر اتنی تاخیر کرنا جائز نہیں سو آپ پر لازم ہے کہ اس پر اللہ کے حضور معافی مانگیں اور فی الفور سابقہ سالوں کا عشر ادا کریں کہ عشر زمین کی پیداوار کی زکوۃ ہے ! اور زکوۃ میں بلاوجہ شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے : "وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر۔ترجمہ: نصاب پر سال مکمل ہونےکے وقت فی الفور زکوۃ ادا کرنا واجب ہوتا ہے یہاں تک کہ عذرِ شرعی کے بغیر تاخیر کی وجہ سے گنہگار ہو گا ۔ (الفتاوي الهندية، كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاة،جلد01 صفحہ170، دار الفكر)
ثانیاً:اگر زمین بارانی پانی سے سیراب ہوئی تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہو گا اور اگر نہری پانی یا ٹیوب ویل/ٹربائن کے ذریعے سیراب کی جاتی رہی تو اس صورت میں نصف عشر (بیسواں حصہ )دینا ہو گا ۔
بدائع الصنائع میں ہے:فما سقي بماء السماء، أو سقي سيحا ففيه عشر كامل، و ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر، و الأصل فيه ما روي عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أنه قال «ما سقته السماء ففيه العشر و ما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر»ترجمہ: پس جس کھیتی کو آسمان کے پانی سے سیراب کیا گیا ہو، یا بہتے ہوئے پانی سے سیراب کیا گیا ہو، اس میں پورا عشر (دسواں حصہ) ہے۔اور جس کھیتی کو ڈول کے ذریعے، یا چرخی کے ذریعے، یا پانی کھینچنے کے کسی آلے کے ذریعے سیراب کیا گیا ہو، اس میں نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔اور اس کی اصل دلیل وہ حدیث ہے جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"جس کو آسمان کے پانی نے سیراب کیا ہو اس میں عشر ہے، اور جس کو ڈول، یا چرخی، یا پانی کھینچنے کے آلے سے سیراب کیا گیا ہو اس میں نصف عشر ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 62،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سابقہ سالوں کے عشر کی ادائیگی:
اگر فصل کا عشر قیمت سے ہو تو پھر جس دن فصل کٹی اس دن کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے ، ادائیگی کے وقت کا اعتبار نہیں ہو گا جیسا کہ در پیش مسئلہ میں کئی سالوں کی ادائیگی اب کی جا رہی ہے تو اس میں اُسی وقت کی قیمت کا اعتبار ہو گا لہذا کسان کو چاہیے کہ ہر فصل کی کٹائی کے موسم ،وقت کا اندازہ لگائے اور پھر اس حساب سے عشر یا نصف (شق نمبر دو کے مطابق ) کی قیمت دے۔عشر زمین کی پیدوار کی زکوۃ ہے تو جس طرح دیگر اموال زکوۃ میں جب قیمت سے زکوۃ دی جائے تو حولانِ حول کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے اسی طرح اس میں بھی ہو گا ۔
بدائع الصنائع میں ہے:وأما صفة الواجب فالواجب جزء من الخارج؛ لأنه عشر الخارج، أو نصف عشره وذلك جزؤه إلا أنه واجب من حيث إنه مال لا من حيث إنه جزء عندنا حتى يجوز أداء قيمته عندنا.ترجمہ: اور رہا واجب کی صفت کا بیان، تو واجب خارج (پیداوار) کا ایک حصہ ہے؛ کیونکہ وہ خارج کا دسواں حصہ ہوتا ہے، یا اس کے دس حصے کا نصف، اور یہی اس کا جز ہے۔البتہ ہمارے نزدیک وہ اس حیثیت سے واجب ہے کہ وہ مال ہے، نہ اس حیثیت سے کہ وہ جزء ہے، اسی بنا پر ہمارے نزدیک اس کی قیمت ادا کرنا جائز ہے۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 63)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :” فان أدى من عينها أدى خمسة أقفزة وان أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب “ ترجمہ: پس اگر اس شخص نے اُن ( گندم کے قفیز ) کے ذریعے ہی زکوٰۃ نکالنی ہے ، تو پانچ قفیز ادا کرے گا اور اگر قیمت کے ذریعے نکالے ، تو جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی تھی ( یعنی سال مکمل ہوا تھا ، ) اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ ( الفتاویٰ الھندیہ ، کتاب الزکوٰۃ ، الفصل فی العروض ، جلد 1 ، صفحہ 179 ، مطبوعہ بیروت )
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں :” سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی زکوٰۃ میں دی جائے ، جب تو نرخ کی کوئی حاجت ہی نہیں، وزن کا چالیسواں حصہ دیا جائے گا، ہاں اگر سونے کے بدلے چاندی یا چاندی کے بدلے سونا دینا چاہیں ، تو نرخ کی ضرورت ہوگی، نرخ نہ بنوانے کے وقت کا معتبر ہو نہ وقتِ ادا کا،اگر ادا سال تمام کے پہلے یا بعد ہو جس وقت یہ مالکِ نصاب ہُوا تھا ، وہ ماہ عربی و تاریخ وقت جب عود کریں گے ، اس پر زکوٰۃ کا سال تمام ہوگا ، اس وقت کا نرخ لیا جائے گا۔ “( فتاویٰ رضویہ ، جلد 10 ، صفحہ 133 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )۔ واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 18رجب 1447ھ/08جنوری2026ھ